فیصلہ کن معرکہ
علی محمد الصلابیجب دونوں افواج میدان معرکہ کی طرف متوجہ ہوئیں تو مسیلمہ نے اپنے پیرو کاروں سے معرکہ سے قبل خطاب کیا، ان سے کہا: آج غیرت و حمیت کا دن ہے اگر آج تم شکست کھا گئے تو تمہاری عورتوں کو قیدی بنا کر ان سے شادی کر لیں گے اور یہ شادی ان کے لیے خوش آئند نہ ہو گی۔ لہٰذا تم اپنے حسب و نسب کی حفاظت کے لیے قتال کرو اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرو۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 328)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لے کر آگے بڑھے، ایک ٹیلے پر اتر گئے، جس کے نیچے یمامہ تھا، اور اپنی فوج کو وہاں ٹھہرا دیا اور مسلمانوں اور کفار کے درمیان معرکہ شروع ہوا۔ پہلے چکر میں اعراب شکست خوردہ ہو گئے اور بنو حنیفہ کے لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے میں گھس آئے اور ام تمیم کو قتل کرنا چاہا لیکن مجاعہ نے ان کو بچا لیا اور کہا: یہ تو انتہائی اچھی آزاد خاتون ہے اور اس چکر میں رجال بن عنفوہ ملعون قتل کر دیا گیا۔ سیدنا زید بن خطابؓ نے اس کو قتل کیا۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک دوسرے کو برانگیختہ کرنا اور ملامت کرنا شروع کیا حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے کہا: کتنی بری ہے وہ چیز جس کا تم نے اپنے ساتھیوں کو عادی بنایا، اور ہر جانب سے یہ آواز آنے لگی: سیدنا خالدؓ ہم تک پہنچو۔ اتنے میں مہاجرین و انصار کی ایک جماعت پہنچ گئی اور بچاؤ ہو گیا۔ بنو حنیفہ نے غیر معمولی قتال کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے اور کہنے لگے: اے سورہ بقرہ والو! آج جادو ٹوٹ گیا۔
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے جسم پر حنوط مل لیے، کفن باندھ لیے اور نصف ساق تک زمین کھود لی، آپؓ انصار کا پرچم لیے وہاں ڈٹ گئے، یہاں تک کہ جام شہادت نوش کر لیا۔
مہاجرین نے حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپؓ کو یہ خطرہ ہے کہ آپؓ کی طرف سے دشمن کہیں ہم پر حملہ آور نہ ہو جائے؟
سیدنا سالمؓ نے کہا: اگر ایسا ہو تو میں انتہائی برا حامل قرآن قرار پاؤں گا۔
حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! اپنے دانتوں سے پکڑو، دشمن پر ٹوٹ پڑو اور آگے بڑھو۔
پھر فرمایا: واللہ میں اس وقت تک کلام نہیں کروں گا جب تک اللہ انہیں شکست نہیں دیتا یا اللہ سے ملوں اور اپنی حجت اس کے سامنے پیش کروں۔ آخر کار جام شہادت نوش فرمایا۔
اور سیدنا ابوحذیفہؓ نے کہا: اے قرآن والو! قرآن کو اپنے افعال سے مزین کرو، پھر دشمن پر حملہ آور ہو کر ان کو پیچھے دھکیل دیا اور خود زخمی ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حملہ آور ہوئے اور دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے آگے نکل گئے اور مسیلمہ سے قتال کے لیے آگے بڑھے اور اس تاک میں لگے رہے کہ مسیلمہ مل جائے اور اسے قتل کر دیں پھر واپس ہو کر دونوں افواج کے درمیان کھڑے ہو کر للکارا اور فرمایا: میں سیدنا ولیدؓ کا بیٹا ہوں۔ میں عامر و زید کا بیٹا ہوں۔ پھر مسلمانوں کا شعار بلند کیا، اس معرکہ میں مسلمانوں کا شعار یا محمداہ تھا۔ (یہ جنگی شعار تھا جو اس معرکے میں اختیار کیا گیا، یہ استغاثہ اور استعانت کے طور پر نہ تھا) (مترجم)
جو بھی مقابلہ کے لیے بڑھتا اس کو تہ تیغ کر دیتے، جو قریب آتا اس کو کھا جاتے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کو اعراب سے الگ کر رکھا تھا، ہر خاندان کا اپنا پرچم تھا جس کے گرد وہ ہوتے اور قتال کرتے تا کہ یہ معلوم رہے کہ خطرہ کدھر سے ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس معرکے میں انتہائی صبر و استقامت کا ثبوت دیا اور برابر دشمن کی طرف بڑھتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی اور کفار پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کا پیچھا کیا، ان کو جس طرح چاہا قتل کرتے رہے، تلواریں ان کی گردنوں پر چلاتے رہے یہاں تک کہ انہیں موت کے باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ محکم بن طفیل ملعون نے انہیں اشارہ کیا کہ اس باغ میں داخل ہو جائیں۔ اسی باغ میں مسیلمہ کذاب ملعون موجود تھا۔ سیدنا عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا محکم خطاب کر رہا ہے، اس پر تیر چلا کر قتل کر دیا۔ بنو حنیفہ نے باغ کا دروازہ بند کر لیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے چہار جانب سے اس باغ کا محاصرہ کر لیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 329)