پانچواں نکتہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں نکتہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

جو واقعات و حوادث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے درمیان بگاڑ کا سبب بنے ان میں سے

دوسری مثال: مروان بن حکم (یہ مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ ہے۔ اس کی کنیت ابو عبدالملک ہے۔ خاندان قریش اور بنو امیہ میں سے ہے۔ یہ 2 ہجری میں پیدا ہوئے اور 4 ہجری کا بھی کہا گیا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چچا زاد ہیں اور ان کی خلافت میں ان کے معاون بھی رہے۔ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شامل تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینے کے گورنر بنے۔ یزید کی امارت کے ابتدائی عہد میں انھیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے جلا وطن کر دیا جو مدینہ میں واقعہ حرہ (قتل عام) کا ایک سبب بنا۔ یہ 65 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 83۔ الاصابۃ: جلد 6 صفحہ 257)

2 جب معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا گورنر بنا اور حسن (یہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابو محمد کنیت ہے۔ خاندان قریش اور قبیلہ بنو ہاشم ہے۔ اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے ہیں۔ 3 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد محترم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل عراق کے پاس چلے گئے۔ جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں تھے انھوں نے جنگ سے گریز کیا اور سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی۔ 49 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 113۔ الاصابۃ: جلد 2 صفحہ 68) بن علی رضی اللہ عنہما کو حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں دفنانے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اجازت ملنے کے باوجود مروان نے انھیں وہاں دفن کرنے سے روک دیا۔

تیسری مثال: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ سے اپنے بیٹے یزید کی جانشینی تسلیم کروانے کے لیے مروان کو حکم دیا اس موقع پر مروان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان جو تلخی ہوئی وہ کچھ یوں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان کی طرف یزید کی جانشینی کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کے لیے خط لکھا۔ جو اس وقت حجاز کا گورنر تھا۔ مروان نے لوگوں کو جمع کیا، ان سے خطاب کیا اور یزید کا تذکرہ کیا اور اس کی بیعت لینے کے لیے لوگوں کو کہا۔ تب اسے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم آل ہرقل اپنی اولاد کے لیے بیعت کروانے کے لیے آئے ہو؟ چنانچہ مروان نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا اسے پکڑ لو۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلے گئے، سپاہی انھیں گرفتار نہ کر سکے۔ چنانچہ مروان نے پکار کر کہا یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: 

وَالَّذِىۡ قَالَ لِـوَالِدَيۡهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِىۡۤ ۞ (سورة الأحقاف آیت 17)

ترجمہ: اور ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ : تف ہے تم پر۔ کیا تم مجھ سے یہ وعدہ کرتے ہو۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا تو پردے کے پیچھے سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سوائے میری برأت کے ہمارے بارے میں قرآن میں کچھ نہیں اتارا۔‘‘

(صحیح بخاری: 4827)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کثرت سے گراں بہا عطیات ان کی خدمت میں بھیجا کرتے۔ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نیا لباس (استجد الثوب: نیا لباس خریدنا اور پہننا۔ (تاج العروس للزبیدی: جلد 7 صفحہ 478) نہیں پہنتی تھیں جب تک اپنے لباس میں اتنے پیوند نہ لگا لیتیں کہ اندر باہر ایک ہو جاتا۔ ( نکس الشیء: الٹا کرنا۔ بالائی سطح اندر کر دینا یا سر کی جانب نیچے کی طرف کرنا۔ (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 679) ایک دن ان کے پاس معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اسی ہزار درہم آئے۔ لیکن شام تک ان کے پاس ایک درہم بھی نہ رہا۔ سب حاجت مندوں میں بانٹ دئیے۔ انھیں ان کی خادمہ نے کہا کاش آپؓ ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں۔ انھوں نے فرمایا: ’’اگر مجھے تو یاد دلاتی تو میں ضرور منگوا دیتی۔‘‘

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 8 صفحہ 67۔ حلیۃ الاولیاء لابی نعیم: جلد 2 صفحہ 67۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 187 )

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ خط و کتابت بھی کرتے اور ہر خط میں نصیحت کرنے کی درخواست کرتے ایک بار یوں لکھا: ’’یہ کہ آپ میری طرف خط لکھیں جو بہت طویل نہ ہو۔‘‘ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: ’’بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

مَنِ الْتَمَسَ رِضَائَ اللّٰہِ بَسَخَطِ النَّاسِ، کَفَاہُ اللّٰہُ مُؤُوْنَۃَ النَّاسِ، وَ مَنِ الْتَمَسَ رِضَائَ النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰہِ، وَکَّلَہُ اللّٰہُ اِلَی النَّاسِ

ترجمہ: ’’جو اللہ کو راضی کرنے کے لیے لوگوں کو ناراض کر دے اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کی طرف سے کافی ہو جائے گا اور جو شخص لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دے اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔‘‘ و السلام علیک۔ (اور تجھ پر سلامتی ہو)‘‘

(سنن ترمذی: 2414۔ اس کی اسناد کو ابن مفلح رحمہ اللہ نے (الآداب الشرعیۃ: جلد 1 صفحہ 164) پر جید کہا ہے اور الشیخ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے

ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت ملنے کی مخالفت کی ہو۔ البتہ انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعض افعال کا انکار ضرور کیا ہے۔ خصوصاً جب حجر بن عدی قتل کیے گئے تو اس وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے سخت باتیں ضرور کیں۔

العواصم من القواصم کا منصف کہتا ہے:

صفحہ 2 از 3