Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رد شبہ

  علی محمد الصلابی

رد شبہ

اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ بتانا تھا کہ مرکز فتن مشرق کی جانب ہے۔ یہ مقصود ہر گز نہ تھا کہ مرکز فتنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر ہے۔ کیونکہ اصلاً وہ گھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نہیں، بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ اس لیے اس گھر کو مرکز فتنہ کہنا بہت ہی ظلم اور کفر کی بات ہے۔ ویسے بھی اس حدیث کے سارے متن اس بات پر متفق ہیں کہ فتنوں کا منبع مشرق ہے۔ جب مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے قیام (منبر) کو تصور میں لائیں اور اس جگہ کا کوئی اعتبار نہیں جہاں کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: چاہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ہو یا اپنی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا ہو، یا اپنی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلتے وقت یہ فرمایا ہو۔ یا آپ مدینہ کے کسی کھنڈر یا ٹیلے (اطم: اس کی جمع آطام ہے۔ بلند عمارت، جیسے قلعہ وغیرہ۔ (غریب الحدیث لابی عبید: جلد 2 صفحہ 73۔ غریب الحدیث لابن قتیبہ: جلد 2 صفحہ 286۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 54) پر چڑھ کر یہ فرما رہے ہوں، یا کہیں اور کھڑے ہو کر فرما رہے ہوں جیسا کہ دیگر صحیح روایات میں موجود ہے۔ بعض روایات کی تصریح کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرق کے درمیان بیت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے وجود کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا مقصود وہی تھا کہ یہاں فتنہ ہے۔

جگہ یا وقت کا تذکرہ حدیث کے مفہوم پر اثر انداز نہیں ہوتا اور ان روایات میں کوئی تعارض یا مخالفت نہیں کیونکہ حدیث میں بیان کرنا یہ مقصود ہے کہ فتنہ کی سمت مشرق ہو گی اور اسی معنیٰ پر علم حدیث کی معرفت رکھنے والے بیشتر علماء کا اتفاق ہے۔

(الصاعقۃ فی نسف اباطیل الشیعۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 147)

نیز ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بے شمار صحیح روایات میں وضاحت آ چکی ہے جو درج بالا معنیٰ حدیث کی تاکید کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عراق تھی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔

حدیث نمبر1۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ہَا إِنَّ الْفِٹْنَۃَ ہَاہُنَا ، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا،مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔

’’بے شک فتنہ یہاں ہے۔ بے شک فتنہ یہاں ہے جہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3279۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2905)

حدیث نمبر 2۔دوسری روایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے:

فَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: اَلْفِتْنَۃُ ہَاہُنَا، حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔

’’ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہاں فتنہ ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2905۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرما رہے تھے: ’’فتنہ یہاں ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔‘‘ آپﷺ نے یہ بات دو یا تین بار ارشاد فرمائی۔ عبیداللہ بن سعدؓ نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔)

حدیث نمبر 3۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ عراق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دیکھا (آپ فرما رہے تھے):

ہَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا، ہَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔

’’خبردار! بے شک فتنہ یہاں ہے۔ خبردار! بے شک فتنہ یہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 143 حدیث نمبر: 6302۔ احمد شاکر نے ’’تحقیق المسند‘‘ میں جلد 9 صفحہ 105 پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور شعیب ارناؤوط نے تحقیق ’’مسند احمد‘‘ میں اسے صحیح کہا اور اس نے کہا یہ شیخان کی شرط پر ہے۔

حدیث نمبر 4۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کی اور فرمایا:

اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا وَفِی یَمَنِنَا قَالَ قَالُوا وَفِی نَجْدِنَا قَالَ، قَالَ اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا وَفِی یَمَنِنَا قَالَ قَالُوا وَفِی نَجْدِنَا قَالَ قَالَ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7094)

’’اے اللہ! تو ہمارے شام میں برکت ڈال، اے اللہ تو ہمارے یمن میں برکت ڈال۔‘‘ سامعین نے کہا: اور ہمارے نجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ! تو ہمارے شام میں برکت ڈال، اے اللہ تو ہمارے یمن میں برکت ڈال۔‘‘ سامعین نے کہا: اے اللہ کے رسو ! اور ہمارے نجد میں؟ بقول راوی میرے گمان کے مطابق تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘

صحیح مسلم میں یہ روایت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (سالم بن عبداللہ بن عمر۔ ابو عمر القرشی العدوی۔ فقیہ، حجہ، امام، زاہد، حافظ، مفتی المدینہ، یہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے علم و عمل اور زہد و شرف کو اکٹھا کیا۔ مدینہ منورہ کے فقہاء السبعہ میں سے ایک ہیں۔ 106 یا 108 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 457۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 255۔) سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: اے اہل عراق! میں کسی صغیرہ گناہ کے بارے میں تم سے سوال نہیں کروں گا اور نہ میں تمھیں کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے کی ترغیب دوں گا اور نہ دیتا ہوں۔ میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، وہ فرمارہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: 

اِنَّ الْفِتْنَۃَ تَجِیْئُ مِنْ ہَاہُنَا وَ اَوْمَاَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَیْثُ یَطْلُعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ، وَ اَنْتُمْ یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2905)۔

’’بے شک فتنہ یہاں سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں اور تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔‘‘

حدیث نمبر 5۔ سیدنا ابو مسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ ابو مسعود البدری جلیل القدر صحابی ہیں جو لوگ بیعت عقبہ میں حاضر تھے ان میں سب سے کم عمر یہی تھے۔ تقریباً سارے غزوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شریک ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مویدین میں سے تھے۔ ایک بار سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں کوفہ میں اپنا نائب بنایا۔ تقریباً 40 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبد البر: جلد 1 صفحہ 330۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 524) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

اَلْاِیْمَانُ ہَاہُنَا وَ اَشَارَ بِیَدِہٖ اِلَی الْیَمَنِ وَ الْجِفَائُ وَ غِلَظُ الْقُلُوْبِ فِی الْفَدَّادِیْنَ (اَلْفَدَّادُوْنَ: جو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اپنے مویشیوں کو بلند آواز سے ہانکتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 419) عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْاِبِلِ مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ، رَبِیْعَۃَ، وَ مُضَرَ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4387۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 51)

کاشتکاروں کے پاس ہے جو اونٹوں کی دموں کے پاس ہوتے ہیں، جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں۔ جو ربیعہ اور مضر کی سرزمین ہے۔‘‘

ان احادیث میں کی گئی وضاحت سے بخوبی پتا چل رہا ہے کہ بیان نبوی کے مطابق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہرگز مراد نہیں ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں اس وقت اہل مشرق کفر پر تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ فتنہ اس جانب سے ہو گا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی تھی ویسے ہی ہوا اور اسلام میں سب سے پہلا فتنہ مشرق کی جانب سے اٹھا۔ جو امت مسلمہ میں تفرقہ کا سبب بنا اور یہی چیز شیطان کی پسندیدہ ہے اور وہ اسی سے خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح بدعتی فرقے بھی اسی جانب سے نمودار ہوئے۔

علامہ خطابی رحمہ اللہ (حمد بن محمد بن ابراہیم ابو سلیمان البستی الخطابی، امام، علامہ، حافظ، نحوی، محدث، طلب علم میں کثرت سے سفر کیے۔ فن تصنیف سے انھیں خصوصی لگاؤ تھا۔ لغت، فقہ، اور ادیب عالم تھے ان کی تصنیفات میں سے ’’معالم السنن‘‘ اور ’’شان الدعا‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 388 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 17 صفحہ 23۔ طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ: جلد 1 صفحہ 156)  لکھتے ہیں: ’’نجد مشرق کی جانب ہے اور جو مدینہ میں رہائش پذیر ہو تو عراق کا صحراء اور گرد و پیش اس کے لیے نجد کہلائے گا اور وہ اہل مدینہ کے مشرق کی جانب ہے۔ نجد لغت میں زمین سے بلند جگہ کو کہتے ہیں اور یہ ’’الغور‘‘ بمعنی غار کے برعکس ہے، کیونکہ یہ زمین کی پستی اور زیریں حصے کو کہتے ہیں اور سارے کا سارا تہامہ الغور ہے اور مکہ تہامہ میں ہے۔۔۔ انتہٰی‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 47)

نیز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفر کا سر مشرق کی طرف ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3301۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 52)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مجوسیوں کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ فارس اور ان کے متبعین عرب مدینہ کی نسبت مشرق کی جانب تھے اور وہ انتہا درجے کے سنگ دل، متکبر اور ظالم تھے۔ حتیٰ کہ ان کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مبارک پھاڑ ڈالا۔

(فتح الباری، لابن حجر: جلد 6 صفحہ 352)

دوم: رافضیوں کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا یہ سراسر کذب، تہمت اور بہتان ہے، حدیث کی مختلف روایات میں سے کسی میں یہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ حدیث کے تو یہ الفاظ ہیں:

