مذاہب اربعہ اور شیعہ اعتراض کا جواب - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

مذاہب اربعہ اور شیعہ اعتراض کا جواب

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 2
جواب: اگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے مذاہب کے اقوال نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نقل نہیں کئے گئے بلکہ ان لوگوں نے نبی کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ کے اقوال کو ترک کر کے اپنی طرف سے بدعات گھڑ لیں تو یہ ایک کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت پر کبھی بھی اہلِ سنت کا اتفاق نہیں ہوا بلکہ تمام اہلِ سنت اپنے اقوال و آراء میں صحابہ کرامؓ کے پیروکار ہیں اگر یہ بات مان لی جائے کہ بعض اہلِ سنت و الجماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کا علم نہ ہونے کی بنا پر مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں تو پھر ایسے بھی ہے کہ باقی اہلِ سنت صحابہ کرامؓ کی اتباع پر متفق ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والے کی غلطی سے اس کو آگاہ کر رہے ہیں (اور اس کو غلطی مان رہے ہیں) اگر شیعہ کے اعتراض سے مراد یہ ہے کہ ان مذاہبِ اربعہ کے آئمہ نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں موجود نہیں تھے تو اس میں کوئی ایسی ممانعت کی بات نہیں ہے اس لیے کہ ہر آنے والے زمانے کے لوگ پہلے لوگوں کے بعد ہی آتے ہیں 
شیعہ کا اعتراض’’انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال کو ترک کر دیا ۔‘‘
جواب: یہ ایک من گھڑت جھوٹ ہے بلکہ ان مذاہب کے ماننے والوں کی کتابیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اور ان سے استدلال سے بھری پڑی ہیں اگرچہ ان میں سے بعض مذاہب کے پاس ایسی روایات ہیں جو دوسرے فرقہ کے پاس نہیں ہیں اور اگر شیعہ مصنف کے اعتراض سے مراد یہ ہو کہ یوں نہیں کہتے یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے وغیرہ تو اس کا سبب یہ ہے کہ ان آئمہ میں سے کسی ایک نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال جمع کیے اور پھر ان سے مسائل کا استنباط کیا، اس بنا پر ان اقوال کو ان آئمہ کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔ جس طرح کتب حدیث کو ان کے جامعین مثلاً امام بخاری و مسلم اور ابو داؤد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، بعینہ اسی طرح مختلف قرأتوں کو ان آئمہ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے جنھوں نے وہ قرأت اختیار کی تھیں، جیسے کہ نافع اور ابنِ کثیر وغیرہ
غالب طور پر ان آئمہ کرام رحمہم اللہ کے اقوال سابقین سے منقول ہیں۔ بعض کے ہاں ایسے بھی کچھ اقوال پائے جاتے ہیں جو کہ متقدمین سے منقول نہیں ہیں لیکن انہوں نے یہ اقوال ان ہی اصولوں کی بنیاد پر استنباط کیے ہیں، اس سے ان کے اقوال میں موجود غلطی واضح ہو گئی۔ یہ سب کچھ دین کی حفاظت کے لیے ہوا ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ اس صفت کے اہل ہو جائیں جس میں ارشاد فرمایا ہے 
يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ ۞(سورۃ التوبة: آیت، 71)
ترجمہ: ’’وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔‘‘
پس جب بھی کسی سے بھول کر یا عمداً غلطی واقع ہوئی تو دوسرے علماء کرام نے اس پر آگاہ کیا اور اس غلطی پر رد کیا۔ علمائے کرام رحمہم اللہ کا مرتبہ انبیاء علیہم السلام سے بڑھ کر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَدَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِى الۡحَـرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ‌ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَ ۞فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ‌‌ وَكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا‌ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ‌ وَ كُنَّا فٰعِلِيۡنَ ۞
ترجمہ: ’’اور داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو یاد کیجئے جبکہ وہ کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر گئی تھیں اور ان کے فیصلے میں ہم شاہد تھے۔ ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا۔ہم نے ہر ایک کوحکمت و علم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی اور ہم ایسا کرنے والے ہی تھے۔‘‘
صحیحین میں ثابت ہے کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’جب نبی کریمﷺ جنگِ احزاب سے واپس ہوئے تو ہم لوگوں سے فرمایا: ’’کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ میں پہنچ کر۔ ‘‘چنانچہ لوگوں کے راستہ میں ہی نمازِ عصر کا وقت ہو گیا، تو بعض نے کہا کہ ہم نماز نہیں پڑھیں گے جب تک کہ وہاں (بنو قریظہ) تک پہنچ نہ جائیں اور بعض نے کہا کہ ہم تو نماز پڑھیں گے اور آپﷺ کا مقصد یہ نہ تھا کہ ہم قضاء کریں اور بعض نے بنو قریظہ میں پہنچ کر غروبِ آفتاب کے بعد نماز پڑھی۔ جب اس کا ذکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا تو آپﷺ نے کسی کو ملامت نہ کی۔‘‘
(البخاری:جلد، 5 صفحہ، 112 کتاب المغازِی: باب مرجع النبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الأحزاب: جلد، 2 صفحہ، 15 کتاب صلاۃ الخوف: باب صلاۃ الطالب والمطلوب راکبا وإیمائ: مسلم: جلد، 3 صفحہ، 1391 کتاب الجہاد والسیر: باب المبادر بالغزو: وفیہ: أن لا یصلِین أحد الظہر إِلا فِی بنِی قریظۃ۔)
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مجتہدین کا نبی کریمﷺ کا کلام سمجھنے میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی گنہگار نہیں ہوتا۔
اس پر مزید یہ کہ اہلِ سنت نے یہ کبھی نہیں کہا کہ آئمہ اربعہ کا اجماع ایک بے خطا دلیل ہے اور نہ ہی کسی نے یہ کہا ہے کہ حق ان کے اقوال کے دائرہ میں محدود و محصور ہو کر رہ گیا ہے جو بات ان سے خارج ہے وہ باطل ہے۔ (مجتہدین کے یہاں جو نزاع و اختلاف پایا جاتا ہے، وہ صرف کلامِ رسول اللہﷺ کے فہم و ادراک کے بارے میں ہے اور بس!) بلکہ اگر ان آئمہ کے متبعین کے علاوہ کوئی دوسرا جیسا کہ سفیان الثوریؒ، اوزاعیؒ، لیث، سعد اور ان سے پہلے یا ان کے بعد والے مجتہدین اگر کوئی ایسی بات کہیں جو ان آئمہ اربعہ کے اقوال کے خلاف ہو تو اس معاملہ کو کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جائے گا اور ان میں سے راجح قول وہی تصور ہو گا جس پر دلیل قائم ہو گی۔

صفحہ 2 از 2