Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

اہل روافض کہتے ہیں کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ قبطیہ پر زنا کی تہمت لگائی تب آیت افک نازل ہوئی۔‘‘ اس شبہ کو ثابت کرنے کے لیے شیعوں کے متعدد انداز ہیں:

پہلا انداز:

واقعہ افک میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آسمانی و قرآنی برأت کا انکار کرنا۔ اکثر رافضیوں نے اس کا انکار کیا۔ وہ کہتے ہیں یہ اہل سنت کا قول ہے، چنانچہ ان کے نزدیک اہل سنت کی روایت مردود ہونے پر ان کا اجماع ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی خبر متناقض دو سندوں کے ساتھ ان کے ائمہ سے مروی ہو، اور ان دو سندوں میں سے ایک اہل سنت کے مذہب کے موافق ہو تو اس خبر کو چھوڑ دیا جائے گا جو اہل سنت کے مذہب کے موافق ہو۔ کیونکہ احتمال ہے کہ وہ تقیہ کی وجہ سے روایت کی گئی ہو۔ اسی بنیاد پر اکثر شیعہ سورۃ النور کی وہ آیات جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں نازل ہوئیں ان کو نہیں مانتے۔ کیونکہ یہ اہل سنت کا قول ہے۔ البتہ اہل تشیع کہتے ہیں کہ ’’جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ قبطیہ پر زنا کی تہمت لگائی تو یہ آیات ماریہ قبطیہ کی برأت کے لیے نازل ہوئیں۔‘‘

(الصراط المستقیم للبیاضی: جلد 3 صفحہ 182 )

موجودہ زمانے کے کچھ رافضیوں نے واقعہ افک کو مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی ہے، ان میں سے ایک جعفر مرتضیٰ حسینی(جعفر بن مرتضیٰ حسین العاملی۔ معاصرین میں سے ہے۔ 1364 ہجری میں پیدا ہوا۔ نجف میں تعلیم حاصل کی پھر ایران کے شہر قم چلا گیا، پھر اپنے جائے ولادت کوہ عامل جو لبنان میں واقع ہے 1413 ہجری میں وہاں چلا گیا۔ اس کی تصنیفات ’’مأسأۃ الزہراء‘‘ اور ’’بیان الائمۃ فی المیزان‘‘ ہیں) ہے۔ 

اس نے ’’حدیث الافک‘‘ نامی ایک کتاب لکھی اور اس نے یہ کتاب ’’حدیث الافک‘‘ واقعہ افک کو مشکوک قرار دینے کے لیے لکھی۔ اس نے اپنی یہ مذموم کوشش کتاب کے شروع سے لے کر آخر تک جاری رکھی۔ متعدد وسائل و خود ساختہ جھوٹے دلائل سے واقعۂ افک کو غیر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کبھی تو اہل سنت کے راویوں پر جرح و طعن کیا، اس خیال سے کہ اس حدیث میں تناقض اور اضطراب پیدا کر سکے اور کبھی سند کو ضعیف کہا، لیکن ضعف کا سبب بیان نہیں کیا، یا اس طرح کی دیگر موشگافیاں اور کٹ حجتیاں سامنے لاتا رہا۔

(حدیث الافک لجعفر مرتضی حسینی)

جنھوں نے واقعہ افک کا انکار کیا ان میں سے ہاشم معروف الحسنی(ہاشم معروف الحسنی کوہ عامل لبنان کا ایک شیعہ عالم ہے۔ 1337 ہجری میں پیدا ہوا۔ جعفری سپریم کورٹ لبنان کا جج رہا۔ اس کی تصنیفات ’’سیرۃ الائمۃ اثنا عشر‘‘ اور ’’الوصایا و الاوقاف‘‘ ہیں۔ 1403 ہجری میں فوت ہوا۔ (دلیل جنوب لبنان' صفحہ 130) بھی ہے۔ اس نے اپنی کتاب ’’سیرۃ الائمۃ الاثنی عشرہ‘‘ میں اپنا انکار تحریر کیا۔

(سیرۃ الائمۃ الاثنٰی عشر: جلد 1 صفحہ 438)

ان دو کے علاوہ بھی ہیں جنھوں نے واقعہ افک کا انکار کیا۔

درج بالا بہتان کا ردّ:

