چھٹا بہتان
علی محمد الصلابیاہل تشیع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف قبیح الفاظ منسوب کرتے ہیں۔ (ہم دل پر بوجھ محسوس کرتے ہوئے یہ روایت نقل کر رہے ہیں اور اللہ کے حضور معافی کے طلب گار ہیں )اس کے ثبوت کے لیے ان کی یہ روایت کافی ہے:
’’محمد بن جعفر رزاز، محمد بن عیسیٰ سے، وہ اسحاق بن زید سے، وہ عبدالغفار بن قاسم سے، وہ عبداللہ بن شریک العامری سے، وہ جندب بن عبداللہ البجلی سے، وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے کہ میں حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ عائشہ کے گھر میں تھے۔ تو میں ان دونوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ عائشہ بولیں! اے ابن ابی طالب! تجھے اپنے چوتڑ کے لیے میری ران کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملی۔ مجھ سے دُور ہو جا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مار کر اسے کہا تو برباد ہو جائے، تو امیر المؤمنین، سید الوصیین، قائد غر محجلین (وضو کے اثر سے پانچ اعضاء چمکنے والوں کے راہنما) سے کیا چاہتی ہے؟‘‘
(بحار الانوار للمجلسی: جلد 22 صفحہ 244)
اس بہتان کا جواب
اس روایت کی اسناد میں عبداللہ بن شریک عامری ہے۔ محدثین کا اس کی تعدیل میں تو اختلاف ہے لیکن اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ غالی شیعہ تھا حتیٰ کہ جوزجانی نے اسے ’’کذاب‘‘ کہا ہے۔
(تقریب التہذیب لابن حجر: جلد 1 صفحہ 501)
لہٰذا جس کا یہ حال ہو اس کی روایت مردود ہوتی ہے۔
اس روایت میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم بھی ہے جو شیعہ اور متروک ہے، شراب پی پی کر بے ہوش ہو جاتا تھا۔ اس کی روایت کو دلیل بنانا جائز نہیں ۔
(المجروحین لابن حبان: جلد 2 صفحہ 143 )
اس روایت کے راویوں کی مزید چھان پھٹک کی بجائے اتنا ہی اس روایت کے ردّ کے لیے کافی ہے۔