رد شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

رد شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

صحیح مسلم میں یہ روایت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (سالم بن عبداللہ بن عمر۔ ابو عمر القرشی العدوی۔ فقیہ، حجہ، امام، زاہد، حافظ، مفتی المدینہ، یہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے علم و عمل اور زہد و شرف کو اکٹھا کیا۔ مدینہ منورہ کے فقہاء السبعہ میں سے ایک ہیں۔ 106 یا 108 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 457۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 2 صفحہ 255۔) سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: اے اہل عراق! میں کسی صغیرہ گناہ کے بارے میں تم سے سوال نہیں کروں گا اور نہ میں تمھیں کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے کی ترغیب دوں گا اور نہ دیتا ہوں۔ میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، وہ فرمارہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: 

اِنَّ الْفِتْنَۃَ تَجِیْئُ مِنْ ہَاہُنَا وَ اَوْمَاَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَیْثُ یَطْلُعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ، وَ اَنْتُمْ یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2905)۔

’’بے شک فتنہ یہاں سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں اور تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔‘‘

حدیث نمبر 5۔ سیدنا ابو مسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ ابو مسعود البدری جلیل القدر صحابی ہیں جو لوگ بیعت عقبہ میں حاضر تھے ان میں سب سے کم عمر یہی تھے۔ تقریباً سارے غزوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شریک ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مویدین میں سے تھے۔ ایک بار سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں کوفہ میں اپنا نائب بنایا۔ تقریباً 40 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبد البر: جلد 1 صفحہ 330۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 524) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

اَلْاِیْمَانُ ہَاہُنَا وَ اَشَارَ بِیَدِہٖ اِلَی الْیَمَنِ وَ الْجِفَائُ وَ غِلَظُ الْقُلُوْبِ فِی الْفَدَّادِیْنَ (اَلْفَدَّادُوْنَ: جو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اپنے مویشیوں کو بلند آواز سے ہانکتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 3 صفحہ 419) عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْاِبِلِ مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ، رَبِیْعَۃَ، وَ مُضَرَ۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4387۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 51)

کاشتکاروں کے پاس ہے جو اونٹوں کی دموں کے پاس ہوتے ہیں، جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں۔ جو ربیعہ اور مضر کی سرزمین ہے۔‘‘

ان احادیث میں کی گئی وضاحت سے بخوبی پتا چل رہا ہے کہ بیان نبوی کے مطابق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہرگز مراد نہیں ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں اس وقت اہل مشرق کفر پر تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ فتنہ اس جانب سے ہو گا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی تھی ویسے ہی ہوا اور اسلام میں سب سے پہلا فتنہ مشرق کی جانب سے اٹھا۔ جو امت مسلمہ میں تفرقہ کا سبب بنا اور یہی چیز شیطان کی پسندیدہ ہے اور وہ اسی سے خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح بدعتی فرقے بھی اسی جانب سے نمودار ہوئے۔

علامہ خطابی رحمہ اللہ (حمد بن محمد بن ابراہیم ابو سلیمان البستی الخطابی، امام، علامہ، حافظ، نحوی، محدث، طلب علم میں کثرت سے سفر کیے۔ فن تصنیف سے انھیں خصوصی لگاؤ تھا۔ لغت، فقہ، اور ادیب عالم تھے ان کی تصنیفات میں سے ’’معالم السنن‘‘ اور ’’شان الدعا‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 388 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 17 صفحہ 23۔ طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ: جلد 1 صفحہ 156)  لکھتے ہیں: ’’نجد مشرق کی جانب ہے اور جو مدینہ میں رہائش پذیر ہو تو عراق کا صحراء اور گرد و پیش اس کے لیے نجد کہلائے گا اور وہ اہل مدینہ کے مشرق کی جانب ہے۔ نجد لغت میں زمین سے بلند جگہ کو کہتے ہیں اور یہ ’’الغور‘‘ بمعنی غار کے برعکس ہے، کیونکہ یہ زمین کی پستی اور زیریں حصے کو کہتے ہیں اور سارے کا سارا تہامہ الغور ہے اور مکہ تہامہ میں ہے۔۔۔ انتہٰی‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 47)

نیز سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفر کا سر مشرق کی طرف ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3301۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 52)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مجوسیوں کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ فارس اور ان کے متبعین عرب مدینہ کی نسبت مشرق کی جانب تھے اور وہ انتہا درجے کے سنگ دل، متکبر اور ظالم تھے۔ حتیٰ کہ ان کے بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مبارک پھاڑ ڈالا۔

(فتح الباری، لابن حجر: جلد 6 صفحہ 352)

دوم: رافضیوں کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا یہ سراسر کذب، تہمت اور بہتان ہے، حدیث کی مختلف روایات میں سے کسی میں یہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ حدیث کے تو یہ الفاظ ہیں:

اِنَّہٗ اَشَارَ نَحْوَ بَیْتِ عَائِشَۃَ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب یا سمت میں اشارہ کیا۔

روافض کا متکبرانہ مکر و فریب کا یہ جال دو رافضیوں نے بچھایا ہے۔

1۔ عبدالحسین نے اپنی کتاب ’’المراجعات‘‘ میں اور 2۔ التیجانی السماوی (محمد التیجانی السماوی التیونسی۔ پہلے یہ صوفی پھر شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کا داعی بن گیا۔1362 ہجری میں پیدا ہوا اس کی تصنیفات میں سے ’’ثم اہتدیت‘‘ و ’’الشیعۃ ہم اہل السنۃ‘‘ ہیں۔ (دیکھیں : کتاب ’’ثم اہتدیت‘‘) نے اپنی کتاب ’’فاسألوا اہل الذکر‘‘ میں۔

(المراجعات: صفحہ 237)

صفحہ 2 از 4