رد شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

رد شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

علمائے اہل سنت نے گمراہی اور باطل کے ان دونوں مرجع کو منہ توڑ اور دندان شکن جواب دیا ہے۔ پہلے یعنی عبدالحسین کا ردّ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس طرح کیا: ’’متعصب شیعی عبدالحسین نے اپنی کتاب ’’المراجعات‘‘ میں متعدد فصول قائم کی ہیں، جن میں وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے جھوٹی اور من گھڑت روایات، بہتانات کا سہارا لیتے ہوئے شرم و حیا سے بالکل عاری اور اس نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ قبیح فعل سرانجام دیا ہے۔ بلکہ صحیح احادیث میں تحریف کرتے ہوئے یہود کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو مسخ کرے اور اس کے ہاتھوں کو مفلوج کرے۔

وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کو فتنہ مذکورہ گرداننے کی سعی لاحاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ‌اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا‏ ۞ (سورۃ الكهف آیت 5)

ترجم:ہ بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے۔ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔

اس نے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر درج ذیل بہتان لگانے کے لیے گزشتہ دونوں روایات کو توڑ مروڑ کر ان پر اعتماد کا عندیہ دیا ہے:

الف: بخاری کی روایت جس کے الفاظ یہ ہیں:

فَاَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب یا سمت میں اشارہ کیا۔

ب: صحیح مسلم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے۔ تو فرمایا: ’’کفر کا سر یہاں سے ہے۔‘‘ ان الفاظ سے ’’المراجعات‘‘ کے مصنف نے یہ وہم ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تھا اور فتنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود عائشہ بذات خود ہیں۔ (معاذ اللّٰہ)

جواب:

یہی فعل یہود کا تھا جو کتاب اللہ کے الفاظ میں تحریف کر کے لوگوں کو اپنی مرضی کے احکام سنایا کرتے تھے۔ پہلی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان فَاَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ تو رافضی جاہل نے ’’نَحْوَ‘‘ کا معنی ’’اِلٰی‘‘ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے نص حدیث میں ’’الی‘‘ کی بجائے نحو کا لفظ روافض کے باطل مقصود کی قلعی کھولتا ہے اور خصوصاً جب بیشتر روایات میں صراحت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور بعض روایات میں عراق کا لفظ ہے اور تاریخی حقائق اسی کی گواہی دیتے ہیں۔

نیز عکرمہ کی روایت شاذ ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے اور اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی یہ نہایت مختصر روایت ہے حتیٰ کہ معانی بھی غلط ہیں اور اس سے رافضی نے من پسند اور نہایت قبیح نتیجہ نکالا ہے، جیسا کہ احادیث کے متعدد الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں۔ خلاصہ حدیث یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر منبر کی ایک جانب کھڑے ہو کر وعظ کرنے لگے اور ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج طلوع ہونے کی جانب منہ کر لیا اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ ’’آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارہ کیا۔‘‘ اور احمد کی روایت میں ہے ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے عراق کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔‘‘ جب کوئی منصف مزاج شخص غیر جانب دار ہو کر روایات کے اس مجموعے پر ایک نظر ڈالے گا تو اس غالی اور کوڑھ مغز رافضی کی رائے کے بطلان کا وہ حتمی فیصلہ کرے گا جو اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مطعون ٹھہرانے کے لیے قائم کی ہے۔ اللہ عزوجل اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے جس کا وہ مستحق ہے۔

(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 5 صفحہ 652، 657)

اور بخاری کی صحیح و ثابت روایت کے یہ الفاظ ہیں جسے ہم ابن عمر کی روایت سے کچھ دیر پہلے نقل کر چکے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارہ کیا اور تین بار فرمایا: یہاں فتنہ ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 3104)

دوسرا بدبخت جس نے رسوائی کی سیاہی اپنے مکروہ چہرے پر ملی ہے، تیجانی سماوی ہے، اس کا ردّ رحیلی نے کیا ہے اس نے کہا:’’راوی کا یہ کہنا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارہ کیا‘‘ چونکہ اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فتنہ کا سبب ہے حالانکہ حدیث کسی بھی طرح اس معنیٰ پر دلالت نہیں کرتی اور کلام عرب کا جو ادنیٰ فہم رکھتا ہے اس کے نزدیک حدیث ان معانی کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ راوی کہتا ہے اَشَارَ نَحْوَ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب یہ صحیح ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر مسجد نبوی کے مشرق میں واقع تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ گھر کی جانب کیا جو مشرق کی طرف تھا، نہ کہ گھر کی طرف کیا اور اگر اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف ہوتا تو راوی کہتا: اَشَارَ اِلٰی مَسْکَنِ عَائِشَۃَ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور راوی یہ کہتا: اِلٰی جِہَۃِ مَسْکَنِ عَائِشَۃَ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اور دونوں عبارتوں میں فرق بالکل واضح اور صریح ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل من الافتراء ات السماوی الضال للرحیلی: 321)

سوم: جس دلیل سے روافض نے استدلال کیا ہے وہی دلیل ان کے ناصبی دشمنوں نے ان پر پلٹا دی ہے۔

شیخ عبدالقادر صوفی کہتا ہے:

صفحہ 3 از 4