پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

2۔ اصل حدیث صحیح و ثابت ہے لیکن اس میں یہ اضافی منکرات نہیں ہیں، اس حدیث میں یہ اضافہ جات ابن ارقم نے کیے ہیں اور اگر یہ کسی بات کی دلیل ہو سکتی ہے تو صرف اس کی کہ اس کا حافظہ بگڑ چکا تھا یا یہ کہ اس نے جھوٹ پر اعتماد کرتے ہوئے اضافے کیے ہیں۔ یہ سب اس نے صرف اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل کی وجہ سے کیا۔ پھر اس کے خواہش پسند پیروکار اسے دلیل بنا لیتے ہیں۔

البتہ اس روایت منکرہ کا اصل متن صحیح مسلم میں ہے۔ چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کی ماں پر کسی آدمی کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس مہم پر مامور کیا کہ تو جا اور اس کی گردن کاٹ کر لے آ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے تو وہ کنویں (رکی:کنواں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 261۔ فتح الباری لابن حجر: جلد 1 صفحہ 125) میں غسل کر رہا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: جلدی باہر آ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کھینچ لیا۔ اچانک انھوں نے دیکھا کہ اس کا عضو تناسل کٹا ہوا تھا۔ یعنی اس کے پاس آلۂ تناسل نہیں تھا۔ علی رضی اللہ عنہ اس سے رک گئے۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس آلۂ تناسل نہیں، بلکہ کٹا ہوا ہے۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2771)

تیسرا انداز:

صحیح نصوص میں من گھڑت اضافے شامل کر کے اپنے لگائے گئے بہتانات کی تکمیل کرنا۔

جن معاملات میں شیعوں کو مکر و فریب کی مہارت تامہ حاصل ہے۔ ایک یہ بھی ہے کہ وہ کوئی صحیح روایت لے کر اس میں ایسے اضافے شامل کر دیتے ہیں جن سے وہ پوری نص فاسد ہو جاتی ہے۔ اس سے ان کا مقصد اپنے جھوٹ، فریب اور مکر کی قبولیت ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنی اس جھوٹی روایت کو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کسی آیت کا شان نزول باور کراتے ہیں تاکہ ان کا پھیلایا گیا تلبیس کا جال مضبوط ہو جائے۔ چنانچہ علی بن ابراہیم قمی اپنی تصنیف شدہ تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتا ہے: 

(تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 99)

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌۞(سورۃ النور آیت 11)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے۔

اس نے لکھا:

’’بے شک جمہور (اہل سنت) نے لکھا کہ یہ آیت عائشہ کی شان میں نازل ہوئی۔ جب غزوہ بنی مصطلق میں اس پر تہمت لگائی گئی جو بنو خزاعہ کے خلاف تھی، لیکن خاص لوگوں (اہل تشیع) نے کہا کہ یہ ماریہ قبطیہ کی شان میں نازل ہوئی جب عائشہ نے اس پر تہمت لگائی۔‘‘

پھر علی بن ابراہیم قمی نے اپنی سند کے ساتھ یوں روایت کی:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ کو اس کا شدید صدمہ ہوا چنانچہ عائشہ نے کہہ دیا: آپ کیوں غمگین ہو گئے حالانکہ وہ تو ابن جریج کا بیٹا تھا۔

(اکثر رافضیوں نے یہ روایت علی قمی سے نقل کی ہے جیسے ہاشم بحرانی نے اپنی تفسیر البرہان فی تفسیر القرآن: جلد 4 صفحہ 52، 53 میں اور مجلسی نے بحار الانوار: جلد 22 صفحہ 155 میں نقل کیا ہے)

یہ روایت سبائی رافضیوں کے نزدیک صحیح ثابت ہے جو اس پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور ان کے کبار علماء نے اس روایت کے صحیح ہونے کی صراحت کی ہے۔ یہ رہا مفید (محمد بن محمد بن نعمان ابو عبداللہ بن المعلم، امامیہ فرقے کا بڑا عالم شمار ہوتا ہے۔ اس کا لقب الشیخ المفید ہے۔ رافضیوں کا سرپنچ تھا۔ اس نے رافضیوں کے حق میں مسلمانوں کے اسلاف پر طعن و تشنیع سے لبریز کتابیں تصنیف کیں۔ اس کی تقریباً دو سو کتابیں ہیں۔ 414 ہجری میں فوت ہوا۔ (لسان المیزان لابن حجر: جلد 5 صفحہ 368۔ الاعلام للزرکلی: جلد 7 صفحہ 21۔) جو ان کے بڑے علماء میں شمار ہوتا ہے۔ وہ تاکیداً لکھتا ہے کہ یہ روایات شیعہ کے نزدیک صحیح اور تسلیم شدہ ہیں۔ وہ کہتا ہے:’’ ماریہ قبطیہ پر عائشہ کے تہمت لگانے والی روایت رافضیوں کے نزدیک صحیح و مسلم ہے۔‘‘

 (رسالۃ فیما اشکل من خبر ماریۃ للمفید: صفحہ 29۔)

گویا یہ روایت تمام رافضیوں کے نزدیک صحیح ہے۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل و افتراء ات الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 103۔ و الحصون المنیعۃ فی براءۃ عائشۃ الصدیقۃ من افتراء ات الشیعۃ لمحمد عارف الحسینی، صفحہ 54۔ الفتح الانعم فی براء ۃ عائشۃ و مریم لعلی احمد العال الطہطاوی: صفحہ 30)

روافض یہ روایت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بھی نقل کرتے ہیں:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِيۡبُوۡا قَوۡمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞ (سورۃ الحجرات آیت 6)

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔

علی بن ابراہیم قمی نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی تصنیف شدہ تفسیر (تفسیر قمی: جلد 2 صفحہ 318، 319)میں لکھا ہے:

’’یہ آیت ام ابراہیم ماریہ قبطیہ کی شان میں نازل ہوئی اور اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: بے شک ابراہیم آپ کے نطفے سے نہیں بلکہ وہ جریج قبطی سے ہے۔ کیونکہ وہ ماریہ کے پاس ہر روز آتا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا: تو یہ تلوار پکڑ لے اور مجھے جریج کا سر لا دے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ

(البرہان فی تفسیر القرآن للبحرانی: جلد 13 صفحہ 138۔ تفسیر نور الثقلین للحویزی: جلد 5 صفحہ 81۔ بحار الانوار للمجلسی: جلد 22، صفحہ 153، 154)

صفحہ 4 از 6