شریعت کے فیصلوں کی پابندی واجب ہے
امام ابنِ تیمیہؒشریعت کے فیصلوں کی پابندی واجب ہے
مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ عدل و انصاف کے تقاضا کے مطابق فیصلہ صادر کرنا ہر زمان و مکان میں ہر شخص پر ہر ایک کے لیے واجب ہے ۔ خصوصاً شریعت محمدی کی روشنی میں حکم صادر کرنا ایک خاص قسم کا عدل ہے جو عدل کے جملہ انواع سے اکمل و احسن ہے۔ یہ فیصلہ نبی کے لیے بھی ضروری ہے اور اتباع نبی کے لیے بھی۔ اس کی پابندی نہ کرنے والا یقیناً کافر ہے۔ ایسا فیصلہ امت کے جملہ متنازعہ امور میں ضروری ہے؛ خواہ وہ اعتقادی ہوں یا عملی۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیّٖنٰتُ﴾ [البقرہ 213]
’’لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب اتاری، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جنھیں وہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آ چکیں۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہُ اِِلَی اللّٰہِ﴾ [الشوری 10]
’’ اور وہ چیز جس میں تم نے اختلاف کیا، کوئی بھی چیز ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ﴾ ( النساء:59)
’’اگر کسی بات میں تمہارے یہاں تنازع پیدا ہو جائے تو اسے اللہ و رسول کی طرف لوٹاؤ۔‘‘
امت کے درمیان جملہ امور مشترکہ میں صرف اور صرف کتاب و سنت کا فیصلہ ناطق ہو گا نہ کہ کسی عالم و امیر یا کسی شیخ و سلطان کا فیصلہ ۔اور جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ لوگوں کے مابین کچھ بھی فیصلہ کرسکتا ہے؛ اوروہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کے مطابق فیصلہ نہ کرے؛ تو وہ کافر ہے۔ مسلمان حکمران چند متعین امور میں فیصلے کرتے ہیں ۔ وہ کلی امور میں فیصلے نہیں کرتے۔ اور جب متعین امور میں فیصلے کرتے ہیں تو ان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں ۔ اگر کتاب اللہ میں حکم نہ ملے تو پھر سنت رسولﷺ کے مطابق ؛ اور اگر وہاں بھی کوئی حکم نہ ملے تو پھر حکمران اپنی رائے سے اجتہاد کرے۔
نبی کریمﷺ فرماتے ہیں : ’’قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ، دو قاضی دوزخی اور ایک جنتی ہو گا۔‘‘
¹۔ جو قاضی حق کو معلوم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرے وہ جنت میں جائے گا۔
²۔ جو قاضی حق کو جاننے کے باوجود اس کے برخلاف فیصلہ کرے وہ جہنمی ہو گا
³۔ جو جہالت کی بنا پر لوگوں کا فیصلہ کرے وہ دوزخ میں جائے گا۔[سنن ابی داؤد۔ کتاب الأقضیۃ، باب فی القاضی یخطیٔ(حدیث:3573)، سنن ابن ماجۃ، کتاب الاحکام۔ باب الحاکم یجتھد فیصیب الحق(حدیث:2315)۔]
جب کوئی شخص علم و عدل کی روشنی میں فیصلہ کرے اور اس کا اجتہاد مبنی بر صواب ہو تو اسے دو اجر ملیں گے اور اگر اس کا اجتہاد درست نہ ہو تو وہ ایک اجر کا مستحق ہے[صحیح بخاری، کتاب الاعتصام باب اجر الحاکم اذا اجتھد ....‘‘ (حدیث: 7352)، صحیح مسلم، کتاب الاقضیۃ، باب بیان اجر الحاکم اذا اجتھد (حدیث: 1716)۔] جیساکہ صحیحین میں دو مختلف اسناد سے نبی کریمﷺ سے ثابت ہے۔ یہاں پر مقصود یہ ہے کہ جب عام اہلِ ایمان پر واجب ہے کہ اپنے جھگڑوں میں صرف علم اور عدل پر مبنی بات کریں ۔اور اختلافی مسائل کو حل کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دیں ۔ جب دوسرے لوگوں کے باہمی معاملات میں عدل کو یہ اہمیت حاصل ہے تو صحابہؓ دوسروں کی نسبت عدل و انصاف کیے جانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ اگر کوئی طعنہ زنی کرنے والا حکمرانوں پر طعنہ زنی کرے؛ کسی بادشاہ پر؛ یا حکمران پر؛ یا امیر یا والی پر یا شیخ پر؛ یا اس طرح کے دیگر کسی انسان پر طعنہ زنی کرے؛ اور اسے کافر اور دوسروں کی ولایت یا کسی بھی معاملہ پر سرکشی کرنے والا قرار دے؛ اور کسی دوسرے کو عالم ؛عادل او رہر خطاء اور گناہ سے مبراء گردانے؛اور پھر جو بھی انسان اس پہلے انسان[حاکم یا والی] سے محبت اور دوستی رکھے؛ تو اسے کافر اورظالم اور سبُّ وشتم کا مستحق جانے؛ اور اسے گالی دینا شروع کردے۔تو بلاشک و شبہ ایسے انسان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ عادل و علم پر مبنی بات کریں ۔