اعتراض امام بخاری رحمہ اللہ نے لعنتی راویوں پر اعتماد کلی کر کے ام البشر حضرت حواء کو خیانت کرنے والیوں میں ذکر کر دیا بلکہ تمام عورتوں کا خیانت کرنے میں بنیادی نکتہ آغاز حواء ہی کو ذکر کر دیا۔
مولانا محمد حسین میمناعتراض:
مصنف اپنی کتاب کے صفحہ 22 پر لکھتا ہے کہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے لعنتی راویوں پر اعتماد کلی کر کے ام البشر حضرت حوا ء کو خیانت کرنے والیوں میں ذکر کردیا بلکہ تمام عورتوں کا خیانت کرنے میں بنیادی نکتہ آغاز حواء ہی کو ذکر کر دیا۔
جواب:
قارئین کرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے جو شخص کسی پر لعنت کرتا ہے اگر وہ اس کا مستحق نہیں تو لعنت کہنے والے پر ہی لوٹتی ہے حدیث کا مفہوم وہ نہیں جسے مصنف نے یہاں بیان کیا ہے اصل حدیث اس طرح ہے:
عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰه عنہ عن النبی ( صلی اللّٰه علیہ وسلم ) نحوہ یعنی لولا بنواسرائیل لم یخنزاللحم ولولا حواء لم تخن أنثی زوجھا
(صحیح بخاری کتاب الأنبیاء باب خلق آدم وذ ریتہ رقم الحدیث، 3330)
ترجمہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا ،اگر حوا ء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے دغا نہ کرتی۔‘‘
مصنف کا خیال ہے کہ دغا ام البشر حواء کی وجہ سے ہوتا ہے، جوکہ جہالت پر مبنی ہے۔ مصنف کے پاس علم تو ہے ہی نہیں اب ایسا لگتا ہے کہ عقل سے بھی کورا ہے جناب اگر حواء پیدا ہی نہ ہوتیں تو ’’علامہ سعید خان ملتانی‘‘ کہاں سے پیدا ہوتے یعنی علامہ صاحب نے حدیث میں جو خیانت کی ہے تو اگر حواء پیدا ہی نہ ہوئی ہوتیں تو علامہ صاحب بھی نہ ہوتے اگر علامہ صاحب بھی نہ ہوتے تو خیانت بھی نہ ہوتی، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خیانت حواء نے سکھائی۔ قارئین کرام مجھے امید ہے کافی حد تک آپ سمجھ چکے ہونگے۔
حدیث کا مفہوم ہر گز یہ نہیں کہ حواء کی خیانت فحاشی ہے نعوذباللہ بلکہ اس کا یہ مفہوم ہے کہ شیطان نے پہلے حواء کو بہکایا اور وہ صنف نازک تھیں کمزور تھیں اور ان کے ذریعے آدم علیہ السلام کو بہکایا اور قرآن میں بھی درخت کا پھل کھانے کی نسبت آدم وحواء دونوں کی طرف کی گئی ہے۔