طرفین کی افواج
علی محمد الصلابیمسلمان: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چالیس ہزار اور بعض روایات کے مطابق پینتالیس (45) ہزار۔
روم: تھیوڈور کی قیادت میں دو لاکھ چالیس ہزار۔
معرکہ سے قبل
مسلمان سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں یرموک پہنچے اور وہاں خیمہ زن ہو گئے اور رومی دریا کے جنوبی کنارے اپنے امراء وقائدین کے ساتھ جمع ہوئے۔ اس موقع پر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! خوش ہو جاؤ واللہ رومی محصور ہو چکے ہیں اور محصور کو بہت کم خیر حاصل ہوتی ہے۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: 163)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے جنگ کا جدید اسلوب اختیار کیا جو اس سے قبل عربوں میں رائج نہیں تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 8)
آپؓ نے کرادیس کا نیا اسلوب اختیار کیا اور اپنی فوج کو مندرجہ ذیل طریقہ سے ترتیب دی:
فرقہ (دستہ) دس سے لے کر بیس کردوس پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا ایک قائد اور امیر ہوتا ہے۔
کردوس: ایک ہزار مقاتلین پر مشتمل ہوتا ہے جس کا ایک قائد اور امیر ہوتا ہے۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ: صفحہ 16)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو مندرجہ ذیل طریقہ پر چالیس صفوں میں تقسیم کیا:
قلب: یہ اٹھارہ کردوس پر مشتمل تھا، جس کی قیادت حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی اور آپؓ کے ساتھ عکرمہ بن ابی جہل اور قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
میمنہ: یہ دس کردوس پر مشتمل تھا۔ اس کی قیادت حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی اور آپ کے ساتھ شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
میسرہ: یہ دس کردوس پر مشتمل تھا۔ اس کی قیادت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کر رہے تھے۔
طلیعہ (مقدمہ): یہ شہسواروں پر مشتمل حفاظتی دستہ ہوتا ہے، جس کی ذمہ داری نگرانی اور دشمن کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔ اس لیے یہ مختصر افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔
ساقہ: یہ پانچ کردوس یعنی پانچ ہزار مقاتلین پر مشتمل تھا۔ اس کی قیادت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی۔ اس کی ذمہ داری انتظامی امور سے متعلق تھی۔ قاضی ابودرداء رضی اللہ عنہ تھے اور انتظامی امور پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مقرر تھے۔ ان کی ذمہ داری انتظامی امور کی نگرانی، خور و نوش کا انتظام اور مال غنیمت کو جمع کرنے کا انتظام سنبھالنا تھا۔ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ قاری تھے جو لوگوں میں گھوم گھوم کر سورہ انفال اور جہاد سے متعلق آیات تلاوت کرتے تاکہ ان کی روحانی اور معنوی قوت میں اضافہ ہو۔ فوج کے خطیب ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے جو فوج کی صفوں میں جا جا کر قتال پر جوش دلاتے
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 8)
اور سپہ سالار اعظم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ درمیان میں کبار صحابہ کے ساتھ تھے۔
اسلامی فوج نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اپنی تیاری مکمل کر لی اور ہر قائد اپنی فوج کے پاس جاتا اور انہیں جہاد و صبر پر ابھارتا اور جوش دلاتا۔ اسلامی فوج کے قائدین یہ سمجھتے تھے کہ یہ معرکہ عظیم نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور یہ جنگ فیصلہ کن ثابت ہو گی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم تھا کہ اس معرکہ میں رومی لشکر کی ہزیمت کا مطلب پوری سرزمین شام میں ان کی ہزیمت ہے اور اس سے شام کے دروازے مسلمانوں کے لیے بالکل کھل جائیں گے اور کوئی رکاوٹ نہ رہے گی اور پھر یہاں سے مصر کا راستہ کھل جائے گا اور پھر ایشیا اور یورپ کو فتح کرنا آسان ہو جائے گا۔
(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: صفحہ 164)