پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: ’’بہتان تراشوں اور جھوٹ موٹ کی اڑانے والوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ کو بچے کی ضرورت تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کے بچے پر اپنا دعویٰ کر دیا اور اس کی والدہ کا دودھ بہت کم تھا، اس کی ماں نے اسے دودھ پلانے کے لیے ایک دودھیل بکری خریدی۔ چنانچہ اس بکری کے دودھ پر وہ پلا بڑھا۔ اس پر خوب گوشت آ گیا۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے میرے پاس لے آئے اور فرمانے لگے: تجھے کیسا معلوم ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جسے بکرے کا گوشت کھانے کو ملے اس کا گوشت اچھا ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے ساتھ اس کی مشابہت نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے دیگر عورتوں کی طرح غیرت نے آ لیا۔ بالآخر میں نے کہہ دیا: میں کوئی مشابہت نہیں دیکھتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لوگوں کی باتیں پہنچنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تو یہ تلوار لے جا اور ماریہ کا چچا زاد تجھے جہاں ملے اس کی گردن کاٹ دے۔ وہ چل پڑے، انھوں نے دیکھا کہ مطلوبہ شخص کھجور کے ایک باغ میں درخت سے تازہ کھجوریں توڑ رہا ہے۔ اس نے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تلوار کے ساتھ آتا ہوا دیکھا تو اس پر کپکپی طاری ہو گئی اور اسی پریشانی میں اس کا تہہ بند گر پڑا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا کہ اللہ عزوجل نے اس کے لیے وہ چیز تو پیدا ہی نہیں کی جو مردوں کی خصوصی علامت ہوتی ہے۔ وہاں صرف ایک دھبہ تھا

(المستدرک للحاکم: جلد 4 صفحہ 41 اور اس روایت کو ابن حجرؒ نے ضعیف کہا: دیکھئے: الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 335 اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: جلد 10 صفحہ 700 میں کہا یہ روایت پرلے درجے کی ضعیف ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ اس روایت سے عبدالحسین نے اپنی کتاب ’’مراجعات‘‘ میں قبیح ترین استدلال کیا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اخلاق اور دین پر تہمت لگانے میں اس روایت پر تکیہ کیا ہے۔ وہ کہتا ہے: 

’’اور تیرے لیے اس بات کی نزاکت کا احساس کرنے کے لیے صرف ایک مثال کافی ہے کہ جب کذاب اور مفتری لوگوں نے سیدہ ماریہ کے جذبات سے فائدہ اٹھا کر اسے اور اس کے بیٹے علیہ السلام کو بہتان اور عداوت کا نشانہ بنایا اور ان کے منہ میں جو کچھ آیا وہ کہہ دیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین کے ہاتھوں دونوں کی برأت کا اعلان کروا دیا جو سب لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اور سب کا لحاظ کرتے ہوئے کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا قول کتنا سچا ہے:

وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُوۡا خَيۡرًا‌ ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 25)

ترجمہ: اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ 

(المراجعات لعبد الحسین: صفحہ 260، 261)

پھر اپنی مذکورہ بات کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے:

’’جو اس مصیبت کے بارے میں تفصیل جاننا چاہے وہ مستدرک حاکم کی جلد 4 صفحہ 39 میں سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے احوال کے بارے میں روایات کا مطالعہ کرے یا مستدرک للحاکم کی جو تلخیص امام ذہبی رحمہ اللہ نے کی ہے اس کا مطالعہ کر لے۔‘‘

وہ درج بالا عبارت کے ذریعے سے اس منکر روایت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ لیکن روایت کے شدید ضعف کے باوجود اس نے روایت پر اعتماد کو کافی سمجھا بلکہ اس نے اضافی جرم یہ کیا کہ حدیث کو لفظ بلفظ نقل نہیں کیا اور لوگوں کے لیے یہ اس کی تدلیس و تضلیل ہے، کیونکہ اگر وہ روایت کو لفظ بلفظ نقل کر دیتا تو ذرّہ بھر عقل رکھنے والے انسان کے لیے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جو جھوٹ منسوب کیا جا رہا ہے وہ اس سے بالکل بری ہیں۔ جو کہ اس منکر حدیث میں موجود ہے۔

درحقیقت قیامت تک لکھے اور پڑھے جانے والے قرآن کے ذریعے سے اللہ عزوجل نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت کا اعلان کر دیا ہے۔ رافضی مانیں یا نہ مانیں، اس سے حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ابن شاہین (عمر بن احمد بن عثمان ابو حفص البغدادی ابن شاہین۔ حافظ، عالم شیخ العراق۔ 297 ہجری میں پیدا ہوا۔ ثقہ تھا اس کی مشہور تصنیفات ’’تاریخ اسماء و صفات‘‘ اور ’’ناسخ الحدیث و منسوخہ‘‘ ہے۔ 385 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 16 صفحہ 431۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 117) نے بھی یہ روایت بواسطہ سلیمان بن ارقم، زہری سے نقل کی۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں بھی ہے۔ اس (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر: جلد 5 صفحہ 519۔) نے کہا: ’’سلیمان ضعیف ہے۔‘‘

(السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی: جلد 10 صفحہ 701، 703)

ہم اس روایت اور اس کے ذریعے سے جو افتراءات لگائے گئے ہیں ان کا متعدد وجوہ سے جواب دیں گے:

1۔ یہ روایت باطل اور نہایت ضعیف ہے۔ اسے کبھی بھی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ یہ حدیث سلیمان بن ارقم کی روایات سے ہے جس کے ضعف پر ائمہ کا اتفاق ہے۔ (تاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 2۔ الضعفاء و المتروکون للنسائی: صفحہ 48۔ الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 4 صفحہ 100۔ الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی: جلد 4 صفحہ 228۔ و تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 10 صفحہ 18۔ الضعفاء و المتروکون لابن جوزی: جلد 2 صفحہ 16۔ المغنی فی الضعفاء للذہبی: جلد 1 صفحہ 277) بلکہ وہ پرلے درجے کا ضعیف ہے۔

اس حدیث کا ضعف اگرچہ ظاہر و باہر ہے تاہم مستدرک میں حاکم نے اپنے تساہل تصحیح کی وجہ سے اس پر سکوت اختیار کیا۔ اسی طرح مستدرک حاکم کی تلخیص میں ذہبی نے بھی اس پر سکوت کیا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی مشہور کتاب ’’السلسلۃ الضعیفۃ‘‘ میں روایت کی اور کہا یہ بہت ضعیف ہے۔

(السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی: جلد 10 صفحہ 700، حدیث: 4964۔)

صفحہ 3 از 6