اہل روافض کے عائشہ رضی اللہ عنہا کی واقعہ افک سے برأت کا انکار اور اس قصہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کرنا ان کے اپنے ائمہ اور علماء کے اقوال و اعترافات کا انکار اور رافضیوں کے آپس میں لا محدود تناقض کو ظاہر کرتا ہے۔ دیگر علماء و ائمہ نے صراحت کے ساتھ واقعہ افک اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بہتان سے برأت کے نزول کا اقرار و اعتراف اور کھلم کھلا اعلان کیا ہے۔ نیز شیعہ علماء نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جو لوگ اس واقعہ افک پھیلانے کا سبب بنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حد قذف جاری کی۔ جو روافض واقعہ افک کا اقرار کرتے ہیں وہ اس واقعہ سے عائشہ اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان عداوت کی موجودگی کی دلیل لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان عداوت اس وقت سے ہے۔

(الجمل للمفید: صفحہ 219۔ تلخیص الشافی للطوسی: صفحہ 468۔ مناقب آل ابی طالب لابن شہر آشوب: جلد 1 صفحہ 201۔ الصوارم المہرقۃ للتستری: صفحہ 105 اور اسی کی کتاب احقاق الحق: صفحہ 284۔ الدرجات الرفیعہ للشیرازی: صفحہ 25۔ الفصول المہمۃ للموسوی،: صفحہ 156۔ الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ علی ام المومنین عائشۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 112، 114۔ معمولی ردّ و بدل کے ساتھ۔)

بلکہ ان کے کچھ ائمہ تو تاکیداً کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت متواتر امر ہے۔ یہ ضرورتاً معلوم ہے اور جو اس کا انکار کرے گا وہ ضروری اور ثابت شدہ بات کا انکار کرے گا۔ ابن ابی الحدید کہتا ہے:

’’شیعہ میں سے ایک گروہ نے کہا ہے کہ سورۃ النور کی آیات عائشہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئیں بلکہ وہ ماریہ قبطیہ کے متعلق نازل ہوئیں جب اس پر سیاہ فام قبطی غلام کے ساتھ ملوث ہونے کی تہمت لگی اور ان کا یہ انکار کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نزول آیات نہیں ہوا ایسا انکار ہے جو یقینی طور پر متواتر اخبار سے معلوم ہو چکا ہے۔‘‘

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 14 صفحہ 23)

اسی ابن ابی الحدید نے دوسری جگہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت ثابت کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر صفوان بن معطل السلمی کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگا اور یہ مشہور قصہ ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیشہ پڑھی جانے والی اور لکھی جانے والی آیات کے ذریعے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل کی اور جنھوں نے اس پر تہمت لگائی تھی ان کو حد قذف کے کوڑے لگائے گئے۔

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 9 صفحہ 191)

صافی شیعی نے ’’الجوامع‘‘ میں لکھا کہ حدیث الافک کا سبب یہ بنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار گم کر دیا۔ قمی نے کہا: ’’جمہور علماء کے مطابق یہ آیات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئیں اور غزوہ بنی مصطلق جو بنو خزاعہ کے خلاف لڑا گیا اس میں اس پر جو بہتان لگایا گیا۔ انتہٰی‘‘

اگر تو کہے کہ رازی (محمد بن عمر بن حسین ابو المعالی الرازی۔ فخر الدین اس کا لقب ہے۔ علم کلام کا ماہر تھا۔ خوارزم کے بادشاہوں کے پاس اس کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ اس کے لیے مختلف علاقوں میں مدارس بنائے گئے۔ اپنی موت سے پہلے علم کلام سے توبہ کر لی اور سلف کے مسلک پر واپس آ گیا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’مفاتیح الغیب‘‘ اور ’’المحصول‘‘ ہیں۔ 606 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 8 صفحہ 80۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 13 صفحہ 55) وغیرہ نے کہا: مسلمانوں کا اجماع اس بات پر ہے کہ اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا جانے والا بہتان ہے۔ اسی طرح تو نے یہ بھی کہا کہ یہ اجماع ہے۔ پھر تو نے کہا :یہ قصہ ماریہ قبطیہ کا ہے جب اس پر بہتان لگایا گیا۔ تو یہ تناقض اقوال کیوں ہے؟ اس فرقے کی مخالفت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یا تو انھیں اس واقعہ کی حقیقت معلوم نہیں یا انھوں نے اجماع توڑ ڈالا، جبکہ اجماع توڑنا جائز نہیں، یا اس فرقے کی بات غیر معتبر اور شاذ ہے، کیونکہ وہ جمہور شیعہ کی مخالف ہے کہ جنھوں نے تمام مسلمانوں کے مذہب کو تقویت بہم پہنچائی۔

