مذاہب اربعہ اور شیعہ اعتراض کا جواب - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

مذاہب اربعہ اور شیعہ اعتراض کا جواب

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 1 از 2
شیعہ قلمکار کا یہ قول کہ ’’اہلِ سنت نے مذاہب اربعہ ایجاد کیے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں نہیں تھے اور اقوالِ صحابہؓ کو ترک کر دیا۔‘‘
جواب: ہم رافضی مصنف سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت اور ان کے اقوال سے انحراف کب سے مذموم قرار پائے؟
(یاد رہے کہ اہلِ تشیع صحابہ کرامؓ کی شان و عظمت کے قائل ہی نہیں ہیں)
اہلِ سنت والجماعت کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت و دوستی رکھنے اور باقی تمام زمانوں پر ان کو ترجیح دینے پر اتفاق ہے اور ان کے ہاں صحابہ کرامؓ کا اجماع حجت بھی ہے اور انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع سے کسی طرح بھی خروج کی اجازت نہیں بلکہ عام آئمہ مجتہدین وضاحت و صراحت کے ساتھ فرما رہے ہیں: ’’ہمارے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کو ترک کرنا جائز نہیں۔‘‘
پھر جو لوگ (شیعہ) یہ کہتے ہیں کہ اجماعِ صحابہؓ حجت نہیں ہے اور صحابہ کرامؓ کو ظلم اور کفر کی طرف منسوب کرتے ہیں تو وہ کیسے اہلِ سنت پر اعتراض کر سکتے ہیں؟ (کیا ہم اجماعِ صحابہؓ کے مخالف ہیں یا تم؟ پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گمراہ اور کافر کون کہتا ہے؟ اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اہلِ سنت اجماعِ صحابہؓ کے خلاف متفق ہو جائیں)
مزید برآں اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع حجت ہے تو وہ دونوں گروہوں پر حجت ہے اور اگر اجماعِ صحابہؓ حجت نہیں تو پھر اس کو بنیاد بنا کر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
اعتراض: ’’اہلِ سنت والجماعت اجماعِ صحابہؓ کو حجت مانتے ہیں اور پھر اسکی مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘‘
جواب: اہلِ سنت والجماعت کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اجماعِ صحابہ کرامؓ کے خلاف یک زبان ہو جائیں۔ جب کہ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ شیعہ امامیہ عترت نبوی (اہلِ بیتؓ، بنو ہاشم) اور حضرات صحابہؓ دونوں کے متفق اجماع کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کے عہدِ سعادت میں بنی ہاشم کا کوئی فرد اس بات کا مدعی نہ تھا کہ’’بارہ امام معصوم ہوں گے یا یہ کہ سالار رسل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی شخص معصوم بھی ہو سکتا ہے۔‘‘
بخلاف ازیں کوئی شخص خلفائے ثلاثہؓ کے کفر کا قائل تھا نہ ان کی امامت پر طعن و تشنیع کرتا تھا اور نہ ہی صفات اللہ تعالیٰ کا کوئی منکر تھا اور نہ تقدیر کا۔ اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے، کہ امامیہ اہلِ بیتؓ و صحابہؓ دونوں کی مخالفت کرنے میں متحد الخیال ہیں، پھر انہیں لوگوں پر معترض ہونے کا کیا حق ہے، جو اہلِ بیتؓ و صحابہؓ دونوں کے اجماع کو حجت مانتے ہیں اور اس کی مخالفت سے اجتناب کرتے ہیں۔
اعتراض: ’’اہلِ سنت نے مذاہبِ اربعہ ایجاد کر لیے جو نبی کریمﷺ کے دور میں نہیں تھے۔‘‘
