Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گزر بسر

  علی محمد الصلابی

ہم نے ذیل میں چند احادیث جمع کر دی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ و امہات المؤمنینؓ کی گزر بسر کی تفاصیل پر مشتمل ہیں، انھی میں سے ایک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔

1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے بھانجے عروہ کو اپنی گزر بسر کے احوال بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کا معمول تھا: ’’اے میرے بھانجے! بے شک ہم ایک ماہ کا چاند دیکھتے، پھر دوسرا چاند دیکھتے، پھر دو ماہ میں تین چاند دیکھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ (بقول عروہ) تب میں نے عرض کیا: اے خالہ جان! آپ لوگ کس چیز پر گزر بسر کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: دو سیاہ چیزوں پر۔ کھجور اور پانی۔ ہاں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ پڑوسی انصاری صحابہؓ تھے اور ان کے پاس اونٹنیاں اور بکریاں تھیں۔

(المنائح: جمع منیحۃ اونٹنی یا بھیڑ بکری جس کے دودھ وغیرہ سے فائدہ اُٹھا کر مالک کو واپس دے دیا جائے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر: جلد 4 صفحہ 364)

وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں دودھ بھیجا کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ہمیں بھی پلاتے رہتے۔

(صحیح بخاری: 2567۔ صحیح مسلم: 2972)

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رو ایت ہے:

’’جب سے ہم مدینہ آئے، تو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے آپﷺ کی وفات تک کبھی مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 6454۔ صحیح مسلم: 2970، صحیح بخاری: 6455۔ صحیح مسلم: 2971)

3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

’’ جس دن آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار کھانا کھایا تو ضرور اس دن میں ایک وقت کھجوریں ہوتی تھیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 3097۔ صحیح مسلم: 2973)

4۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو میرے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے کوئی جگر والا جانور کھا سکے، ہاں کچھ جو تھے جو طاق میں رکھے ہوئے تھے۔ میں وہ کھاتی رہی جب کافی مدت گزر گئی(وہ ختم ہونے میں نہ آئے) تو میں نے ان کا وزن کر لیا۔ تو وہ جلدی ختم ہوگئے۔ ‘‘

(الاہالۃ: دنبے کی چکی کی پگھلی ہوئی چربی۔ ہر منجمد چکنائی کو بھی کہا جاتا ہے)

5۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رو ایت ہے، بیان کرتے ہیں:

’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جَو کی روٹی اور باسی چربی پیش کی۔‘‘

(سنخۃ: جس کی بو تبدیل ہو چکی ہو۔ (فتح الباری: جلد 5 صفحہ 141)

اور اس وقت ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک یہودی کے پاس اپنی ڈھال گروی رکھی اور اس کے عوض اپنے اہل و عیال کے لیے کچھ جَو لیے۔ ‘‘

(سنن الترمذی: 1215۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن الترمذی میں صحیح کہا ہے)

راوی حدیث بیان کرتا ہے کہ میں نے جناب انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ’’آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی

کوئی ایسی رات بسر نہ کی کہ ان کے پاس ایک صاع (تقریباً ڈھائی کلو) گندم یا اتنا ہی گیہوں ہو، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیویاں ہوتی تھیں۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 2069)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پڑوسی فارس کا باشندہ تھا۔ وہ شوربہ پکانے کا ماہر تھا۔ ایک بار اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کھانے پر بلانے کے لیے آیا۔ تو آپ نے پوچھا: ’’یہ عائشہ بھی مدعو ہے۔‘‘ اس نے کہا: نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں بھی نہیں۔ اس نے دوبارہ آپ کو دعوت دی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: اور یہ بھی (مدعو ہے)۔ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں آؤں گا۔ پھر اس نے پلٹ کر دعوت دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی مدعو ہے۔ اس نے تیسر ی مرتبہ کہا: جی ہاں۔ تو آپ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چل پڑے۔ ( اور دعوت دینے والے کے گھر میں پہنچ گئے۔ (صحیح مسلم: 20037)

 یتدافعان: یعنی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگ کر چل رہے تھے۔ (شرح مسلم: جلد 13 صفحہ 210)