صافی نے اپنی مذکورہ تفسیر میں اشارہ کیا کہ یہ قول نہایت واہیات ہے۔ وہ کہتا ہے: اگر یہ خبر صحیح ہو۔ الخ۔ اس کا یہ کہنا بظاہر اس قول کے ضعف کی طرف اشارہ ہے اور شیعہ کے اپنے علماء کے نزدیک بھی یہ قول معتمد علیہ نہیں۔

(الحصون المنیعۃ فی براء ۃ عائشۃ الصدیقۃ باتفاق اہل السنۃ و الشیعۃ لمحمد عارف الحسینی: صفحہ 21)

روافض کا بہتان باطل ہونے کی پہلی دلیل کافی ہے کہ سورۃ النور کی مذکورہ دس آیات جو اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌۞(سورۃ النور آیت 11) سے شروع ہوتی ہیں کہ یہ ماریہ کی برأت میں نازل ہوئی تھیں جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر زنا کی تہمت لگائی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بہتان سے پاک ہے۔ یہ کہ واقعہ افک اور ان آیات کا نزول غزوہ بنی مصطلق میں ہوا جو چار یا پانچ یا چھ ہجری کا واقعہ ہے۔ مختلف اقوال کی بنیاد پر اور راجح قول پانچ ہجری ہے اور مقوقس والی مصر نے ماریہ قبطیہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سال بھیجا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں اور قبیلوں کے سرداروں کو اسلام قبول کرنے کے لیے خطوط لکھے۔ جو سات یا آٹھ ہجری اور راجح قول کے مطابق آٹھ ہجری ہے اور یہ خطوط غزوہ بنی مصطلق کے تین سال بعد کا واقعہ ہے کہ جس غزوے میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا گیا اور اس کی صحیح و راجح تاریخ ابھی ابھی بیان ہوئی ہے۔ گویا عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں آیات کا نزول ماریہ قبطیہ کے آنے سے تین سال پہلے کا واقعہ ہے۔ تو تین سال پہلے ماریہ کی شان میں قرآن کیونکر نازل ہوا جبکہ وہ مصر میں اپنے آباء و اجداد کے دین پر تھی اور وہ مصر میں تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ میں تھی اور درمیان میں صحرا، سمندر اور پہاڑ حائل ہیں تو رافضیوں کے دعویٰ کے مطابق عائشہ نے ماریہ پر بہتان کیسے لگا دیا۔ چنانچہ قرآن و سنت ہی نہیں تاریخی و زمینی حقائق بھی رافضیوں کو رسوا کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اجماع امت بھی رافضہ کے ذلیل و خوار ہونے پر دال ہے اور تمام رسولوں سے افضل اور اکرم علی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بہتان تراشیوں کا ردّ کر رہے ہیں اور ان کے مکر و فریب، کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔ دنیا اور تاریخی گواہی کے مطابق خاتم الانبیاء کا گھرانہ تمام گھروں سے افضل و اشرف اور اطہر ہے۔

(غیر مطبوعہ مقالہ امنا عائشۃ ملکۃ العفاف لفدوی الصادق بنکیران)

آئندہ جب ہم واقعہ افک پر گفتگو کریں گے تو ان شاء اللہ وہاں امی عائشہ کے معترضین کی رسوائیوں میں مزید اضافہ کریں گے۔

(دیکھیں : کتاب کے گزشتہ صفحات)

دوسرا انداز:

وہ ضعیف و منکر روایات جو اہل السنہ کی کتابوں میں موجود ہیں ان سے کٹ حجتیاں نکالنا۔

روافض کا یہ معمول ہے کہ اپنے شبہات اور افتراءات کو تقویت دینے کے لیے اہل سنت کی کتابوں میں مروی ضعیف، منکر، موضوع اور منسوخ روایات کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ پھر وہ اہل سنت پر وہ احادیث چپکا دیتے ہیں اور پھر خود ہی ان سے جواب طلب کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا بہتان میں خصوصی طور پر کسی شیعہ نے نہایت ضعیف حدیث سے استدلال کیا، بلکہ وہ روایت سرے سے باطل ہے۔ لیکن اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس لشکر کا سرغنہ عبدالحسین (عبدالحسین بن یوسف شرف الدین العاملی الموسوی تھا۔ فرقہ امامیہ کا فقیہ تھا۔ کوہ عامل کی گھاٹیوں میں یہ 1290 ہجری کو پیدا ہوا۔ نجف میں تعلیم حاصل کی اس کی مشہور ترین تصنیفات میں سے ’’المراجعات‘‘ نامی تصنیف ہے۔ اس کا مواخذہ اس فتویٰ کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ جس میں اس نے عوام کے لیے حسین کی شہادت کے حوالے سے اپنے اجسام کو تلواروں اور زنجیروں سے پیٹنا مباح قرار دیا۔ 1377 ہجری میں صور میں فوت ہوا اور نجف میں دفن ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 279) نامی ایک شیعہ ہے۔ جس نے اپنی کتاب ’’المراجعات‘‘ میں یہ روایت تحریر کی ہے۔

