آٹھواں بہتان
علی محمد الصلابی’’عائشہ رضی اللہ عنہا انصاری عورتوں کو علی رضی اللہ عنہ کی مدح و ثنا بیان کرنے سے روکتی تھیں ‘‘
بیاضی نامی شیعہ مصنف لکھتا ہے:
’’جب علی علیہ السلام کے لیے فاطمہ کی رخصتی ہوئی تو انصاری عورتوں نے کہا: اس کا باپ لوگوں کا سردار ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: اس کا خاوند بہادر اور جنگجو ہے۔ ان عورتوں نے علی کا نام نہ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتا دیا کہ عائشہ نے ہمیں منع کیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ اہل بیت کی عداوت نہیں چھوڑے گی۔‘‘
(الصراط المستقیم للبیاض: جلد 3 صفحہ 166)
اس طرح کے جھوٹے من گھڑت افسانوں پر مشتمل مرویات سے رافضیوں کی لائبریریاں بھری پڑی ہیں۔
(الصاعقۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 77)
اس قصے کی تردید کے لیے وہ فصل کافی ہے جو گزشتہ صفحات میں عائشہ رضی اللہ عنہا اور اہل بیت کے درمیان خوش گوار تعلقات کے عنوان سے گزر چکی ہے۔
(کتاب کے پچھلے صفحات کے مطالعہ کیا جائے۔)