پانچواں بہتان
علی محمد الصلابیروافض کہتے ہیں: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو چھپا لیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ وہ مرنے کے بعد میری وصیت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے امام کے طور پر فائز کریں۔‘‘
اہل تشیع نے مجلسی کی روایت کردہ طویل حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ہونے والی گفتگو منقول ہے۔ اس میں ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں تجھے ایک بات بتاتا ہوں تو اسے اچھی طرح محفوظ کر لے۔ تاآنکہ میں اسے لوگوں میں مشہور کرنے کے متعلق تجھے حکم دوں۔ پس اگر تو نے اس کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت میں تیری بھی حفاظت کرے گا اور اللہ اور اس کے رسول پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں کی فضیلت تجھے حاصل ہو گی اور اگر تو نے اسے ضائع کر دیا اور میں تجھے جو بتانے والا ہوں تو نے اس کا اہتمام نہ کیا تو اپنے رب کے ساتھ کفر کرے گی۔ تیرا اجر ضائع ہو جائے گا اور اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ تجھ سے بری ہو جائے گا اور تو خسارہ پانے والوں سے ہو جائے گی اور تیری اس کوتاہی کا کوئی نقصان اللہ اور اس کے رسول کو ہرگز نہیں ہو گا۔ گویا اس وصیت کی حفاظت، اس پر ایمان اور اس کے نفاذ کے اہتمام کا حکم اس میں موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میری عمر پوری ہو چکی ہے اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے لیے علی کو ایک نشانی دوں، اسے ان کا امام اور اسی طرح اپنا جانشین بنا دوں جس طرح مجھ سے پہلے سب انبیاء اپنے جانشین اور اپنے وصی بناتے تھے۔
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 28 قسم 2، صفحہ 97)
روافض کا دعویٰ ہے کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ وصیت چھپا لی اور ابوبکر کی فضیلت ثابت کرنے والی احادیث وضع کر لیں۔‘‘
اس الزام کا جواب
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت والی احادیث بے شمار ہیں اور امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع واقع ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے افضل ترین فرد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور اس جگہ ہم صرف صحیح بخاری کی ایک روایت پر اکتفا کرتے ہیں جو انھوں نے محمد بن حنفیہ (محمد بن علی بن ابی طالب ابو القاسم قریشی، ہاشمی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخر میں یا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں پیدا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے دیگر افراد کی طرح یہ بھی عالم و فاضل تھا۔ علم و ورع میں بے مثال تھا اور اس کی اکثر روایات سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک متصل السند ہیں۔ یہ بہت بہادر شخص تھا۔ جنگ صفین کے دن اپنے باپ کا جھنڈا اس نے اٹھایا۔ 73 ہجری کے بعد وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 110۔ تہذیب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ، جلد 5 صفحہ 223) (جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے) سے روایت کی ہے کہ میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین کون ہے؟ انھوں نے کہا، ابوبکر، میں نے کہا: پھر کون؟ انھوں نے کہا، پھر عمر، (بقول راوی) میں ڈر گیا (اگر اب میں نے پوچھا تو وہ کہیں گے عثمان) سو میں نے کہا: پھر آپ ہیں؟ میرے والد نے کہا: میں تو ایک عام مسلمان ہوں۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3771)