یہ روافض جس روایت پر اعتماد کرتے ہیں وہ اس طرح ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ماریہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ہدیہ بھیجا گیا اور اس کے ساتھ اس کا چچا زاد بھی تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ لڑکا ایک بار ماریہ کے ساتھ ہم بستری کر بیٹھا اور وہ حاملہ ہو گئی۔ عائشہ کہتی ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے چچا زاد کے ساتھ علیحدہ رہائش دے دی۔‘‘

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: ’’بہتان تراشوں اور جھوٹ موٹ کی اڑانے والوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ کو بچے کی ضرورت تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کے بچے پر اپنا دعویٰ کر دیا اور اس کی والدہ کا دودھ بہت کم تھا، اس کی ماں نے اسے دودھ پلانے کے لیے ایک دودھیل بکری خریدی۔ چنانچہ اس بکری کے دودھ پر وہ پلا بڑھا۔ اس پر خوب گوشت آ گیا۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے میرے پاس لے آئے اور فرمانے لگے: تجھے کیسا معلوم ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جسے بکرے کا گوشت کھانے کو ملے اس کا گوشت اچھا ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے ساتھ اس کی مشابہت نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے دیگر عورتوں کی طرح غیرت نے آ لیا۔ بالآخر میں نے کہہ دیا: میں کوئی مشابہت نہیں دیکھتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لوگوں کی باتیں پہنچنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تو یہ تلوار لے جا اور ماریہ کا چچا زاد تجھے جہاں ملے اس کی گردن کاٹ دے۔ وہ چل پڑے، انھوں نے دیکھا کہ مطلوبہ شخص کھجور کے ایک باغ میں درخت سے تازہ کھجوریں توڑ رہا ہے۔ اس نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تلوار کے ساتھ آتا ہوا دیکھا تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی اور اسی پریشانی میں اس کا تہہ بند گر پڑا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا کہ اللہ عزوجل نے اس کے لیے وہ چیز تو پیدا ہی نہیں کی جو مردوں کی خصوصی علامت ہوتی ہے۔ وہاں صرف ایک دھبہ تھا

(المستدرک للحاکم: جلد 4 صفحہ 41 اور اس روایت کو ابن حجرؒ نے ضعیف کہا: دیکھئے: الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 335 اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: جلد 10 صفحہ 700 میں کہا یہ روایت پرلے درجے کی ضعیف ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ اس روایت سے عبدالحسین نے اپنی کتاب ’’مراجعات‘‘ میں قبیح ترین استدلال کیا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور دین پر تہمت لگانے میں اس روایت پر تکیہ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے: 

’’اور تیرے لیے اس بات کی نزاکت کا احساس کرنے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے کہ جب کذاب اور مفتری لوگوں نے سیدہ ماریہ کے جذبات سے فائدہ اٹھا کر اسے اور اس کے بیٹے علیہ السلام کو بہتان اور عداوت کا نشانہ بنایا اور ان کے منہ میں جو کچھ آیا وہ کہہ دیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کے ہاتھوں دونوں کی برأت کا اعلان کروا دیا جو سب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اور سب کا لحاظ کرتے ہوئے کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا قول کتنا سچا ہے:

وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا‌ ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 25)

ترجمہ: اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ 

(المراجعات لعبد الحسین: صفحہ 260، 261)

پھر اپنی مذکورہ بات کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے:

’’جو اس مصیبت کے بارے میں تفصیل جاننا چاہے وہ مستدرک حاکم کی جلد 4 صفحہ 39 میں سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے احوال کے بارے میں روایات کا مطالعہ کرے یا مستدرک للحاکم کی جو تلخیص امام ذہبی رحمہ اللہ نے کی ہے اس کا مطالعہ کر لے۔‘‘

