پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

اہل روافض کہتے ہیں کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ قبطیہ پر زنا کی تہمت لگائی تب آیت افک نازل ہوئی۔‘‘ اس شبہ کو ثابت کرنے کے لیے شیعوں کے متعدد انداز ہیں:

پہلا انداز:

واقعہ افک میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آسمانی و قرآنی برأت کا انکار کرنا۔ اکثر رافضیوں نے اس کا انکار کیا۔ وہ کہتے ہیں یہ اہل سنت کا قول ہے، چنانچہ ان کے نزدیک اہل سنت کی روایت مردود ہونے پر ان کا اجماع ہے۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی خبر متناقض دو سندوں کے ساتھ ان کے ائمہ سے مروی ہو، اور ان دو سندوں میں سے ایک اہل سنت کے مذہب کے موافق ہو تو اس خبر کو چھوڑ دیا جائے گا جو اہل سنت کے مذہب کے موافق ہو۔ کیونکہ احتمال ہے کہ وہ تقیہ کی وجہ سے روایت کی گئی ہو۔ اسی بنیاد پر اکثر شیعہ سورۃ النور کی وہ آیات جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں نازل ہوئیں ان کو نہیں مانتے۔ کیونکہ یہ اہل سنت کا قول ہے۔ البتہ اہل تشیع کہتے ہیں کہ ’’جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ قبطیہ پر زنا کی تہمت لگائی تو یہ آیات ماریہ قبطیہ کی برأت کے لیے نازل ہوئیں۔‘‘

(الصراط المستقیم للبیاضی: جلد 3 صفحہ 182 )

موجودہ زمانے کے کچھ رافضیوں نے واقعہ افک کو مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی ہے، ان میں سے ایک جعفر مرتضیٰ حسینی(جعفر بن مرتضیٰ حسین العاملی۔ معاصرین میں سے ہے۔ 1364 ہجری میں پیدا ہوا۔ نجف میں تعلیم حاصل کی پھر ایران کے شہر قم چلا گیا، پھر اپنے جائے ولادت کوہ عامل جو لبنان میں واقع ہے 1413 ہجری میں وہاں چلا گیا۔ اس کی تصنیفات ’’مأسأۃ الزہراء‘‘ اور ’’بیان الائمۃ فی المیزان‘‘ ہیں) ہے۔ 

اس نے ’’حدیث الافک‘‘ نامی ایک کتاب لکھی اور اس نے یہ کتاب ’’حدیث الافک‘‘ واقعہ افک کو مشکوک قرار دینے کے لیے لکھی۔ اس نے اپنی یہ مذموم کوشش کتاب کے شروع سے لے کر آخر تک جاری رکھی۔ متعدد وسائل و خود ساختہ جھوٹے دلائل سے واقعۂ افک کو غیر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کبھی تو اہل سنت کے راویوں پر جرح و طعن کیا، اس خیال سے کہ اس حدیث میں تناقض اور اضطراب پیدا کر سکے اور کبھی سند کو ضعیف کہا، لیکن ضعف کا سبب بیان نہیں کیا، یا اس طرح کی دیگر موشگافیاں اور کٹ حجتیاں سامنے لاتا رہا۔

(حدیث الافک لجعفر مرتضی حسینی)

جنھوں نے واقعہ افک کا انکار کیا ان میں سے ہاشم معروف الحسنی(ہاشم معروف الحسنی کوہ عامل لبنان کا ایک شیعہ عالم ہے۔ 1337 ہجری میں پیدا ہوا۔ جعفری سپریم کورٹ لبنان کا جج رہا۔ اس کی تصنیفات ’’سیرۃ الائمۃ اثنا عشر‘‘ اور ’’الوصایا و الاوقاف‘‘ ہیں۔ 1403 ہجری میں فوت ہوا۔ (دلیل جنوب لبنان' صفحہ 130) بھی ہے۔ اس نے اپنی کتاب ’’سیرۃ الائمۃ الاثنی عشرہ‘‘ میں اپنا انکار تحریر کیا۔

(سیرۃ الائمۃ الاثنٰی عشر: جلد 1 صفحہ 438)

ان دو کے علاوہ بھی ہیں جنھوں نے واقعہ افک کا انکار کیا۔

درج بالا بہتان کا ردّ:

اہل روافض کے عائشہ رضی اللہ عنہا کی واقعہ افک سے برأت کا انکار اور اس قصہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں کرنا ان کے اپنے ائمہ اور علماء کے اقوال و اعترافات کا انکار اور رافضیوں کے آپس میں لا محدود تناقض کو ظاہر کرتا ہے۔ دیگر علماء و ائمہ نے صراحت کے ساتھ واقعہ افک اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بہتان سے برأت کے نزول کا اقرار و اعتراف اور کھلم کھلا اعلان کیا ہے۔ نیز شیعہ علماء نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ جو لوگ اس واقعہ افک پھیلانے کا سبب بنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حد قذف جاری کی۔ جو روافض واقعہ افک کا اقرار کرتے ہیں وہ اس واقعہ سے عائشہ اور علی رضی اللہ عنہما کے درمیان عداوت کی موجودگی کی دلیل لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان عداوت اس وقت سے ہے۔

(الجمل للمفید: صفحہ 219۔ تلخیص الشافی للطوسی: صفحہ 468۔ مناقب آل ابی طالب لابن شہر آشوب: جلد 1 صفحہ 201۔ الصوارم المہرقۃ للتستری: صفحہ 105 اور اسی کی کتاب احقاق الحق: صفحہ 284۔ الدرجات الرفیعہ للشیرازی: صفحہ 25۔ الفصول المہمۃ للموسوی،: صفحہ 156۔ الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ علی ام المومنین عائشۃ لعبد القادر محمد عطا صوفی: صفحہ 112، 114۔ معمولی ردّ و بدل کے ساتھ۔)

بلکہ ان کے کچھ ائمہ تو تاکیداً کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت متواتر امر ہے۔ یہ ضرورتاً معلوم ہے اور جو اس کا انکار کرے گا وہ ضروری اور ثابت شدہ بات کا انکار کرے گا۔ ابن ابی الحدید کہتا ہے:

’’شیعہ میں سے ایک گروہ نے کہا ہے کہ سورۃ النور کی آیات عائشہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئیں بلکہ وہ ماریہ قبطیہ کے متعلق نازل ہوئیں جب اس پر سیاہ فام قبطی غلام کے ساتھ ملوث ہونے کی تہمت لگی اور ان کا یہ انکار کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نزول آیات نہیں ہوا ایسا انکار ہے جو یقینی طور پر متواتر اخبار سے معلوم ہو چکا ہے۔‘‘

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 14 صفحہ 23)

اسی ابن ابی الحدید نے دوسری جگہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت ثابت کی ہے۔ وہ لکھتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر صفوان بن معطل السلمی کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگا اور یہ مشہور قصہ ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیشہ پڑھی جانے والی اور لکھی جانے والی آیات کے ذریعے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل کی اور جنھوں نے اس پر تہمت لگائی تھی ان کو حد قذف کے کوڑے لگائے گئے۔

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 9 صفحہ 191)

صافی شیعی نے ’’الجوامع‘‘ میں لکھا کہ حدیث الافک کا سبب یہ بنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار گم کر دیا۔ قمی نے کہا: ’’جمہور علماء کے مطابق یہ آیات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئیں اور غزوہ بنی مصطلق جو بنو خزاعہ کے خلاف لڑا گیا اس میں اس پر جو بہتان لگایا گیا۔ انتہٰی‘‘

صفحہ 1 از 6