اسی طرح عبداللہ بن احمد (عبداللہ بن امام احمد بن حنبل ابو عبدالرحمٰن شیبانی 213 ہجری میں پیدا ہوا۔ اپنے وقت میں محدث بغداد کے لقب سے مشہور تھا۔ امام و حافظ حدیث، رواۃ پر نقد و تعدیل کا عالم حازق تھا۔ اپنے والد گرامی سے لاتعداد احادیث روایت کی ہیں۔ جن میں سے ’’مسند احمد بن حنبل مکمل اور امام احمد ہی کی تصنیف ’’الزہد‘‘ اسی سے مروی ہے اور ان دونوں کتابوں میں عبداللہ بن احمد نے اپنی سنی ہوئی متعدد روایات شامل کی ہیں۔ 290 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 13 صفحہ 516۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 95۔) کی وہ حدیث جو اس نے ’’زوائد المسند‘‘ میں روایت کی ہے۔ اس نے حسن بن زید بن حسن بن ابی طالب کی سند سے روایت کی کہ مجھے میرے باپ نے بواسطہ اپنے باپ اس نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا تو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وہاں آ گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہ دونوں جنت میں انبیاء و مرسلین کے بعد تمام جوانوں اور پختہ عمر (اسے عبداللہ بن احمد نے مسند: جلد 1 صفحہ 80 حدیث نمبر: 602 پر روایت کیا اور احمد شاکر نے المسند کی تحقیق کرتے ہوئے اس روایت کی اسناد کو صحیح کہا۔ جلد 2، صفحہ 38 اور البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 2 صفحہ 323 پر اس کی سند کو حسن کہا۔) کے اہل جنت کے سردار ہیں۔
(لسان العرب: جلد 11 صفحہ 600 پر ابن منظور نے لکھا: الصحاح میں ہے کہ الکہل ان مردوں پر بولا جاتا ہے جو تیس برس اپنی عمر کے پورے کر کے آگے بڑھنا شروع ہو جائیں اور ابن الاثیر نے النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 4 صفحہ 213 پر لکھا: مردوں میں سے ’’الکہل‘‘ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی عمر کے تیس برس پورے کر کے چالیسویں سال کی طرف بڑھ رہا ہو۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں ’’الکہل‘‘ سے مراد اصحاب حلم و وقار ہیں۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اہل جنت کو ایسی حالت میں لے جائے گا کہ وہ پختہ عقل والے اور حلماء تجربہ کار بن کر جائیں گے۔
خلاصۂ بحث یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق شیعوں کا یہ کہنا کہ اس نے اپنے باپ ابوبکر صدیق کی فضیلت والی احادیث وضع کیں۔‘‘تو جس کے پاس معمولی عقل اور ابتدائی دینی معلومات ہوں گی اسے اس روایت کے باطل ہونے میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہو گا اور جہاں تک ان کی اس حدیث کا تعلق ہے تو یہ درحقیقت ساقط یعنی عدیم السند ہی نہیں عدیم المتن بھی ہے۔
اسے نقل کرنے سے پہلے مجلسی نے تحریر کیا: یہ حدیث علامہ الحلی نے اپنی کتاب ’’کشف الیقین‘‘ (137) پر ابن الاثیر کی کتاب ’’حجۃ التفاضیل‘‘ سے درج ذیل سند کے ذریعے سے نقل کی، محمد بن حسین واسطی نے ابراہیم بن سعید سے اس نے حسن بن زیاد انماطی سے، اس نے محمد بن عبید انصاری سے، اس نے ابو ہارون عبدی سے، اس نے ربیعہ سعدی سے، اس نے کہا: حذیفہ، عثمان کی طرف سے مدائن کا گورنر تھا۔ اس نے طویل روایت نقل کی۔ 1 ھ۔
ہم اس روایت پر کچھ گفتگو کرتے ہیں۔ اس روایت کے باطل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں ایک راوی ہارون عبدی عمارہ بن جوین ہے، جس کے متعلق امام بخاری نے کہا: یحییٰ بن قطان نے اسے متروک کہا۔ امام احمد نے کہا: یہ بے وزن ہے۔ دوری نے ابن معین کا قول نقل کیا کہ ان کے نزدیک اس کی حدیث کی تصدیق نہیں کی جاتی اور اس کے پاس ایک صحیفہ تھا جس کے بارے میں وہ کہتا: ’’یہ وحی والا صحیفہ ہے۔‘‘ امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا: یہ متروک الحدیث ہے اور دوسری جگہ اس نے کہا: یہ ثقہ نہیں اور اس کی حدیث نہ لکھی جائے اور شعیب بن حرب نے شعبہ کا قول نقل کیا: ’’اگر مجھے گرفتار کر کے میری گردن مار دی جائے تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ میں اس (ہارون عبدی) سے حدیث لوں۔‘‘
خالد بن حراش نے حماد بن زید کا قول نقل کیا: ’’یہ کذاب ہے صبح کو کچھ بیان کرتا ہے اور شام کو کچھ اور۔‘‘