وہ درج بالا عبارت کے ذریعے سے اس منکر روایت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ لیکن روایت کے شدید ضعف کے باوجود اس نے روایت پر اعتماد کو کافی سمجھا بلکہ اس نے اضافی جرم یہ کیا کہ حدیث کو لفظ بلفظ نقل نہیں کیا اور لوگوں کے لیے یہ اس کی تدلیس و تضلیل ہے، کیونکہ اگر وہ روایت کو لفظ بلفظ نقل کر دیتا تو ذرّہ بھر عقل رکھنے والے انسان کے لیے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جو جھوٹ منسوب کیا جا رہا ہے وہ اس سے بالکل بری ہیں۔ جو کہ اس منکر حدیث میں موجود ہے۔

درحقیقت قیامت تک لکھے اور پڑھے جانے والے قرآن کے ذریعے سے اللہ عزوجل نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اعلان کر دیا ہے۔ رافضی مانیں یا نہ مانیں، اس سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ابن شاہین (عمر بن احمد بن عثمان ابو حفص البغدادی ابن شاہین۔ حافظ، عالم شیخ العراق۔ 297 ہجری میں پیدا ہوا۔ ثقہ تھا اس کی مشہور تصنیفات ’’تاریخ اسماء و صفات‘‘ اور ’’ناسخ الحدیث و منسوخہ‘‘ ہے۔ 385 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 431۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 117) نے بھی یہ روایت بواسطہ سلیمان بن ارقم، زہری سے نقل کی۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں بھی ہے۔ اس (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر: جلد 5 صفحہ 519۔) نے کہا: ’’سلیمان ضعیف ہے۔‘‘

(السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی: جلد 10 صفحہ 701، 703)

ہم اس روایت اور اس کے ذریعے سے جو افتراءات لگائے گئے ہیں ان کا متعدد وجوہ سے جواب دیں گے:

1۔ یہ روایت باطل اور نہایت ضعیف ہے۔ اسے کبھی بھی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ یہ حدیث سلیمان بن ارقم کی روایات سے ہے جس کے ضعف پر ائمہ کا اتفاق ہے۔ (تاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 2۔ الضعفاء و المتروکون للنسائی: صفحہ 48۔ الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 4 صفحہ 100۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 4 صفحہ 228۔ و تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 10 صفحہ 18۔ الضعفاء و المتروکون لابن جوزی: جلد 2 صفحہ 16۔ المغنی فی الضعفاء للذہبی: جلد 1 صفحہ 277) بلکہ وہ پرلے درجے کا ضعیف ہے۔

اس حدیث کا ضعف اگرچہ ظاہر و باہر ہے تاہم مستدرک میں حاکم نے اپنے تساہل تصحیح کی وجہ سے اس پر سکوت اختیار کیا۔ اسی طرح مستدرک حاکم کی تلخیص میں ذہبی نے بھی اس پر سکوت کیا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی مشہور کتاب ’’السلسلۃ الضعیفۃ‘‘ میں روایت کی اور کہا یہ بہت ضعیف ہے۔

(السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی: جلد 10 صفحہ 700، حدیث: 4964۔)

2۔ اصل حدیث صحیح و ثابت ہے لیکن اس میں یہ اضافی منکرات نہیں ہیں، اس حدیث میں یہ اضافہ جات ابن ارقم نے کیے ہیں اور اگر یہ کسی بات کی دلیل ہو سکتی ہے تو صرف اس کی کہ اس کا حافظہ بگڑ چکا تھا یا یہ کہ اس نے جھوٹ پر اعتماد کرتے ہوئے اضافے کیے ہیں۔ یہ سب اس نے صرف اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل کی وجہ سے کیا۔ پھر اس کے خواہش پسند پیروکار اسے دلیل بنا لیتے ہیں۔

البتہ اس روایت منکرہ کا اصل متن صحیح مسلم میں ہے۔ چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کی ماں پر کسی آدمی کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس مہم پر مامور کیا کہ تو جا اور اس کی گردن کاٹ کر لے آ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے تو وہ کنویں (رکی:کنواں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 261۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 125) میں غسل کر رہا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: جلدی باہر آ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کھینچ لیا۔ اچانک انھوں نے دیکھا کہ اس کا عضو تناسل کٹا ہوا تھا۔ یعنی اس کے پاس آلۂ تناسل نہیں تھا۔ علی رضی اللہ عنہ اس سے رک گئے۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس آلۂ تناسل نہیں، بلکہ کٹا ہوا ہے۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2771)

