حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیآپؓ سيدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے علاتی (باپ شریک) بھائی ہیں۔ آپؓ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے۔ قدیم الاسلام ہیں، بدر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک رہے۔ رسول اللہﷺ نے ہجرت کے بعد آپؓ اور سيدنا معن بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات کرائی تھی اور دونوں ہی یمامہ کی جنگ میں شہید ہو گئے۔ معرکہ یمامہ میں مہاجرین کا پرچم آپؓ کے ہاتھ میں تھا۔ آپؓ پرچم لیے آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے تو پرچم گر گیا، حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پرچم تھام لیا۔ اس معرکہ میں سيدنا زیدؓ نے رجال بن عنفوہ کو قتل کیا، جس کا فتنہ بنو حنیفہ کے لیے مسیلمہ کے فتنہ سے بڑھ کر تھا۔ اس کی موت آپ کے ہاتھوں ہوئی اور آپؓ کو جس نے شہید کیا اس کو ابو مریم حنفی کہتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں حضرت زید رضی اللہ عنہ کو شرف بخشا اور ان کے ہاتھوں مجھے ذلیل نہیں کیا۔
جب حضرت زیدؓ کے قتل کی خبر سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو فرمایا: حضرت زیدؓ دو نیکیوں میں مجھ سے آگے نکل گئے، مجھ سے پہلے اسلام قبول کیا اور مجھ سے پہلے شہید ہو گئے۔
جب متمم بن نویرہ نے اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے قتل پر اشعار کہے، تو سيدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر میں شعر کہنا جانتا تو تمہاری طرح زید کے سلسلہ میں شعر کہتا۔
اس پر متمم نے عرض کیا: اگر میرے بھائی کی موت ایسی ہوتی جیسی موت آپؓ کے بھائی کی ہوئی ہے تو میں کبھی بھی اپنے بھائی پر غمگین نہ ہوتا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس طرح تو نے میری تعزیت ان کلمات کے ذریعہ سے کی ہے کسی نے ایسی تعزیت نہیں کی۔ اس کے باوجود سيدنا عمرؓ کہتے تھے: جب باد صبا چلتی ہے تو حضرت زیدؓ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 340)