جوزجانی نے کہا: یہ کذاب و مفتری ہے اور حاکم ابو احمد نے کہا: یہ متروک ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: ’’یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے۔ عقیدہ میں خارجی اور عملی طور پر شیعہ ہے۔‘‘
ابن حبان نے کہا: ’’ابو سعید سے ایسی احادیث بیان کرتا ہے جو اس کی نہیں ہوتیں۔ بطور تعجب و عبرت کے علاوہ اس کی حدیث لکھنا جائز نہیں۔ ابراہیم بن جبیر نے ابن معین کا قول نقل کیا کہ یہ غیر ثقہ اور کذاب تھا۔ ابن علیہ نے کہا: یہ جھوٹ بولتا تھا۔ یہ قول حاکم نے اپنی ’’التاریخ‘‘میں نقل کیا اور شعبہ نے کہا: اگر میں چاہوں تو ابو ہارون ابو سعید سے ہر وہ بات سنا دوں جو اس نے اہل واسط کو رات میں کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
اسے ساجی اور ابن عدی نے روایت کیا۔ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا: ’’ائمہ جرح کا اس پر اجماع ہے کہ اس (ہارون عبدی) کی روایت کردہ احادیث ضعیف ہوتی ہیں۔ ‘‘
(تہذیب التہذیب لابن حجر: جلدں7 صفحہ 362۔)
مجموعی طور پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت صحیح ہونے پر اجماع ہے۔ اس میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ بلکہ رافضی لوگ ایسی روایات نقل کرتے ہیں جن کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی امامت کے صحیح ہونے کی یہی دلیل بیان کی کہ میں اسی طریقہ سے خلیفہ بنا ہوں جس طریقہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تھے جس طرح رضی ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو خط معاویہ کی طرف لکھا اس میں یہ جملے بھی تھے کہ میری بیعت انھیں لوگوں نے انہی چیزوں پر کی جنھوں نے ابوبکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی۔ لہٰذا یہاں کسی حاضر و موجود شخص کو میری بیعت نہ کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی کسی غیر حاضر شخص کو بیعت ردّ کرنے کا اختیار ہے۔ کیونکہ شوریٰ مہاجروں اور انصاریوں پر مشتمل ہے۔ اگر وہ کسی آدمی پر اکٹھے ہو جائیں اور اسے امام کہنے لگیں تو اسی میں اللہ کی رضا ہے اور اگر کوئی باغی کسی عیب یا بدعت کا دعویٰ کر کے بغاوت کر دے تو تمام مہاجرین و انصار اسے اس کی بغاوت سے واپس لائیں گے اور اگر وہ انکار کر دے تو اس کا مومنوں کی راہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے اس سے قتال کریں گے اور اللہ تعالیٰ اسے اسی طرف پھیر دے گا جس طرف وہ خود پھر گیا۔ 1 ھ
اسی لیے ابن ابی الحدید نے ’’شرح نہج البلاغۃ‘‘ میں اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے۔ اگرچہ وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و شتم کرنے میں سب شیعوں سے آگے ہوتا ہے، وہ لکھتا ہے تمھیں علم ہونا چاہیے کہ امام چننے کے طریقے کی وضاحت کے لیے یہ فصل بالکل صراحت کرتی ہے جیسا کہ ہمارے علماء و ائمہ بیان کرتے ہیں، کیونکہ وہ (علی علیہ السلام) اپنی بیعت کے لیے انہی اہل الرائے اور صاحب مشورہ کے اتفاق کو معاویہ کے سامنے دلیل بنا رہا ہے، جنھوں نے ابوبکر کی بیعت کی تھی اور تمام مسلمانوں کی بیعت اجتماعی طور پر کرنے کو دلیل نہیں بنایا چونکہ ابوبکر کی بیعت میں بھی تمام مسلمانوں کی بیعت کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا، اس لیے کہ ابتدائے امر میں سعد بن عبادہ اور ان کی اولاد و اقارب نے بیعت نہ کی اس طرح علی علیہ السلام اور بنو ہاشم نے ابوبکر کی بیعت نہ کی تھی اور انھوں نے توقف و تامل کیا۔ تو یہ صحیح چناؤ کی دلیل ہے اور امام منتخب کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ چنانچہ علی کی امامت پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی بیعت معاویہ اور اہل شام نے کی تھی۔