تیسرا انداز:

صحیح نصوص میں من گھڑت اضافے شامل کر کے اپنے لگائے گئے بہتانات کی تکمیل کرنا۔

جن معاملات میں شیعوں کو مکر و فریب کی مہارت تامہ حاصل ہے۔ ایک یہ بھی ہے کہ وہ کوئی صحیح روایت لے کر اس میں ایسے اضافے شامل کر دیتے ہیں جن سے وہ پوری نص فاسد ہو جاتی ہے۔ اس سے ان کا مقصد اپنے جھوٹ، فریب اور مکر کی قبولیت ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنی اس جھوٹی روایت کو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کسی آیت کا شان نزول باور کراتے ہیں تاکہ ان کا پھیلایا گیا تلبیس کا جال مضبوط ہو جائے۔ چنانچہ علی بن ابراہیم قمی اپنی تصنیف شدہ تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتا ہے: 

(تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 99)

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌۞(سورۃ النور آیت 11)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے۔

اس نے لکھا:

’’بے شک جمہور (اہل سنت) نے لکھا کہ یہ آیت عائشہ کی شان میں نازل ہوئی۔ جب غزوہ بنی مصطلق میں اس پر تہمت لگائی گئی جو بنو خزاعہ کے خلاف تھی، لیکن خاص لوگوں (اہل تشیع) نے کہا کہ یہ ماریہ قبطیہ کی شان میں نازل ہوئی جب عائشہ نے اس پر تہمت لگائی۔‘‘

پھر علی بن ابراہیم قمی نے اپنی سند کے ساتھ یوں روایت کی:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ کو اس کا شدید صدمہ ہوا چنانچہ عائشہ نے کہہ دیا: آپ کیوں غمگین ہو گئے حالانکہ وہ تو ابن جریج کا بیٹا تھا۔

(اکثر رافضیوں نے یہ روایت علی قمی سے نقل کی ہے جیسے ہاشم بحرانی نے اپنی تفسیر البرہان فی تفسیر القرآن: جلد 4 صفحہ 52، 53 میں اور مجلسی نے بحار الانوار: جلد 22 صفحہ 155 میں نقل کیا ہے)

یہ روایت سبائی رافضیوں کے نزدیک صحیح ثابت ہے جو اس پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور ان کے کبار علماء نے اس روایت کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہے۔ یہ رہا مفید (محمد بن محمد بن نعمان ابو عبداللہ بن المعلم، امامیہ فرقے کا بڑا عالم شمار ہوتا ہے۔ اس کا لقب الشیخ المفید ہے۔ رافضیوں کا سرپنچ تھا۔ اس نے رافضیوں کے حق میں مسلمانوں کے اسلاف پر طعن و تشنیع سے لبریز کتابیں تصنیف کیں۔ اس کی تقریباً دو سو کتابیں ہیں۔ 414 ہجری میں فوت ہوا۔ (لسان المیزان لابن حجر: جلد 5 صفحہ 368۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 21۔) جو ان کے بڑے علماء میں شمار ہوتا ہے۔ وہ تاکیداً لکھتا ہے کہ یہ روایات شیعہ کے نزدیک صحیح اور تسلیم شدہ ہیں۔ وہ کہتا ہے:’’ ماریہ قبطیہ پر عائشہ کے تہمت لگانے والی روایت رافضیوں کے نزدیک صحیح و مسلم ہے۔‘‘

 (رسالۃ فیما اشکل من خبر ماریۃ للمفید: صفحہ 29۔)

گویا یہ روایت تمام رافضیوں کے نزدیک صحیح ہے۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 103۔ و الحصون المنیعۃ فی براءۃ عائشۃ الصدیقۃ من افتراء ات الشیعۃ لمحمد عارف الحسینی، صفحہ 54۔ الفتح الانعم فی براء ۃ عائشۃ و مریم لعلی احمد العال الطہطاوی: صفحہ 30)

روافض یہ روایت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بھی نقل کرتے ہیں:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِيۡبُوۡا قَوۡمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 6)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔

علی بن ابراہیم قمی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی تصنیف شدہ تفسیر (تفسیر قمی: جلد 2 صفحہ 318، 319)میں لکھا ہے:

