رد شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

رد شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

رد شبہ

اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ بتانا تھا کہ مرکز فتن مشرق کی جانب ہے۔ یہ مقصود ہر گز نہ تھا کہ مرکز فتنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر ہے۔ کیونکہ اصلاً وہ گھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نہیں، بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ اس لیے اس گھر کو مرکز فتنہ کہنا بہت ہی ظلم اور کفر کی بات ہے۔ ویسے بھی اس حدیث کے سارے متن اس بات پر متفق ہیں کہ فتنوں کا منبع مشرق ہے۔ جب مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے قیام (منبر) کو تصور میں لائیں اور اس جگہ کا کوئی اعتبار نہیں جہاں کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ہو یا اپنی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا ہو، یا اپنی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلتے وقت یہ فرمایا ہو۔ یا آپ مدینہ کے کسی کھنڈر یا ٹیلے (اطم: اس کی جمع آطام ہے۔ بلند عمارت، جیسے قلعہ وغیرہ۔ (غریب الحدیث لابی عبید: جلد 2 صفحہ 73۔ غریب الحدیث لابن قتیبہ: جلد 2 صفحہ 286۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 54) پر چڑھ کر یہ فرما رہے ہوں، یا کہیں اور کھڑے ہو کر فرما رہے ہوں جیسا کہ دیگر صحیح روایات میں موجود ہے۔ بعض روایات کی تصریح کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرق کے درمیان بیت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے وجود کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا مقصود وہی تھا کہ یہاں فتنہ ہے۔

جگہ یا وقت کا تذکرہ حدیث کے مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتا اور ان روایات میں کوئی تعارض یا مخالفت نہیں کیونکہ حدیث میں بیان کرنا یہ مقصود ہے کہ فتنہ کی سمت مشرق ہو گی اور اسی معنیٰ پر علم حدیث کی معرفت رکھنے والے بیشتر علماء کا اتفاق ہے۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 147)

نیز ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بے شمار صحیح روایات میں وضاحت آ چکی ہے جو درج بالا معنیٰ حدیث کی تاکید کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عراق تھی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔

حدیث نمبر1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ہَا إِنَّ الْفِٹْنَۃَ ہَاہُنَا ، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا،مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔

’’بے شک فتنہ یہاں ہے۔ بے شک فتنہ یہاں ہے جہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3279۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2905)

حدیث نمبر 2۔دوسری روایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے:

فَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: اَلْفِتْنَۃُ ہَاہُنَا، حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔

’’ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہاں فتنہ ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2905۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرما رہے تھے: ’’فتنہ یہاں ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔‘‘ آپﷺ نے یہ بات دو یا تین بار ارشاد فرمائی۔ عبیداللہ بن سعدؓ نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔)

حدیث نمبر 3۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ عراق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دیکھا (آپ فرما رہے تھے):

ہَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا، ہَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔

’’خبردار! بے شک فتنہ یہاں ہے۔ خبردار! بے شک فتنہ یہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 143 حدیث نمبر: 6302۔ احمد شاکر نے ’’تحقیق المسند‘‘ میں جلد 9 صفحہ 105 پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور شعیب ارناؤوط نے تحقیق ’’مسند احمد‘‘ میں اسے صحیح کہا اور اس نے کہا یہ شیخان کی شرط پر ہے۔

حدیث نمبر 4۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کی اور فرمایا:

اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا وَفِی یَمَنِنَا قَالَ قَالُوا وَفِی نَجْدِنَا قَالَ، قَالَ اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا وَفِی یَمَنِنَا قَالَ قَالُوا وَفِی نَجْدِنَا قَالَ قَالَ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7094)

’’اے اللہ! تو ہمارے شام میں برکت ڈال، اے اللہ تو ہمارے یمن میں برکت ڈال۔‘‘ سامعین نے کہا: اور ہمارے نجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ! تو ہمارے شام میں برکت ڈال، اے اللہ تو ہمارے یمن میں برکت ڈال۔‘‘ سامعین نے کہا: اے اللہ کے رسو ! اور ہمارے نجد میں؟ بقول راوی میرے گمان کے مطابق تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 4