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ اگر شیعہ کے خیال میں اہلِ سنت نے حضرات صحابہؓ کے عین برخلاف جمع ہو کر باتفاقِ رائے یہ مذاہب ایجاد کر لیے تھے تو یہ عظیم افترا ہے اس لیے کہ یہ چاروں مذاہب ایک ہی زمانہ میں نہ تھے، بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی وفات 150 ہجری میں ہوئی۔امام مالک رحمہ اللہ کی وفات 179 ہجری میں ہوئی ۔امام شافعی رحمہ اللہ کی وفات 203 ہجری میں ہوئی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی وفات 231 ہجری میں ہوئی۔
مزید برآں ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی تقلید نہیں کرتا تھا اور نہ دوسروں کو اپنی پیروی کا حکم دیتا تھا۔ بخلاف ازیں یہ سب آئمہ اتباع کتاب و سنت کی دعوت دیتے اور دوسروں پر تنقید کیا کرتے تھے۔ باقی رہا یہ معاملہ کہ لوگ آئمہ اربعہ کی اطاعت کرتے ہیں، تو یہ ایک اتفاقی بات ہے۔ نیز یہ کہ جب ان میں سے کوئی ایک کوئی ایسی بات کہے جو کتاب و سنت کی مخالف ہو تو اس کو چھوڑ دینا واجب ہوجاتا ہے اور لوگوں پر اس کی تقلید واجب نہیں ہوتی۔
اگر تم شیعہ کہو کہ لوگ ان مذاہب کی پیروی کر رہے ہیں یہ کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے بلکہ لوگوں نے آپس میں اتفاق سے طے کیا ہے کہ تم اس کی پیروی کرو اور تم اس کی پیروی کرو۔ ان کی مثال ان حجاج کی ہے جنہیں کسی رہبر کی تلاش ہو پھر انہیں کوئی رہنما مل جائے کچھ لوگ اسے ماہر راہبر سمجھ کر اس کے پیچھے چلنے لگیں اور کچھ لوگ اس کو ڑ کر الگ چل دیں ۔
جواب 2:
اگر واقعی ایسا ہے تو پھر بھی اہلِ سنت و الجماعت کا اتفاق کوئی باطل نہیں ہے۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک گروہ دوسرے کی خطا پر آگاہ کرتا ہے۔ کیونکہ ان کا اتفاق اس بات پر نہیں ہے کہ جو کچھ بھی متعین شخص کہے وہ ہر حال میں قبول کیا جائے۔ بلکہ جمہور مسلمین نبی کریمﷺ کے علاوہ کسی متعین شخص کی تقلید کا حکم نہیں دیتے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عصمت کی ضمانت دی ہے۔ یہ عصمت کی نشانی ہے کہ اس امت میں کئی کئی علماء ہوتے ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک کسی چیز میں غلطی کر جائے تو دوسرا کوئی اس مسئلہ میں حق پر ہوتا ہے تاکہ حق بات باقی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بعض علماء کرام کے ہاں بعض مسائل میں خطاء ہو جائے جیسا کہ شیعہ مصنف نے بطورِ مثال کے کچھ مسائل ذکر کیے ہیں تو (ان ہی علماء کے دوسرے قول میں یا) دیگر علماء کے اقوال میں حق موجود ہوتا ہے تو اس سے ظاہر ہوا کہ اہلِ سنت و الجماعت کا اتفاق کبھی بھی گمراہی پر نہیں ہوا۔ رہ گیا بعض علماء کرام سے بعض دینی مسائل میں خطاء کا سر زد ہوجانا تو ہم اس سلسلہ میں کئی بار وضاحت کر چکے ہیں کہ اس معمولی (یا جزوی) خطاء سے کوئی نقصان نہیں ہوتا جیسا کہ بعض عام مسلمانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں جب کہ شیعہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے ہر وہ مسئلہ جس میں وہ تمام اہلِ سنت کی مخالفت کرتے ہیں اس میں وہ خطاء پر ہوتے ہیں جیساکہ یہود و نصاریٰ ہر اس مسئلہ میں خطاء پر ہیں جس میں وہ مسلمانوں کی مخالفت کر رہے ہیں ۔
شیعہ کا اعتراض ہے کہ ’’یہ مذاہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے زمانہ میں موجود نہیں تھے‘‘
صفحہ 1 از 2