’’یہ آیت ام ابراہیم ماریہ قبطیہ کی شان میں نازل ہوئی اور اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: بے شک ابراہیم آپ کے نطفے سے نہیں بلکہ وہ جریج قبطی سے ہے۔ کیونکہ وہ ماریہ کے پاس ہر روز آتا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا: تو یہ تلوار پکڑ لے اور مجھے جریج کا سر لا دے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ

(البرہان فی تفسیر القرآن للبحرانی: جلد 13 صفحہ 138۔ تفسیر نور الثقلین للحویزی: جلد 5 صفحہ 81۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 22، صفحہ 153، 154)

ہم یہاں کتب اہل السنۃ سے صحیح روایت اس لیے نقل کر رہے ہیں تاکہ ہماری پہلی تحریر کردہ بات مزید موکد و موثق ہو جائے کہ شیعوں کا خاص اسلوب صحیح نصوص میں فاسد اضافے شامل کرنا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح روایت کو شیعوں نے کس قدر مسخ کیا ہے اور اس میں کتنا ردّ و بدل کیا ہے۔

طحاوی (احمد بن محمد بن سلامہ ابو جعفر طحاوی، حنفی، امام، حافظ محدث مصر، فقیہ، 321ہجری میں پیدا ہوا۔ ثبت، کوفیوں کے احوال کا سب سے بڑا عالم نیز دیگر مذاہب کو بھی بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’شرح معانی الآثار‘‘ اور ’’بیان مشکل الآثار‘‘ ہیں۔ 321 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 15 صفحہ 27۔ تاج التراجم لابن قطلوبغا: صفحہ 100) نے بواسطہ عبدالرحمن بن صالح ازدی کوفی اور بزار، ابو نعیم ابن عساکر اور ضیاء مقدسی (یہ محمد بن عبدالواحد بن احمد ابو عبداللہ المقدسی الحنبلی ہیں۔ الشیخ، الامام، الحافظ، الحجۃ، امانت و دیانت کے ساتھ احادیث کی چھان بین کی۔ جرح و تعدیل میں ہمیشہ اعتدال سے کام لیا۔ احادیث کی صحت کی علامات اور ان کی علتوں کو بیان کیا۔ 569 ہجری میں پیدا ہوا اور 643 ہجری میں وفات پائی۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’فضائل الاعمال‘‘ اور ’’الاحادیث المختارۃ‘‘ مشہور ہیں۔) نے بواسطہ ابو کریب محمد بن العلاء ہمدانی نے ان سب نے بواسطہ یونس بن بکیر، اس نے بواسطہ محمد بن اسحاق، اس نے ابراہیم بن محمد بن علی بن ابی طالب سے اس نے اپنے باپ محمد سے اس نے اپنے باپ علی بن ابی طالب سے روایت کی کہ لوگوں نے ماریہ رضی اللہ عنہا کو اس کے چچا زاد قبطی کے ساتھ بہت زیادہ مطعون کیا جو اس کے پاس آتا رہتا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’تو یہ تلوار لے جا اور اگر تو نے اسے اس (ماریہ) کے پاس دیکھا تو اسے قتل کر دے۔‘‘ طویل حدیث ہے۔

(اسے طحاوی نے ’’شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر: 4953 میں اور بزار نے مسند: جلد 2 صفحہ 237، حدیث نمبر: 634 میں اور ضیاء المقدسی نے الاحادیث المختارۃ، حدیث نمبر: 735 میں اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 177،178 میں روایت کیا۔ مقدسی نے کہا اس حدیث کا ایک شاہد صحیح مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر: 1904 میں صحیح کہا ہے۔ )

لیکن اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ نہیں ۔ ہر صاحب انصاف اور حق کے پیروکار کو غور کرنا چاہیے کہ رافضیوں نے اس روایت کو کس طرح تبدیل کیا اور اس مکر و فریب کے کس طرح طومار باندھے۔ گویا جو صحیح روایت ہے وہ منافقوں کے سیاق میں ہے نہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں۔ چنانچہ منافقین ہی ماریہ کے متعلق جھوٹی خبریں پھیلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان الزامات سے بری کر دیا۔ منافقین دراصل اپنے سرغنہ عبداللہ بن ابی کے پیچھے لگ کر اس سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچا چکے تھے اور اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس گھناؤنے الزام سے بری کر دیا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ تو اپنے رسول کا احترام کرتا ہے اور اس کی کسی بیوی پر تہمت نہ لگائے گا نہ اسے تہمت لگانے والوں میں شامل کرے گا۔ خصوصاً جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت قرآن میں نازل ہو گئی جو روئے زمین کے مشرق سے لے کر مغرب تک اور قیامت آنے تک پڑھی جاتی رہے گی۔ ہر مومن اس کی برأت، اس کی فضیلت اور اسلام میں اس کی قدر و منزلت پر ایمان رکھے گا اور قرآن میں جو کچھ اس کی شان میں نازل ہوا ہے ہر مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے اصحابؓ اور آپ کے خاندان سے کینہ رکھنے والا ہر زندیق و ملحد اس پر بہتان لگاتا رہے گا۔