جہاں تک امامیہ شیعہ کا تعلق ہے وہ علی علیہ السلام کے اس خط کو تقیہ پر محمول کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس کے لیے ممکن نہ تھا کہ معاویہ کو اپنے دل کی بات بتاتا اور اسے یہ کہتا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے مسلمانوں کا منصوص خلیفہ بلا فصل بن چکا ہوں۔ اس طرح تو گزشتہ خلفاء ثلاثہ پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھل جاتا اور اس کی اپنی بیعت جو اہل مدینہ نے کی تھی وہ فاسد ہو جاتی۔
ابن ابی الحدید کہتا ہے امامیہ کے اس دعویٰ کو اگر کسی دلیل سے مضبوط کیا جاتا تو اسی دعویٰ کو قبول کرنا ضروری تھا۔ لیکن وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کہ علی علیہ السلام کا یہ خط تقیہ کے طور پر تھا اس کی کوئی دلیل نہیں اگرچہ وہ اپنے اصول کے مطابق ہی کہہ رہے ہوں۔ 1 ھ
(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 1458)
بقول مصنّف: کتنی تعجب انگیز بات ہے یہ کون سا تقیہ ہے جو شیعوں کے بقول امیر المؤمنین سے ایسی بات کہلوا رہا ہے جو ان کے نزدیک کفر ہے یعنی ابوبکر اور عمر کی خلافت کے صحیح ہونے کا اصرار و اعلان لیکن یہ اور اس طرح کے دیگر اقوال شیعوں کے اس دعویٰ کے باطل ہونے کی دلیل ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ وصی اور خلیفہ بلافصل ہیں۔ اہل روافض کے نزدیک یہ عقیدہ ان کے دین کا رکن عظیم بلکہ رکن اعظم ہے اور وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی بے شمار آیات ان کے اس دعویٰ کی تائید و تاکید میں اتریں کہ علی وصی رسول اللہ اور خلیفہ بلا فصل ہے لیکن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی آیات کو چھپا لیا۔ اگرچہ وہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں یہ کہا جو رضی نے ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں روایت کیا کہ اس نے کسی صحابی رسول کے متعلق کہا: فلاں شخص کی آزمائشوں پر تعجب ہوتا ہے۔ بے شک اس نے کج رووں (الاود: العوج۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 79) کو سیدھا کر دیا اور دائمی مریضوں (العمد: پیٹھ پر نکلنے والے پھوڑے کو کہتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 3 صفحہ 297۔) کا علاج کیا اور سنت کو قائم کیا اور فتنوں کا قلع قمع کیا۔ وہ جب گیا تو اس کا لباس بے داغ تھا اس کے گناہ قلیل تھے۔ اس نے ہمیشہ بھلائی کے کام کیے اور فتنہ و فساد پر ہمیشہ غلبہ پا لیا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و تقویٰ کا حق ادا کر دیا۔ وہ چلا گیا اور لوگوں کو وادیوں اور گھاٹیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ گیا۔
ابن ابی الحدید لکھتا ہے: ’’رضا کا ’’فلاں‘‘ کہنا عمر بن خطاب سے شدید بغض کی وجہ سے ہے، وہ ان کا نام نہیں لیتا اور کنایۃً ’’فلاں‘‘ لکھتا ہے۔ لیکن میرے پاس رضا ابو الحسن کے ہاتھ سے لکھا ہوا جامع ’’نہج البلاغۃ‘‘ کا ایک نسخہ موجود ہے جس میں ’’فلاں‘‘ کے نیچے ’’عمر‘‘ لکھا ہوا ہے۔
مجھے یہ بات فخار بن معد موسوی اودی شاعر نے بتائی اور میں نے اس لفظ کے متعلق نقیب ابوجعفر یحییٰ بن ابو زید علی سے پوچھا تو اس نے کہا، وہ عمر ہے۔ تب میں نے تعجب سے کہا: کیا امیر المؤمنین نے اس کی یہ ثنا خوانی کی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ایسا ہی ہے۔
(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 224)
البتہ رضا کے جان بوجھ کر عمر کا نام نہ لکھنے پر میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ مزید تعجب اس پر ہے جو خوارزمی (موفق بن احمد بن محمد دراصل مکی ہے۔ ابو المؤید کنیت ہے، خوارزم میں خطیب تھا۔ ادیب، فاضل، شاعر اور فقیہ تھا۔ عربی زبان پر اسے مکمل دسترس حاصل تھی۔ تقریباً 481 ہجری میں پیدا ہوا ’’کتاب المناقب‘‘ اس کی تصنیف ہے۔ خوارزم میں 568 ہجری کو فوت ہوا۔ (انباہ الرواۃ للقفطی: جلد 3 صفحہ 332۔ بغیۃ الوعاۃ للسیوطی: جلد 2 صفحہ 308) نے اس مناقب کے ضمن میں ابو شبیر شیبانی سے روایت کی کہ جب عثمان کو شہید کر دیا گیا تو لوگوں نے علی کے بارے میں اختلاف کیا۔ کچھ کہتے تھے: ہم اس کی بیعت کریں گے ان میں طلحہ، زبیر اور مہاجرین و انصار تھے۔ تب اس نے کہا: مجھے امارت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ تم جسے چاہو چن لو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ بقول راوی لوگ چالیس دن تک اس کے پاس آتے جاتے رہے حتی کہ لوگوں نے اسے خلیفہ بننے پر مجبور کر دیا۔
