Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چھٹا بہتان

  علی محمد الصلابی

دوران سفر عائشہ روزہ اور نماز کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتی تھی۔‘‘

ایک روایت میں ہے عائشہ نے کہا: ’’میں نے مدینہ سے مکہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عمرہ کے لیے سفر کیا۔ جب میں مکہ پہنچی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ نماز قصر کرتے رہے اور میں اتمام کرتی رہی، میں روزے رکھتی رہی اور آپ نے روزے نہ رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔‘‘

(سنن نسائی: جلد 3 صفحہ 122۔ سنن دارقطنی: جلد 2 صفحہ 188، حدیث نمبر: 39۔ سنن کبریٰ بیہقی: جلد 3 صفحہ 142 حدیث نمبر: 5634۔ ابن تیمیہ نے مجموع الفتاوی: جلد 24 صفحہ 147 میں کہا: یہ روایت متصل نہیں ہے اور ابن عبدالہادی نے تنقیح تحقیق التعلیق: جلد 2 صفحہ 48 پر اور ذہبی نے تنقیح التحقیق: جلد 1 صفحہ 270 اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن نسائی میں اسے منکر کہا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا: ’’اس حدیث کے ذریعے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرامؓ کے برعکس نماز پڑھے حالانکہ وہ ان کو قصر کرتے ہوئے دیکھ بھی رہی ہو۔ پھر بغیر کسی وجہ کے وہ اکیلی پوری نماز پڑھتی رہے۔

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 1 صفحہ 454)

امام ابن قیم رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث غلط ہے۔‘‘

۔(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 88۔ نیز فائدہ کے لیے دیکھیں: البدر المنیر لابن الملقن: جلد 4 صفحہ 526)