تیسرا بہتان
علی محمد الصلابیاہل روافض کہتے ہیں کہ ’’عائشہ فاطمہ رضی اللہ عنہما سے اس قدر ناراض ہوئی کہ بالآخر وہ رونے لگی۔‘‘
مزید روافضہ کا کہنا ہ : ’’عائشہ فاطمہ رضی اللہ عنہما پر اس قدر غضبناک ہوئیں کہ ثانی الذکر رونے پر مجبور ہو گئیں اور اس کا بنیادی سبب عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ بغض و کینہ تھا جو وہ اہل بیت کے خلاف رکھتی تھیں۔‘‘
صدوق نے کہا:
’’ہمیں محمد بن حسن بن احمد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بواسطہ محمد بن حسین صغار، اس نے بواسطہ احمد بن محمد بن خالد، اس نے بواسطہ ابو علی الواسطی اس نے عبداللہ بن عصمہ، اس نے بواسطہ یحییٰ بن عبداللہ، اس نے بواسطہ عمرو بن ابی المقدام، اس نے اپنے باپ سے اس نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر آئے تو دیکھا کہ عائشہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو سخت ڈانٹ رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں: اللہ کی قسم! اے خدیجہ کی بیٹی! تو کیا سمجھتی ہے کہ تیری ماں کو ہمارے اوپر کچھ فضیلت حاصل ہے اور اسے ہم پر کیا فضیلت حاصل ہو سکتی ہے، وہ کیا تھیں، ہم جیسی ہی ایک عورت تھیں۔ فاطمہ نے عائشہ کی باتیں سنیں جب فاطمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا: عائشہ نے میری ماں کی تنقیص کی تو میں رو پڑی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی غصے میں آ گئے اور فرمایا: اے حمیراء! رک جا، بے شک اللہ تعالیٰ نے اولاد دینے والی اور محبت کرنے والی عورت کو مبارک بنا دیا۔ بے شک خدیجہ نے میرے لیے طاہر، عبداللہ، مطہر اور قاسم، فاطمہ، رقیہ، ام کلثوم اور زینب کو جنم دیا اور تو ان عورتوں میں شامل ہے جن کے رحم کو اللہ تعالیٰ نے بانجھ بنا دیا۔ لہٰذا تو کوئی بچہ نہ جن سکی۔‘‘
(الخصال للصدوق: صفحہ 404، 405۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 16 صفحہ 3)
ایک غالی معاصر رافضی (اسے یاسر یحییٰ عبداللہ حبیب کہا جاتا ہے۔ یہ ایک کینہ پرور رافضی ہے۔ 1979ء میں کویت میں پیدا ہوا۔ کویتی اداروں نے اسے صحابہؓ پر سب و شتم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ پھر مئی 2004 میں اسے دس سال قید سخت کی سزا سنائی۔ یہ تین ماہ جیل میں رہا پھر اسے رہا کر دیا گیا اور غیر قانونی طور پر یہ نقل مکانی کر کے عراق چلا گیا اور پھر وہاں سے ایران چلا گیا۔ پھر برطانیہ آ کر شہریت لے لی اور وہاں اس نے وفات عائشہ رضی اللہ عنہا کے دن کی مناسبت سے ایک محفل منعقد کی۔اس ملعون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جہنمی ہونے پر باقاعدہ مباہلہ بھی کیا ہے۔ جو کہ یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے لعنتیوں کی وجہ سے معاشرے میں فرقہ وارانہ تشدد روز بروز بڑھ رہا ہے۔) لکھتا ہے: ’’کیا میں اس (عائشہ) کا تذکرہ اس لیے کروں کہ اس نے تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار (سیدہ فاطمہ) کو اس قدر اذیت پہنچائی کہ وہ رو پڑی۔‘‘
(یو ٹیوب سے ویب سائٹ پر یہ واقعہ ’’احتقال لدخول عائشۃ النار‘‘ کہ عائشہ کے جہنم میں داخلے کا جشن نامی کلپ سے نقل کیا گیا۔)
اب ہم اس الزام اور بہتان کا علمی و عقلی اور الزامی ہر طرح سے ردّ کرتے ہیں:
1۔ یہ روایات رافضیوں کی تلبیسات میں سے ایک ہے اور دوسرے مردود جھوٹوں کی طرح یہ روایت بھی ایک مردود اور جھوٹے افسانے پر مبنی ہے۔ جو اہل سنت اور بعض رافضیوں کے نزدیک بھی مردود ہے۔
اہل سنت کے میزان میں تو یہ واضح امر ہے کیونکہ وہ رافضیوں کی روایات کا اعتبار ہی نہیں کرتے اور شیعہ کے میزان کے مطابق بھی اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں دو راوی مجہول ہیں م۔
الف: عبداللہ بن عصمہ: ایک شیعی ناقد علی نمازی شاہرودی نے لکھا: ’’ہمارے ائمہ نے عبداللہ بن عصمہ کا تذکرہ نہیں کیا۔‘‘
(مستدرکات علم رجال الحدیث لعلی نمازی شاہرودی: جلد 5 صفحہ 55+
ب: ابو علی الواسطی: محمد جواہری نے لکھا: ’’ابو علی واسطی مجہول ہے۔ الکافی میں اس کی دو روایات ہیں۔‘‘
(المفید من معجم رجال الحدیث لمحمد الجواہری: صفحہ 414)
اور اس کے متعلق غلام رضا عرفانیان لکھتا ہے: ’’ابو علی الواسطی سے کوئی روایت مروی نہیں۔‘‘
(مشائخ الثقات لغلام رضا عرفانیان: صفحہ 92)
ج: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صرف محبت اور اچھی تعریف ہی ملی ہے۔ جیسا کہ روافض کی اپنی کتابوں میں بکثرت احادیث موجود ہیں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منقبت میں مروی ہیں اور یہ روایات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہیں جن میں سے کچھ روایات گزشتہ صفحات کتاب پر نقل ہو چکی ہیں۔
(جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے)
جو سیدہ عائشہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی باہمی محبت کی بہت مضبوط دلیل ہیں۔
ایک معاصر شیعی مصنف جعفر ہادی (جعفر ہادی موجودہ زمانے کا ایک شیعی مصنف ہے۔) نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’السیدۃ فاطمۃ الزہراء علی لسان عائشۃ زوجۃ رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ‘‘ ہے، یعنی ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی سیدہ فاطمہ زہرا کے مناقب مصنف نے اس کتاب میں چالیس کے لگ بھگ احادیث جمع کی ہیں جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں۔
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رافضیوں کے بقول سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بغض رکھتی تھیں تو وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل پر مشتمل احادیث کیوں روایت کرتی ہیں اور ان احادیث کو صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہی کیوں روایت کیا۔
لہٰذا حق وہی ہے جس کی گواہی دشمن بھی دیتے ہیں۔ سبحان اللہ! جب شر نرا شر ہو تو مستقبل قریب میں وہ ضرور فنا ہو کر رہے گا۔
جس طرح عربی کہاوت ہے: من فمک ادینک میں تیری زبان کی تصدیق کرتا ہوں اور اعتراف ہی تمام دلیلوں کی سردار ہے۔ چنانچہ رافضیوں نے اپنے دعویٰ کے خلاف خود ہی گواہی دی ہے۔