(کتاب المناقب للموفق الخوارزمی: صفحہ 178۔)
یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بذات خود امارت ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں رضا کی روایت کے مطابق اس کی بیعت خلافت کی تفصیل لکھتے ہوئے وہ روایت کرتا ہے: تم نے میرا ہاتھ پھیلایا تو میں نے اسے بند کر لیا اور تم نے اسے آگے بڑھایا تو میں نے اسے پیچھے ہٹا لیا۔ پھر تم نے مجھ پر اس طرح اژدہام (تداککتم: یعنی تم نے اژدہام کر لیا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 128) کر لیا جس طرح پیاسے اونٹ اپنی باری کے وقت اپنے حوضوں کے گرداگرد اژدہام ( وردہا: پانی کے لیے پیاسوں کا حوض پر آنا۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 3 صفحہ 456۔) کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ (اونٹوں کے) نعل ٹوٹ گئے۔ پالان وغیرہ گر گئے اور کمزور روند دیے گئے۔‘‘
(شرح نہج البلاغۃ لابن ابی الحدید: صفحہ 1331)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ (علی رضی اللہ عنہ ) وصی کیسے ہیں جبکہ وہ شیعہ کی اپنی روایت کے مطابق امامت قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ جو درحقیقت علی رضی اللہ عنہ بطور ورع و تقویٰ کے کر رہے تھے۔ اگرچہ تمام مسلمانوں کا اجماع تھا کہ وہ اس وقت سب لوگوں سے بہتر تھے۔
لہٰذا سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر رافضیوں کی یہ تہمت باطل ٹھہرتی ہے کہ انھوں نے وصیت نامہ چھپا لیا۔ بلکہ یہ روایت ان کی تصدیق و توثیق کرتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ علی رضی اللہ عنہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کب وصیت کی؟ جبکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری لمحات میں آپ کو اپنے سینے کے ساتھ لگایا ہوا تھا یا انھوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا، آپ کی روح میری گود میں قبض ہوئی لیکن مجھے پتا نہ چلا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (علی رضی اللہ عنہ ) کے لیے کب وصیت کی؟
(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو میں نے کہا: تو لوگوں پر وصیت کا نفاذ کس طرح فرض ہو گیا یا انھیں کس طرح حکم دیا گیا؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1634۔)
اہل تشیع کے اس بہتان کی دھجیاں ان کی اپنی روایات سے ہی اڑتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیعت علی کے لیے تائید و حمایت کی اور وہ ان کی خلافت کی کبھی مخالف نہ رہیں۔ اس دعویٰ کے دلائل کے طور پر ہم احنف بن قیس کا واقعہ تحریر کرتے ہیں:
’’احنف بن قیس جب مدینہ آیا تو دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ اس نے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور ان دونوں سے اس نے پوچھا: تم دونوں مجھے کس کا ساتھ دینے کا مشورہ دیتے ہو اور تم خود بھی اس پر خوش ہو کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس خلیفہ (عثمان) کو شہید کر دیا جائے گا؟ ان دونوں نے کہا: تم علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل جاؤ۔ پھر احنف نے کہا: کیا تم دونوں مجھے یہی مشورہ دے رہے ہو اور کیا تم اس پر خوش ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہاں ! پھر احنف مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ پہنچ گیا۔ جب وہ مکہ پہنچا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر اسے مل گئی۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے ان کی طرف چل دیا: جو ان دنوں