(الانتصار لکتاب العزیز الجبار و للصحابۃ الاخیار علی اعدائہم الاشرار للدکتور ربیع المدخلی: صفحہ 396، 397)

اس قصہ پر توجہ مرکوز کر کے روافض متعدد مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں:

1۔ اہل روافض کے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی زنا کے الزام سے بری نہیں ہوئیں، کیونکہ سورۂ نور کی مذکورہ دس آیات ان کی برأت میں نازل نہیں ہوئیں، بلکہ یہ ماریہ کی برأت  میں نازل ہوئیں جس پر رافضیوں کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زنا کی تہمت لگائی۔

2۔ دراصل یہ دشنام طرازی اور بہتان تراشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہے۔ کیونکہ اس واقعہ کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چھ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور صحبت میں رہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی (سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) کے گھر میں وفات پائی۔

چنانچہ خبیث فطرت لوگوں کی طرف سے اس تہمت کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، عصمت، شرف و کرامت، آپ کی رسالت بلکہ براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مردانگی اور غیرت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیونکہ جس مرد کے پاس معمولی سی غیرت اور وقار ہو گا وہ اپنی حفاظت میں ایسی عورت کو چھ سال تو کیا ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتا، اور جس عورت کی برأت بھی ثابت نہ ہو۔ رافضیوں کا اصل مقصد یہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باز بیویوں کا روافض کے نزدیک یہ مقام ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو پر اس سے زیادہ گھناؤنا اور اس سے زیادہ مکارانہ الزام کیا ہو سکتا ہے؟!

3۔ خباثت کی انتہا ہو گئی کہ رافضیوں اور منافقوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مطعون ٹھہرایا کہ اس نے ماریہ رضی اللہ عنہا کو مطعون ٹھہرایا کہ جب اس نے ماریہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائی۔ تاکہ وہ لوگوں کو یہ تصور دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس گھرانہ روئے زمین پر شر اور شرارت سے پُر گھرانہ تھا کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ایک دوسرے پر زنا کی تہمتیں لگاتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلحتاً خاموش رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن بیویوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 32)

ترجمہ:’’اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو۔‘‘

امہات المؤمنینؓ سب تقویٰ اور اخلاق حسنہ میں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکریم کرتے ہوئے ان کو امہات المؤمنینؓ قرار دیا کہ تکریم و تقدیس میں وہ تمام سب اہل ایمان کی ماؤں جیسی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌۞ (سورۃ الأحزاب آیت 6)

ترجمہ: ’’یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے معاملے میں درج ذیل آیات نازل فرمائیں:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 28، 29)

ترجمہ: اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس فرمان الہٰی کی روشنی میں اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو سب نے بیک زبان اور ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر یا کسی قسم کی ذرہ بھی ہچکچاہٹ اور تردّد کے بغیر اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کے حصول کو اختیار کیا۔ ان سب سے پہلے اس امتحان میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کامیاب ہوئیں۔ جبکہ رافضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے اس بلند مقام و مرتبے کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہر وقت جلتے اور کڑھتے رہتے ہی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بے شمار فضائل بیان کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح سب کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔ وہ تمام جہانوں کی عورتوں سے شریعت مطہرہ کی بڑی عالمہ تھیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم ان کی تکریم کرتے تھے اور ان کی علمی منزلت کے معترف تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب بھی کوئی مشکل مسئلہ درپیش آتا وہ اس کے حل کی تلاش میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے اور وہاں سے انھیں مسئلہ کا حل مل جاتا۔ تمام صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بیان کردہ روایات پر حد درجہ اعتماد کرتے تھے۔

(دکتور ربیع بن ہادی المدخلی کے علمی مقالہ بعنوان ’’المہدی بین اہل السنۃ و الروافض‘‘ سے ایک اقتباس۔)