مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام…

مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا مقصد عادلانہ نظام کا قیام بھی ہے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں ، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ [النساء 65]

’’ پس نہیں ! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں ، پوری طرح تسلیم کرنا۔‘‘

پس جو کوئی اپنے باہمی جھگڑوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ  کے فیصلوں کا التزام نہ کرتا ہو؛ تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم اٹھاکر فرمایا ہے کہ وہ مؤمن نہیں ہوسکتا۔ اور جو کوئی ظاہری اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو؛ لیکن اپنی خواہشات کے بہکاوے میں آ کر نافرمانی کر بیٹھے ؛ تو یہ بھی دوسرے گنہگاروں کی طرح ہے۔

یہ وہ آیت ہے جس سے خوارج نے ان مسلمان حکمرانوں کے کافر ہونے ،پر استدلال کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ اور پھریہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا اعتقاد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اور لوگوں نے اس سلسلہ میں طویل کلام کیا ہے؛ جس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔


صفحہ 3 از 3