اعتراض امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی طرح اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کے جنتیوں کو کھلائے گا جس طرح بندے روٹی کو ڈھال کر توے پر پکا کر اور آگ سے سینک کر دستر خوان پر رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ پاک بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی روٹی بنا کر اور ڈھال کر دستر خوان پر رکھے گا اور ستر ہزار بہشتی مہمان کھائیں گے۔
مولانا محمد حسین میمن
اعتراض امام بخاری رحمۃ اللہ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی طرح اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کے جنتیوں کو کھلائے گا جس طرح بندے روٹی کو ڈھال کر توے پر پکا کر اور آگ سے سینک کر دستر خوان پر رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ پاک بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی روٹی بنا کر اور ڈھال کر دستر خوان پر رکھے گا اور ستر ہزار بہشتی مہمان کھائیں گے۔
اعتراض:
مصنف اپنی کتاب کے صفحہ، 21 پر صحیح بخاری کی حدیث پر اعتراض کرتا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی طرح اپنے ہاتھ سے روٹی پکا کے جنتیوں کو کھلائے گا جس طرح بندے روٹی کو ڈھال کر توے پر پکا کر اور آگ سے سینک کر دستر خوان پر رکھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ پاک بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی روٹی بنا کر اور ڈھال کر دستر خوان پر رکھے گا اور ستر ہزار بہشتی مہمان کھائیں گے۔
جواب:
مصنف نے یہاں حسبِ عادت بدنیتی سے کام لیا ہے۔ حدیث کا بیان دراصل کچھ اور ہے اور مصنف نے اس کو کچھ اور بنا دیا ہے۔ اور حدیث سابقہ کی طرح مندرجہ بالا حدیث کے متن میں بھی مصنف نے خیانت کی ہے اپنی طرف سے الفاظ گھڑ کر حدیث کے مفہوم کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے جو انتہائی شرمناک عمل ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مصنف علوم الحدیث سے بالکل ہی نابلد ہے۔ نہ تو اسے روایت حدیث کا علم ہے اور نہ ہی متن حدیث کا۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ احادیث کے انکار کی بجائے کسی اہلِ علم کے سامنے دوزانوں ہو کر علومِ حدیث کو سمجھ لیتا۔
’’لیکن میں تو ڈوبوں گا اور تمہیں بھی لے ڈوبوں گا صنم‘‘
مصنف کی جہالت تو آپ کے سامنے ہی ہے۔ قارئین کرام اس حدیث میں جو روٹی کا ذکر ہے میں اس پر بحث کرنے سے پہلے حدیث کا متن اور صحیح ترجمہ آپ کے سامنے پیش کروں گا ان شاء اللہ اس کے بعد ہم بحث کریں گے کہ اس حدیث مبارکہ سے کتنے خوبصورت موتی نکلتے ہیں جس کو مصنف اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر رہا۔
قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ’’تکون الارض یوم القیٰمة خبزۃ واحدۃ یتکفوھا الجبار بیدہ کما یکفاً احدکم۔
(صحیح البخاری کتاب الرقاق باب یقبض اللہ الارض یوم القیامۃ: رقم الحدیث، 6520)
ترجمہ: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی، اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے جنتیوں کی مہمان نوازی کے لیے اس کو الٹے پلٹے گا جیسے تم میں سے کوئی مسافر اپنی روٹی الٹ پلٹ کرتا ہے۔‘‘
قیامت کے دن زمین کو اللہ کے ہاتھ میں لینے کے بارے میں تو قرآن مجید میں بھی وارد ہوا ہے:
وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ
(سورۃ الزمر: آیت، 67)
ترجمہ: حالانکہ پوری کی پوری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی،
رہا سوال کہ اللہ تعالیٰ زمین کو روٹی بنا کر اہلِ جنت کی میزبانی کرے گا۔ تو لگتا ہے کہ مصنف کو اللہ کے قادر ہونے میں شک ہے اور اس کو اپنے ایمان کی تجدید کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ(سورۃ البقرة: آیت، 20)
ترجمہ: بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ (سورۃ آل عمران: آیت، 189)
ترجمہ: اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو وہ اس چیز پر بھی قادر ہے کہ زمین کو روٹی بنا کر اہلِ جنت کی میزبانی کرے۔
قارئین کرام اس حدیث مبارکہ سے جو بات واضح ہوتی ہے اس کا تعلق (Astronomy) علمِ فلکیات سے بھی ہو سکتا ہے جس کا علم مصنف کو نہیں کیونکہ مصنف ایک تنگ نظر اور بدنیت شخص ہے اور اس کے اعتراضات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پہنچ صرف روٹی تک ہی محدود ہے یہ حدیث معجزہ پر مبنی ہے باقی رہا دنیا کی روٹی سے جنت کی نعمتوں کو مشابہت دینا تو یہ اعتراض بھی فضول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جنت اور اہلِ جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ
(سورۃ البقرة: آیت، 25)
ترجمہ: جب کبھی ان کو ان (باغات) میں سے کوئی پھل رزق کے طور پر دیا جائے گا تو وہ کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا۔
غور فرمائیں جنتی لوگوں کو جب جنت میں پھل دئیے جائیں گے تو وہ محسوس کریں گے انہوں نے اس سے پہلے یعنی دنیا میں بھی ایسے ہی ملتے جلتے پھل کھائے اب مصنف اس آیت مبارکہ کے بارے میں کیا کہے گا جو اس آیت مبارکہ کا جواب ہو گا وہی جواب اس حدیث کا بھی ہے۔ ان شاء اللہ
لہٰذا حدیث اعتراض سے پاک ہے کاش مصنف حدیث پر اعتراض سے پہلے قرآن پر غور کر لیتا۔