قتال کا آغاز
علی محمد الصلابیجب تیاری مکمل ہو گئی اور مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ عکرمہ بن ابی جہل اور قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہما کی طرف بڑھے، جو قلب کے دونوں بازوؤں پر مقرر تھے، انہیں حکم دیا کہ قتال کا آغاز کریں۔ دونوں رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے بڑھے اور اور دعوت مبارزت دی، بہادر میدان میں کود پڑے، جنگ بھڑک اٹھی اور اس کا آغاز ہو گیا اور خالد رضی اللہ عنہ بہادروں کے کردوس کے ساتھ صفوں کے سامنے آئے اور مجاہدین سیدنا خالدؓ کے سامنے حملہ کر رہے تھے، آپؓ اس کا مشاہدہ کرتے اور اپنے ساتھیوں کی رہنمائی فرماتے اور مکمل طور سے جنگ کی کارروائی کرتے
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 10)