Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا بہتان

  علی محمد الصلابی

روافض کا کہنا کہ ’’فاطمہ کی موت سے عائشہ کو ناقابل بیان خوشی حاصل ہوئی۔‘‘ یہ باطل کلام ابن ابی الحدید کا ہے۔

(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 976، 979)

ابو یعقوب یوسف بن اسماعیل لمعانی(یوسف بن اسماعیل بن عبدالرحمٰن ابو یعقوب لمعانی بغداد میں ایک حنفی عالم گزرا ہے۔ حدیث کی سماعت سے فارغ ہوا تو جامع مسجد سلطان میں درس و تدریس کی ذمہ داری لے لی۔ اصول میں یہ معتزلی تھا اور فروعات اور علم مناظرہ میں اس نے مہارت حاصل کر لی۔ 606 ہجری میں وفات پائی۔ (البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر:جلد 13 صفحہ 53) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس جملہ کو رافضی بکثرت حجت بناتے ہیں۔ حالانکہ یہ کلام نہایت ہی بودا ہے، نہ تو روایات اس کی تائید کرتی ہیں اور نہ عقل اسے تسلیم کرتی ہے بلکہ خود روافض کا کلام بھی اس کی موافقت نہیں کرتا۔

علاوہ ازیں یہ کلام اسناد کے بغیر مروی ہے۔ مثلاً لمعانی نے لکھا: اور وہ اصل میں اس مزعومہ کینے پر اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہے، نیز میں اس طرح کے عیوب سے علی علیہ السلام کو بھی بری نہیں سمجھتا کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کی مدح و ثنا کرتے تو وہ (علی) محسوس کرتا کہ یہ (ابوبکر) اس کا اہل نہیں اور وہ (علی) اپنے لیے ایسے امتیازات اور محاسن کی تمنا کرتا اور صرف اسے (ابوبکر کو) ہی نہیں بلکہ وہ اپنے علاوہ سب لوگوں کو ایسے محاسن کا اہل نہیں سمجھتا تھا اور جو شخص کسی انسان سے کینہ رکھتا ہے وہ اس کے اہل خانہ اور اس کی اولاد سے بھی کینہ رکھتا ہے۔ گویا ان مذکورہ دونوں فریقوں (ابوبکر و علی اور عائشہ و فاطمہ) کے درمیان خلش و بغض جیسی کمزوریاں موجود تھیں۔

تو کیا رافضی علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی سوقیانہ باتیں قبول کریں گے؟ اللہ کی قسم! اگر شیعوں کو یہ طرز کلام اچھا لگتا ہے تو لگے لیکن اہل سنت کو اس کے باطل ہونے کے بارے میں ذرہ بھر شک نہیں اور مزید یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان ایسی بکواسات سے بہت بلند ہے۔ پھر وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ افک کے دوران علی، فاطمہ اور عائشہ رضی اللہ عنہم کے متعلق لکھتا ہے: عورتوں نے اس (عائشہ) کے آگے علی اور فاطمہ کے متعلق بہت چغلیاں کھائیں اور یہ کہ ان دونوں نے اعلانیہ اور پوشیدہ دونوں طریقوں سے اس واقعہ افک پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور معاملے کو مزید بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور اس کے گھٹیا پن کو خوب واضح کیا۔

حالانکہ علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ بدگمانی کی انتہا ہے کہ وہ دونوں ایسے معاملے پر خوش ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غم زدہ کر دیا۔ پھر مصنف اپنی ہفوات جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے: اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سسر (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کا دروازہ (اپنے مرض الموت میں) بند کروا دیا اور اپنے داماد (سیدنا علی علیہ السلام ) کا دروازہ کھلا رہنے دیا۔

یاد رہے! تاریخ کا ہر چھوٹا بڑا عالم بخوبی جانتا ہے کہ یہ تحریر باطل ہے اور متواتر اخبار کی مخالف ہے۔

جب سارے کلام کا انداز یہی ہو تو دراصل وہ اپنے قائل کی جہالت اور کم علمی کا انکشاف کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے یہ کہنے پر تعجب کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ جب فاطمہ فوت ہوئیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں بنو ہاشم کے ساتھ تعزیت کرنے کے لیے آئیں، لیکن وہ نہیں آئیں اور اپنے مرض کا بہانہ کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ایسی باتیں بتائی گئیں جو (فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موت پر) ان کی خوشی پر دلالت کرتی تھیں۔ یہ قول بھی دیگر کلام کی طرح نقلی، عقلی اور دینی امانت کے لحاظ سے مردود ہے۔ کسی سند کے ذریعے یہ ثابت نہیں۔

(عائشۃ ام المومنین لہانی عوضین غیر مطبوع۔)