پانچواں نکتہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں نکتہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’ اکثر علماء کے نزدیک حجر بن عدی رحمہ اللہ تابعی تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابیہ کو کوفہ کا گورنر بنایا تو وہ ایک بار خطبہ جمعہ دے رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے خطبہ کو اتنا طویل کیا کہ نماز کا وقت گزرنے کے قریب ہو گیا۔ حُجر بن عدی کھڑا ہو گیا اور اسے کنکری مارتے ہوئے پکارنے لگا۔ نماز، نماز، اور اسے اتنے پتھر مارے کہ لوگ بھی مشتعل ہو گئے اور وہ بھی اسے پتھر مارنے لگے۔ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کا پتا چلا تو انھوں نے اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا کیونکہ ان کے نزدیک یہ لوگوں کو بغاوت پر اکسانا چاہتا تھا۔

شاید سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے استدلال کیا: ’’جب تم متحد و متفق ہو اور کوئی شخص تمہارے درمیان آ کر تفرقہ پھیلانا چاہے تو تم اسے قتل کر دو۔‘‘ ابن العربی نے لکھا: اگر یہ کہا جائے حجر ابن عدی کو قتل کر دیا گیا اور وہ صالح صحابی تھا، زیاد کے حکم پر اسے قیدی بنایا گیا پھر اسے باندھ کر قتل کر دیا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تحقیق کے لیے اور اس کے معاملے کی چھان بین کے لیے قاصد بھیجا۔ لیکن اس کے پہنچنے سے پہلے ہی حجر قتل ہو چکا تھا۔

تو ہم یہ کہیں گے ہمیں مکمل طور پر حجر کے قتل ہونے کا علم ہو گیا۔ لیکن کئی وجوہ سے اختلاف ہے۔ کچھ کہنے والے کہتے ہیں: اسے ظلماً قتل کیا گیا اور کچھ کہنے والے کہتے ہیں : اس کا قتل صحیح ہوا۔ اگر کوئی کہے درحقیقت اسے ظلماً ہی قتل کیا گیا۔ بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ اسے قتل کرنا ضروری تھا۔ ہم جواب میں کہیں گے کہ اصول یہ ہے کہ امام المسلمین کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بطورِ سزا قتل کر دے لہٰذا جو کہتے ہیں کہ اسے ظلماً قتل کیا گیا تو اس پر اس دعویٰ کی دلیل لانا واجب ہے۔ اگر فقط ظلماً ہی قتل کیا گیا تھا تو پھر ایسا ضرور ہوتا کہ ہر گھر سے معاویہ پر لعنت کی جاتی۔ لیکن واقعہ اس کے برعکس ہے۔ چونکہ بغداد عباسی خلفاء کا دار الخلافہ تھا جسے دار السلام کہا جاتا ہے اور بنو عباس اور بنو امیہ کے درمیان جو عداوت تھی وہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ وہاں کی تمام مساجد کے دروازوں پر یہ تحریر نمایاں تھی: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ان کے بعد عمر، پھر عثمان پھر علی پھر معاویہ جسے مومنوں کے ماموں ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رضی اللہ عنہن

لیکن جو کچھ کہا جاتا ہے کہ حجر نے زیاد میں کچھ منکرات دیکھیں تو اس نے اسے پتھر مارا اور اس کی بیعت سے انکار کر دیا اور اس نے لوگوں کو فتنہ و فساد پر ابھارنے کی کوشش کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے زمین میں فساد پھیلانے والا شمار کیا اور حج کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے حجر کے معاملے پر بات کرنا چاہی تو انھوں نے کہا: آپؓ مجھے اور حجر کو چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ ہم اللہ سے جا ملیں وہاں جا کر جو فیصلہ ہو گا وہ ہمیں منظور ہے۔ تو اے اہل اسلام تمہارے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ تم ان دونوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو، وہی ان دونوں کے درمیان عادلانہ اور دیانت دارانہ فیصلہ کرے گا۔ جو بالکل صحیح ہو گا اور روز محشر کا وہی بادشاہ ہے اور تمھیں اپنے داخل ہونے کے مقام کا شعور نہیں تو پھر کیا وجہ ہے تم سنتے کیوں نہیں۔‘‘

(العواصم من القواصم: صفحہ 220 )

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت بیس سالہ مدت پر پھیل گئی جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی خلافت کے اٹھارویں سال کے بعد فوت ہو گئیں۔


صفحہ 3 از 3