حج کے لیے مکہ آئی ہوئی تھیں۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیں گی؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تو علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لے۔ احنف نے کہا: کیا آپ مجھے یہ مشورہ دے کر خوش ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر احنف نے کہا: میں سفر حج سے واپسی پر علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں ملا اور ان کی بیعت کر لی۔ پھر میں بصرہ لوٹ آیا اور میری سمجھ کے مطابق معاملہ حل ہو چکا تھا۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 34 اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح کہا: (فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38۔)
امام ابن حزم رحمہ اللہ مذکورہ لوگوں کی اپنی خوشی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کے متعلق لکھتے ہیں:
’’اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ان میں سے کسی نے بھی علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کو نہیں توڑا اور نہ ان پر کوئی عیب لگایا اور نہ ہی انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کی کوئی ایسی خطا بیان کی جس سے وہ خلافت سے محروم ہو جاتے اور نہ ہی انھوں نے کسی اور کو امام بنایا اور نہ کسی اور کی امامت کی انھوں نے تجدید کی۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مذکورہ باتوں میں سے کوئی بات کسی کی طرف منسوب کر دے۔‘‘
(الفصل فی الملل و الاہواء و النحل لابن حزم: جلد 4 صفحہ 153)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں مہلب (مہلب بن احمد بن ابی صفرہ ابو القاسم اندلسی مالکی، عالم، فقیہ، محدث اور صاحب معرفہ و ذکاء تھا۔ اندلس میں صحیح بخاری کی ترویج اسی نے کی۔ مریہ نامی علاقے کا قاضی بھی رہا۔ اس کی تصنیفات ’’شرح البخاری‘‘ اور ’’التصحیح فی اختیار الصحیح‘‘ ہیں۔ 435 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 17 صفحہ 579۔ تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 29 صفحہ 422۔) کا قول نقل کیا:
’’یہ تاریخی حقیقت ہے کہ عائشہ اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے ان میں سے کسی نے بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلافت میں کبھی اختلاف نہیں کیا اور نہ ان میں سے کسی نے کسی اور کو خلیفہ بنانے کی بات کی۔‘‘
(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 56)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’البتہ جو جاہل رافضی اور غبی قصہ گو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی وصیت کی بات کرتے ہیں تو یہ نرا افتراء، جھوٹا فسانہ اور بہتان ہے۔ اس سے تمام صحابہ کرامؓ پر خیانت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے نفاذ میں کوتاہی لازم آتی ہے اور جس شخص کے لیے وصیت کی گئی تھی اس تک بحفاظت اور بطور امانت نہ پہنچانا اور مطلوبہ شخص کے علاوہ کسی اور کو اس منصب پر فائز کر دینا جس کا کوئی معنیٰ تھا اور نہ کوئی سبب۔ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اور اس کا عقیدہ راسخ ہو کہ سچا دین اسلام ہے، وہ اس افتراء کے بطلان کو بخوبی جانتا ہے کیونکہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء و رسل کے بعد تمام مخلوق سے بہترین لوگ ہیں اور ان کا زمانہ اس امت کا بہترین زمانہ تھا جو کہ نص قرآنی اور سلف و خلف کے اجماع کے مطابق تمام امتوں سے دنیا و آخرت میں افضل ہیں اور تمام تعریفات کے لائق و مستحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 34 اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح کہا: (فتح الباری: جلد 13 صفحہ 38۔)