پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 6

ہم یہاں کتب اہل السنۃ سے صحیح روایت اس لیے نقل کر رہے ہیں تاکہ ہماری پہلی تحریر کردہ بات مزید موکد و موثق ہو جائے کہ شیعوں کا خاص اسلوب صحیح نصوص میں فاسد اضافے شامل کرنا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح روایت کو شیعوں نے کس قدر مسخ کیا ہے اور اس میں کتنا ردّ و بدل کیا ہے۔

طحاوی (احمد بن محمد بن سلامہ ابو جعفر طحاوی، حنفی، امام، حافظ محدث مصر، فقیہ، 321ہجری میں پیدا ہوا۔ ثبت، کوفیوں کے احوال کا سب سے بڑا عالم نیز دیگر مذاہب کو بھی بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’شرح معانی الآثار‘‘ اور ’’بیان مشکل الآثار‘‘ ہیں۔ 321 ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 15 صفحہ 27۔ تاج التراجم لابن قطلوبغا: صفحہ 100) نے بواسطہ عبدالرحمن بن صالح ازدی کوفی اور بزار، ابو نعیم ابن عساکر اور ضیاء مقدسی (یہ محمد بن عبدالواحد بن احمد ابو عبداللہ المقدسی الحنبلی ہیں۔ الشیخ، الامام، الحافظ، الحجۃ، امانت و دیانت کے ساتھ احادیث کی چھان بین کی۔ جرح و تعدیل میں ہمیشہ اعتدال سے کام لیا۔ احادیث کی صحت کی علامات اور ان کی علتوں کو بیان کیا۔ 569 ہجری میں پیدا ہوا اور 643 ہجری میں وفات پائی۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’فضائل الاعمال‘‘ اور ’’الاحادیث المختارۃ‘‘ مشہور ہیں۔) نے بواسطہ ابو کریب محمد بن العلاء ہمدانی نے ان سب نے بواسطہ یونس بن بکیر، اس نے بواسطہ محمد بن اسحاق، اس نے ابراہیم بن محمد بن علی بن ابی طالب سے اس نے اپنے باپ محمد سے اس نے اپنے باپ علی بن ابی طالب سے روایت کی کہ لوگوں نے ماریہ رضی اللہ عنہا کو اس کے چچا زاد قبطی کے ساتھ بہت زیادہ مطعون کیا جو اس کے پاس آتا رہتا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’تو یہ تلوار لے جا اور اگر تو نے اسے اس (ماریہ) کے پاس دیکھا تو اسے قتل کر دے۔‘‘ طویل حدیث ہے۔

(اسے طحاوی نے ’’شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر: 4953 میں اور بزار نے مسند: جلد 2 صفحہ 237، حدیث نمبر: 634 میں اور ضیاء المقدسی نے الاحادیث المختارۃ، حدیث نمبر: 735 میں اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 177،178 میں روایت کیا۔ مقدسی نے کہا اس حدیث کا ایک شاہد صحیح مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر: 1904 میں صحیح کہا ہے۔ )

لیکن اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ نہیں ۔ ہر صاحب انصاف اور حق کے پیروکار کو غور کرنا چاہیے کہ رافضیوں نے اس روایت کو کس طرح تبدیل کیا اور اس مکر و فریب کے کس طرح طومار باندھے۔ گویا جو صحیح روایت ہے وہ منافقوں کے سیاق میں ہے نہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں۔ چنانچہ منافقین ہی ماریہ کے متعلق جھوٹی خبریں پھیلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان الزامات سے بری کر دیا۔ منافقین دراصل اپنے سرغنہ عبداللہ بن ابی کے پیچھے لگ کر اس سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچا چکے تھے اور اسے بھی اللہ تعالیٰ نے اس گھناؤنے الزام سے بری کر دیا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ تو اپنے رسول کا احترام کرتا ہے اور اس کی کسی بیوی پر تہمت نہ لگائے گا نہ اسے تہمت لگانے والوں میں شامل کرے گا۔ خصوصاً جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت قرآن میں نازل ہو گئی جو روئے زمین کے مشرق سے لے کر مغرب تک اور قیامت آنے تک پڑھی جاتی رہے گی۔ ہر مومن اس کی برأت، اس کی فضیلت اور اسلام میں اس کی قدر و منزلت پر ایمان رکھے گا اور قرآن میں جو کچھ اس کی شان میں نازل ہوا ہے ہر مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے اصحابؓ اور آپ کے خاندان سے کینہ رکھنے والا ہر زندیق و ملحد اس پر بہتان لگاتا رہے گا۔

(الانتصار لکتاب العزیز الجبار و للصحابۃ الاخیار علی اعدائہم الاشرار للدکتور ربیع المدخلی: صفحہ 396، 397)

اس قصہ پر توجہ مرکوز کر کے روافض متعدد مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں:

1۔ اہل روافض کے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ابھی زنا کے الزام سے بری نہیں ہوئیں، کیونکہ سورۂ نور کی مذکورہ دس آیات ان کی برأت میں نازل نہیں ہوئیں، بلکہ یہ ماریہ کی برأت  میں نازل ہوئیں جس پر رافضیوں کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زنا کی تہمت لگائی۔

2۔ دراصل یہ دشنام طرازی اور بہتان تراشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہے۔ کیونکہ اس واقعہ کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا چھ سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور صحبت میں رہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی (سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) کے گھر میں وفات پائی۔

چنانچہ خبیث فطرت لوگوں کی طرف سے اس تہمت کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، عصمت، شرف و کرامت، آپ کی رسالت بلکہ براہ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مردانگی اور غیرت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیونکہ جس مرد کے پاس معمولی سی غیرت اور وقار ہو گا وہ اپنی حفاظت میں ایسی عورت کو چھ سال تو کیا ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتا، اور جس عورت کی برأت بھی ثابت نہ ہو۔ رافضیوں کا اصل مقصد یہی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باز بیویوں کا روافض کے نزدیک یہ مقام ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو پر اس سے زیادہ گھناؤنا اور اس سے زیادہ مکارانہ الزام کیا ہو سکتا ہے؟!

3۔ خباثت کی انتہا ہو گئی کہ رافضیوں اور منافقوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مطعون ٹھہرایا کہ اس نے ماریہ رضی اللہ عنہا کو مطعون ٹھہرایا کہ جب اس نے ماریہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائی۔ تاکہ وہ لوگوں کو یہ تصور دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس گھرانہ روئے زمین پر شر اور شرارت سے پُر گھرانہ تھا کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ایک دوسرے پر زنا کی تہمتیں لگاتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلحتاً خاموش رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جن بیویوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

صفحہ 5 از 6