اِنَّہٗ اَشَارَ نَحْوَ بَیْتِ عَائِشَۃَ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب یا سمت میں اشارہ کیا۔

روافض کا متکبرانہ مکر و فریب کا یہ جال دو رافضیوں نے بچھایا ہے۔

1۔ عبدالحسین نے اپنی کتاب ’’المراجعات‘‘ میں اور 2۔ التیجانی السماوی (محمد التیجانی السماوی التیونسی۔ پہلے یہ صوفی پھر شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کا داعی بن گیا۔1362 ہجری میں پیدا ہوا اس کی تصنیفات میں سے ’’ثم اہتدیت‘‘ و ’’الشیعۃ ہم اہل السنۃ‘‘ ہیں۔ (دیکھیں : کتاب ’’ثم اہتدیت‘‘) نے اپنی کتاب ’’فاسألوا اہل الذکر‘‘ میں۔

(المراجعات: صفحہ 237)

علمائے اہل سنت نے گمراہی اور باطل کے ان دونوں مرجع کو منہ توڑ اور دندان شکن جواب دیا ہے۔ پہلے یعنی عبدالحسین کا ردّ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس طرح کیا: ’’متعصب شیعی عبدالحسین نے اپنی کتاب ’’المراجعات‘‘ میں متعدد فصول قائم کی ہیں، جن میں وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے جھوٹی اور من گھڑت روایات، بہتانات کا سہارا لیتے ہوئے شرم و حیا سے بالکل عاری اور اس نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ قبیح فعل سرانجام دیا ہے۔ بلکہ صحیح احادیث میں تحریف کرتے ہوئے یہود کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو مسخ کرے اور اس کے ہاتھوں کو مفلوج کرے۔

وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کو فتنہ مذکورہ گرداننے کی سعی لاحاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ‌اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا‏ ۞ (سورۃ الكهف آیت 5)

ترجم:ہ بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

اس نے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر درج ذیل بہتان لگانے کے لیے گزشتہ دونوں روایات کو توڑ مروڑ کر ان پر اعتماد کا عندیہ دیا ہے:

الف: بخاری کی روایت جس کے الفاظ یہ ہیں:

فَاَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب یا سمت میں اشارہ کیا۔

ب: صحیح مسلم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے۔ تو فرمایا: ’’کفر کا سر یہاں سے ہے۔‘‘ ان الفاظ سے ’’المراجعات‘‘ کے مصنف نے یہ وہم ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تھا اور فتنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود عائشہ بذات خود ہیں۔ (معاذ اللّٰہ)

جواب:

یہی فعل یہود کا تھا جو کتاب اللہ کے الفاظ میں تحریف کر کے لوگوں کو اپنی مرضی کے احکام سنایا کرتے تھے۔ پہلی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان فَاَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ تو رافضی جاہل نے ’’نَحْوَ‘‘ کا معنی ’’اِلٰی‘‘ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے نص حدیث میں ’’الی‘‘ کی بجائے نحو کا لفظ روافض کے باطل مقصود کی قلعی کھولتا ہے اور خصوصاً جب بیشتر روایات میں صراحت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور بعض روایات میں عراق کا لفظ ہے اور تاریخی حقائق اسی کی گواہی دیتے ہیں۔

نیز عکرمہ کی روایت شاذ ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے اور اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی یہ نہایت مختصر روایت ہے حتیٰ کہ معانی بھی غلط ہیں اور اس سے رافضی نے من پسند اور نہایت قبیح نتیجہ نکالا ہے، جیسا کہ احادیث کے متعدد الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ خلاصہ حدیث یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر منبر کی ایک جانب کھڑے ہو کر وعظ کرنے لگے اور ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج طلوع ہونے کی جانب منہ کر لیا اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ ’’آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارہ کیا۔‘‘ اور احمد کی روایت میں ہے ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے عراق کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔‘‘ جب کوئی منصف مزاج شخص غیر جانب دار ہو کر روایات کے اس مجموعے پر ایک نظر ڈالے گا تو اس غالی اور کوڑھ مغز رافضی کی رائے کے بطلان کا وہ حتمی فیصلہ کرے گا جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مطعون ٹھہرانے کے لیے قائم کی ہے۔ اللہ عزوجل اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کا وہ مستحق ہے۔

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 652، 657)

