Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آٹھواں بہتان

  علی محمد الصلابی

اہل روافض کا یہ کہنا کہ ’’عائشہ کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے پاس احسن طریقے سے رہنا نہ آ سکا اور وہ بسیار خور تھی۔

روافض نے یہ تہمت لگانے کے لیے متعدد ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیا ہے۔ جو محدثین کی نقد کے سامنے بے وزن ہیں۔ ہم وہ روایات تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اسناد پر بھی بحث کریں گے جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں کہ وہ کس پائے کی ہیں۔

الف: ابی اشرس کی حدیث جو اس نے شریک سے، اس نے جعفر بن محمد سے، اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے آباء سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کے ایک ٹکڑے کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیرا! تم اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرو اور اس کا شکر کیا کرو۔ کیونکہ روٹی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہم پر بارش برساتا ہے۔ روٹی کی وجہ سے وہ پودے اگاتا ہے۔ روٹی کے لیے ہم نماز پڑھتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے ہیں اور اگر روٹی نہ ہوتی تو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ ہوتی۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:’’ ابو الاشرس کوفی ہے۔‘‘

ابن حبان نے اس کے بارے میں کہا: ’’اس نے شریک سے موضوع احادیث روایت کی ہیں۔ جن کو شریک نے بالکل روایت نہیں کیا۔ کتابوں میں ان پر سوائے متنبہ کرنے کی نیت کے ان کا لکھنا حلال نہیں ہے۔‘‘

(میزان الاعتدال للذہبی: جلد 4 صفحہ 492)

ب: خالد بن اسماعیل کی حدیث جو اس نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے باپ سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر آئے تو روٹی کا ایک لقمہ گرا ہوا دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کیا کرو۔ کیونکہ جب یہ کسی گھر سے چلی جاتی ہے تو پھر بہت کم ہی واپس آتی ہے۔

ابن عدی نے کہا: خالد بن اسماعیل ابو ولید مخزومی ثقہ مسلمانوں کی طرف نسبت کر کے احادیث وضع کرتا ہے۔ اس نے پھر کہا: یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے۔ اس نے عروہ سے اس نے عائشہ سے روایت کی، زہری سے اسے ولید بن محمد الموقری نے روایت کیا اور وہ خالد بن اسماعیل سے بھی زیادہ شر ہے۔

(الکامل فی الضعفاء لابن عدی: جلد 3 صفحہ 42)

ج: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ مجھے دن میں دو بار کھاتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تیرے پاس اپنا پیٹ بھرنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام بھی ہے؟ دن میں دو بار کھانا اسراف ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ اسے امام بیہقی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں روایت کیا اور کہا یہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں ابو عبدالرحمٰن سلمی ہے اور ابن لہیعہ ہے۔ دوہرے ضعف کے ساتھ ساتھ یہ ان احادیث صحیحہ کے مخالف بھی ہے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں قلت طعام کا تذکرہ ہے۔

(غیر مطبوعہ مقالہ سے انتخاب: بعنوان امنا عائشۃ ملکۃ العفاف لفدوی صادق بنکیران۔)