پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6

اگر تو کہے کہ رازی (محمد بن عمر بن حسین ابو المعالی الرازی۔ فخر الدین اس کا لقب ہے۔ علم کلام کا ماہر تھا۔ خوارزم کے بادشاہوں کے پاس اس کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ اس کے لیے مختلف علاقوں میں مدارس بنائے گئے۔ اپنی موت سے پہلے علم کلام سے توبہ کر لی اور سلف کے مسلک پر واپس آ گیا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’مفاتیح الغیب‘‘ اور ’’المحصول‘‘ ہیں۔ 606 ہجری میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی: جلد 8 صفحہ 80۔ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 13 صفحہ 55) وغیرہ نے کہا: مسلمانوں کا اجماع اس بات پر ہے کہ اس سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا جانے والا بہتان ہے۔ اسی طرح تو نے یہ بھی کہا کہ یہ اجماع ہے۔ پھر تو نے کہا :یہ قصہ ماریہ قبطیہ کا ہے جب اس پر بہتان لگایا گیا۔ تو یہ تناقض اقوال کیوں ہے؟ اس فرقے کی مخالفت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یا تو انھیں اس واقعہ کی حقیقت معلوم نہیں یا انھوں نے اجماع توڑ ڈالا، جبکہ اجماع توڑنا جائز نہیں، یا اس فرقے کی بات غیر معتبر اور شاذ ہے، کیونکہ وہ جمہور شیعہ کی مخالف ہے کہ جنھوں نے تمام مسلمانوں کے مذہب کو تقویت بہم پہنچائی۔

صافی نے اپنی مذکورہ تفسیر میں اشارہ کیا کہ یہ قول نہایت واہیات ہے۔ وہ کہتا ہے: اگر یہ خبر صحیح ہو۔ الخ۔ اس کا یہ کہنا بظاہر اس قول کے ضعف کی طرف اشارہ ہے اور شیعہ کے اپنے علماء کے نزدیک بھی یہ قول معتمد علیہ نہیں۔

(الحصون المنیعۃ فی براء ۃ عائشۃ الصدیقۃ باتفاق اہل السنۃ و الشیعۃ لمحمد عارف الحسینی: صفحہ 21)

روافض کا بہتان باطل ہونے کی پہلی دلیل کافی ہے کہ سورۃ النور کی مذکورہ دس آیات جو اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌۞(سورۃ النور آیت 11) سے شروع ہوتی ہیں کہ یہ ماریہ کی برأت میں نازل ہوئی تھیں جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر زنا کی تہمت لگائی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بہتان سے پاک ہے۔ یہ کہ واقعہ افک اور ان آیات کا نزول غزوہ بنی مصطلق میں ہوا جو چار یا پانچ یا چھ ہجری کا واقعہ ہے۔ مختلف اقوال کی بنیاد پر اور راجح قول پانچ ہجری ہے اور مقوقس والی مصر نے ماریہ قبطیہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس سال بھیجا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں اور قبیلوں کے سرداروں کو اسلام قبول کرنے کے لیے خطوط لکھے۔ جو سات یا آٹھ ہجری اور راجح قول کے مطابق آٹھ ہجری ہے اور یہ خطوط غزوہ بنی مصطلق کے تین سال بعد کا واقعہ ہے کہ جس غزوے میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا گیا اور اس کی صحیح و راجح تاریخ ابھی ابھی بیان ہوئی ہے۔ گویا عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں آیات کا نزول ماریہ قبطیہ کے آنے سے تین سال پہلے کا واقعہ ہے۔ تو تین سال پہلے ماریہ کی شان میں قرآن کیونکر نازل ہوا جبکہ وہ مصر میں اپنے آباء و اجداد کے دین پر تھی اور وہ مصر میں تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ میں تھی اور درمیان میں صحرا، سمندر اور پہاڑ حائل ہیں تو رافضیوں کے دعویٰ کے مطابق عائشہ نے ماریہ پر بہتان کیسے لگا دیا۔ چنانچہ قرآن و سنت ہی نہیں تاریخی و زمینی حقائق بھی رافضیوں کو رسوا کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اجماع امت بھی رافضہ کے ذلیل و خوار ہونے پر دال ہے اور تمام رسولوں سے افضل اور اکرم علی اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بہتان تراشیوں کا ردّ کر رہے ہیں اور ان کے مکر و فریب، کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔ دنیا اور تاریخی گواہی کے مطابق خاتم الانبیاء کا گھرانہ تمام گھروں سے افضل و اشرف اور اطہر ہے۔

(غیر مطبوعہ مقالہ امنا عائشۃ ملکۃ العفاف لفدوی الصادق بنکیران)

آئندہ جب ہم واقعہ افک پر گفتگو کریں گے تو ان شاء اللہ وہاں امی عائشہ کے معترضین کی رسوائیوں میں مزید اضافہ کریں گے۔

(دیکھیں : کتاب کے گزشتہ صفحات)

دوسرا انداز:

وہ ضعیف و منکر روایات جو اہل السنہ کی کتابوں میں موجود ہیں ان سے کٹ حجتیاں نکالنا۔

روافض کا یہ معمول ہے کہ اپنے شبہات اور افتراءات کو تقویت دینے کے لیے اہل سنت کی کتابوں میں مروی ضعیف، منکر، موضوع اور منسوخ روایات کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ پھر وہ اہل سنت پر وہ احادیث چپکا دیتے ہیں اور پھر خود ہی ان سے جواب طلب کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا بہتان میں خصوصی طور پر کسی شیعہ نے نہایت ضعیف حدیث سے استدلال کیا، بلکہ وہ روایت سرے سے باطل ہے۔ لیکن اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس لشکر کا سرغنہ عبدالحسین (عبدالحسین بن یوسف شرف الدین العاملی الموسوی تھا۔ فرقہ امامیہ کا فقیہ تھا۔ کوہ عامل کی گھاٹیوں میں یہ 1290 ہجری کو پیدا ہوا۔ نجف میں تعلیم حاصل کی اس کی مشہور ترین تصنیفات میں سے ’’المراجعات‘‘ نامی تصنیف ہے۔ اس کا مواخذہ اس فتویٰ کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ جس میں اس نے عوام کے لیے حسین کی شہادت کے حوالے سے اپنے اجسام کو تلواروں اور زنجیروں سے پیٹنا مباح قرار دیا۔ 1377 ہجری میں صور میں فوت ہوا اور نجف میں دفن ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 279) نامی ایک شیعہ ہے۔ جس نے اپنی کتاب ’’المراجعات‘‘ میں یہ روایت تحریر کی ہے۔

یہ روافض جس روایت پر اعتماد کرتے ہیں وہ اس طرح ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ماریہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ہدیہ بھیجا گیا اور اس کے ساتھ اس کا چچا زاد بھی تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ لڑکا ایک بار ماریہ کے ساتھ ہم بستری کر بیٹھا اور وہ حاملہ ہو گئی۔ عائشہ کہتی ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے چچا زاد کے ساتھ علیحدہ رہائش دے دی۔‘‘

صفحہ 2 از 6