اور بخاری کی صحیح و ثابت روایت کے یہ الفاظ ہیں جسے ہم ابن عمر کی روایت سے کچھ دیر پہلے نقل کر چکے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارہ کیا اور تین بار فرمایا: یہاں فتنہ ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3104)

دوسرا بدبخت جس نے رسوائی کی سیاہی اپنے مکروہ چہرے پر ملی ہے، تیجانی سماوی ہے، اس کا ردّ رحیلی نے کیا ہے اس نے کہا:’’راوی کا یہ کہنا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارہ کیا‘‘ چونکہ اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فتنہ کا سبب ہے حالانکہ حدیث کسی بھی طرح اس معنیٰ پر دلالت نہیں کرتی اور کلام عرب کا جو ادنیٰ فہم رکھتا ہے اس کے نزدیک حدیث ان معانی کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ راوی کہتا ہے اَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب یہ صحیح ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر مسجد نبوی کے مشرق میں واقع تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ گھر کی جانب کیا جو مشرق کی طرف تھا، نہ کہ گھر کی طرف کیا اور اگر اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف ہوتا تو راوی کہتا: اَشَارَ اِلٰی مَسْکَنِ عَائِشَۃَ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور راوی یہ کہتا: اِلٰی جِہَۃِ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اور دونوں عبارتوں میں فرق بالکل واضح اور صریح ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل من الافتراء ات السماوی الضال للرحیلی: 321)

سوم: جس دلیل سے روافض نے استدلال کیا ہے وہی دلیل ان کے ناصبی دشمنوں نے ان پر پلٹا دی ہے۔

شیخ عبدالقادر صوفی کہتا ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارے سے یہ استدلال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کہ ’’فتنہ یہاں سے ہو گا‘‘ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مصدر و مرکز فتنہ ہے۔ یہ استدلال بالکل باطل و مردود ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے کے دوران اپنے منبر پر کھڑے تھے۔ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے گھروں کی مغربی جانب تھا اور تمام گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے دائیں جانب مدینہ کے مشرق میں تھے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں جھگڑے یا مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں۔

روافض نے جس طرح اپنی خواہش کے مطابق مشرقی جانب کی تفسیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے کی ہے تو خارجیوں نے اپنی خواہش کی پیروی میں مشرق کی تفسیر سیدہ فاطمہ الزہرا کے گھر سے کی ہے اور یہ دونوں گروہوں کی حماقت کی واضح دلیل ہے۔‘‘

(الصاعقۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 151)

چہارم: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو مطعون کرنے کا اصل مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے گھر کو مطعون کرنا ہے۔ کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن ہیں۔ یہ حقیقت نصف النہار کی طرف واضح ہے۔ کیونکہ یہ شیعہ اور اہل سنت کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ اس لیے اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بقول شاعر:

وَ لَیْسَ یَصِحُّ فِی الْاَذْہَانِ شَیْئٌ

اِذَا احْتَاجَ النَّہَارُ اِلٰی دَلِیْلٍ

’’جب دن کو دلیل کی ضرورت ہو تو ذہنوں میں کچھ بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ ‘‘

اس سے روافض پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور رسالت پر طعن کریں کیونکہ آپ کے گھر میں طعن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر طعن لازم آتا ہے اس لیے غور کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ امام ابو الوفاء بن عقیل حنبلی پر رحم کرے۔ وہ کہتے ہیں تم ذرا انصاف سے دیکھو۔ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ایام گزارنے کے لیے بیٹی کا گھر منتخب کیا اور اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کے لیے اس کے باپ کا انتخاب کیا تو پھر یہ کیا غفلت کے پردے ہیں جنھوں نے روافض کے دلوں کو ڈھانپ رکھا ہے اور یہ حقیقت گونگے بہروں سے نہیں چھپ سکتی تو بولنے اور دیکھنے والوں سے کیسے چھپ گئی؟

(الاجابۃ لا یراد مااستدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 54)

پنجم: اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو برسر منبر لوگوں کے جم غفیر کے سامنے آپ کی بیوی کو گالیاں دے۔ اللہ کی قسم! یہ مردانگی نہیں ہے۔۔۔ اور نہ آداب اور نہ اخلاق سے اس اسلوب کا کوئی ادنیٰ سا تعلق ہے۔ تم تو اپنی غلیظ فطرت کی بنا پر ایسے گھٹیا الزام سرور کونین خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، ان کے گھر اور ان کی محبوب بیوی پر لگا رہے ہو۔ اللہ کی پناہ!