حضور ﷺ پر جادو کا اثر ہونا۔(اعتراض کا رد) - دفاعِ اہلِ سنت…

حضور ﷺ پر جادو کا اثر ہونا۔(اعتراض کا رد)

  مولانا محمد حسین میمن

صفحہ 2 از 2
خط کشیدہ الفاظ قابلِ غور ہیں۔ قارئین کرام جادو کا اثر نبی کریمﷺ پر صرف اتنا ہوا کہ آپﷺ کا دنیاوی معاملہ متاثر ہوا یعنی آپﷺ کو خیال ہوتا کہ کوئی کام آپﷺ نے کیا جبکہ وہ کام نہیں کیا ہوتا۔ افسوس مصنف نے انتہائی غلو سے کام لیا اور پیغمبرﷺ کی حدیث کی عبارت میں خیانت کی اور اس کے مفہوم کو تبدیل کر دیا۔ حالانکہ اسی حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میں نے اللہ سے دعا کی یعنی عبادات اسی طرح جاری تھیں جس طرح بقیہ زندگی میں۔ اگر جادو اتنا ہی اثر انداز ہو جاتا (جیسے مصنف نے باور کرانے کی کوشش کی) تو آپﷺ اللہ سے دعا ہی نہیں کرتے۔ ایک اور بات عرض کرتا چلوں کہ مصنف نے بغیر کسی دلیل کے حدیث پر اعتراض کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آپﷺ کو لوگوں کی ایذا سے محفوظ رکھے گا۔ اسی وجہ سے جادو کے باوجود نبی کریمﷺ نے نہ کبھی نماز چھوڑی نہ ہی چار کی جگہ دو رکعت پڑھی، اور نہ کبھی ایسا ہوا کہ مغرب کی جگہ عشاء پڑھ لی یہ جادو صرف نبی کریمﷺ کے دنیاوی معاملات پر اثر انداز ہوا تھا نہ کہ دینی کیونکہ دینی معاملات کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ 
(سورۃ الحجر: آیت، 9)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
نوٹ: (ذکر سے مراد یہاں قرآن اور صحیح حدیث دونوں ہیں۔)
ایک اور بات کہ جادو کے اثر سے نبی کریمﷺ بھول جایا کرتے تھے اگر یہ بھول نبوت کے منافی ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے:
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا 
(سورۃ الكهف: آیت، 61)
ترجمہ: چنانچہ جب وہ ان کے سنگھم پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے، 
بلکہ قرآن کریم تو یہاں تک فرماتا ہے:
سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓى اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ 
(سورۃ نمبر 87 الأعلى: آیت، 6، 7)
ترجمہ: (اے پیغمبر) ہم تمہیں پڑھائیں گے پھر تم بھولو گے نہیں۔ سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔  
جب بھول اور نسیان قرآن سے ثابت ہے تو پھر صحیح بخاری کی حدیث پر اعتراض کیوں؟ مولانا مؤدودی مرحوم اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں راقم ہیں کہ:
"کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اس زمانے میں (یعنی جادو کی کیفیت کے دوران) آپﷺ قرآن مجید بھول گئے ہوں، یا کوئی آیت غلط پڑھی ہو۔ یا اپنی صحبتوں میں اور اپنے وعظوں اور خطبوں میں آپﷺ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہو گیا ہو یا کوئی ایسا کلام وحی کی حیثیت پیش کر دیا ہو۔ جو فی الواقع آپ پر نازل نہ ہوا ہو۔ ایسی کوئی بات معاذ اللہ پیش آ جاتی تو دھوم مچ جاتی اور پورا ملکِ عرب اس سے واقف ہو جاتا کہ جس نبی کو کوئی طاقت چت نہ کر سکی تھی اسے ایک جادوگر کے جادو نے چت کر دیا۔ لیکن آپﷺ کی حیثیتِ نبوت اس سے بالکل غیر متاثر رہی اور صرف اپنی ذاتی زندگی میں آپﷺ اپنی جگہ محسوس کر کے پریشان ہوتے رہے۔"
(تفہیم القرآن: جلد، 6 صفحہ، 554، 555)
الحمد لللہ یہ بات عیاں ہوئی کہ وہ نقشہ جو مصنف نے اپنی کتاب میں کھینچا وہ بالکل لغو بکواس اور سراپا الزام ہے نبی کریمﷺ پر قرآن کریم جادو کے متعلق دو ٹوک فیصلہ دیتا ہے۔ جب حضرت موسٰی علیہ السلام اور جادوگروں کا مقابلہ ہوا تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا:
قَالَ بَلۡ اَلۡقُوۡا‌ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ اَنَّهَا تَسۡعٰى فَاَوۡجَسَ فِىۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰى 
(سورۃ طه: آیت، 66، 67)
ترجمہ: موسیٰ نے کہا: نہیں، تم ہی ڈالو۔ بس پھر اچانک ان کی (ڈالی ہوئی) رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں موسیٰ کو ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہیں۔ اس پر موسیٰ کو اپنے دل میں کچھ خوف محسوس ہوا۔ 
دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ 
(سورۃ الأعراف: آیت، 116)
ترجمہ: چنانچہ جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا، ان پر دہشت طاری کر دی، 
ان دونوں آیات سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب جادوگروں نے اپنی رسیاں ڈالیں تو جادو کے اثر سے لوگ بھی خوف زدہ ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی، یعنی لوگوں پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جادو کا اثر ہوا۔ جب حضرت موسٰی علیہ السلام پر جادو اثر کر سکتا ہے تو نبی کریمﷺ پر کیوں کر نہیں کر سکتا؟ حالانکہ قرآن کریم نے موسٰی علیہ السلام کو نبی کریمﷺ کا مماثل قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا 
(سورۃ المزمل: آیت، 15)
ترجمہ: (جھٹلانے والو!) یقین جانو ہم نے تمہارے پاس تم پر گواہ بننے والا ایک رسول اسی طرح بھیجا ہے، جیسے ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا۔
انبیاء علیہم السلام تو بے شمار گذرے لیکن جتنی مماثلت حضرت موسٰی علیہ السلام اور نبی کریمﷺ کے درمیان تھی اتنی مماثلت کسی اور نبی کے ساتھ نہ تھی۔ مثلاً دونوں ماں باپ سے پیدا ہوئے دونوں کی شادی اور ان کے ہاں اولاد ہوئی حضرت موسٰی علیہ السلام نے ہجرت کی تو آپﷺ نے بھی ہجرت کی حضرت موسٰی علیہ السلام کے دور کا فرعون ہلاک ہوا تو نبی کریمﷺ کے دور کا فرعون ابوجہل بھی ہلاک ہوا، حضرت موسٰی علیہ السلام نے جہاد کیا نبی کریمﷺ نے بھی جہاد کیا، حضرت موسٰی علیہ السلام کے جانشین ان کے خاندانِ نبوت کا فرد نہیں بلکہ صحابی یوشع بن نون بنے تو آپﷺ کے جانشین بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مقرر ہوئے اسی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام پر جادو ہوا تو نبی کریمﷺ پر بھی جادو ہوا یہ وہ حقائق ہیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں آتا ہے اب ان حقائق سے انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ملحد ہو گا یا اس کا تعلق دین محمدیﷺ سے نہیں ہو گا۔
لہٰذا مصنف کے تمام اعتراضات صرف اورصرف حدیث دشمنی کی وجہ سے ہے باقی حق آپ کے سامنے ہے۔

صفحہ 2 از 2