پانچواں بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

پانچواں بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 6

يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 32)

ترجمہ:’’اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو۔‘‘

امہات المؤمنینؓ سب تقویٰ اور اخلاق حسنہ میں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکریم کرتے ہوئے ان کو امہات المؤمنینؓ قرار دیا کہ تکریم و تقدیس میں وہ تمام سب اہل ایمان کی ماؤں جیسی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلنَّبِىُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ‌ وَاَزۡوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمۡ‌۞ (سورۃ الأحزاب آیت 6)

ترجمہ: ’’یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے معاملے میں درج ذیل آیات نازل فرمائیں:

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞ وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 28، 29)

ترجمہ: اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس فرمان الہٰی کی روشنی میں اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو سب نے بیک زبان اور ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر یا کسی قسم کی ذرہ بھی ہچکچاہٹ اور تردّد کے بغیر اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کے حصول کو اختیار کیا۔ ان سب سے پہلے اس امتحان میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کامیاب ہوئیں۔ جبکہ رافضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے اس بلند مقام و مرتبے کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہر وقت جلتے اور کڑھتے رہتے ہی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بے شمار فضائل بیان کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح سب کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔ وہ تمام جہانوں کی عورتوں سے شریعت مطہرہ کی بڑی عالمہ تھیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم ان کی تکریم کرتے تھے اور ان کی علمی منزلت کے معترف تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب بھی کوئی مشکل مسئلہ درپیش آتا وہ اس کے حل کی تلاش میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے اور وہاں سے انھیں مسئلہ کا حل مل جاتا۔ تمام صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بیان کردہ روایات پر حد درجہ اعتماد کرتے تھے۔

(دکتور ربیع بن ہادی المدخلی کے علمی مقالہ بعنوان ’’المہدی بین اہل السنۃ و الروافض‘‘ سے ایک اقتباس۔)


صفحہ 6 از 6