اہل تشیع کی گواہی
علی محمد الصلابیاہل تشیع گواہی دیتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حفاظت کی، ان کی تکریم اور ان کی شان و عظمت کا اعتراف کیا۔ ابن ابی الحدید لکھتا ہے:
’’امیر المومنین(علی رضی اللہ عنہ ) علیہ السلام نے اس کی تکریم کی اس کی حفاظت کی اور اس کی عظمت و شان بیان کی اور جو پسند کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سلوک کا مطالعہ کرے تو اسے کتب سیر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔‘
‘(شرح نہج البلاغۃ: جلد 17 صفحہ 254)
مزید لکھتا ہے:
’’ تمھیں بخوبی معلوم ہے کہ عائشہ( رضی اللہ عنہا) سے کیا غلطی ہوئی، چنانچہ جب علی رضی اللہ عنہ کو اس پر غلبہ حاصل ہوا تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کی تکریم کی اور بنو عبد القیس کی بیس سرکردہ خواتین اس کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ کیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سب کی دستار بندی کی اور انھیں تلواروں سے مسلح کیا۔‘‘
( درء التعارض العقل مع النقل لابن تیمیۃ: جلد 1 صفحہ 40)