رد شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

رد شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی جانب اشارے سے یہ استدلال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کہ ’’فتنہ یہاں سے ہو گا‘‘ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مصدر و مرکز فتنہ ہے۔ یہ استدلال بالکل باطل و مردود ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے کے دوران اپنے منبر پر کھڑے تھے۔ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ زہرا کے گھروں کی مغربی جانب تھا اور تمام گھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے دائیں جانب مدینہ کے مشرق میں تھے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں جھگڑے یا مباحثے کی کوئی گنجائش نہیں۔

روافض نے جس طرح اپنی خواہش کے مطابق مشرقی جانب کی تفسیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے کی ہے تو خارجیوں نے اپنی خواہش کی پیروی میں مشرق کی تفسیر سیدہ فاطمہ الزہرا کے گھر سے کی ہے اور یہ دونوں گروہوں کی حماقت کی واضح دلیل ہے۔‘‘

(الصاعقۃ لعبد القادر محمد عطاء صوفی: صفحہ 151)

چہارم: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو مطعون کرنے کا اصل مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے گھر کو مطعون کرنا ہے۔ کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا گھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن ہیں۔ یہ حقیقت نصف النہار کی طرف واضح ہے۔ کیونکہ یہ شیعہ اور اہل سنت کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ اس لیے اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بقول شاعر:

وَ لَیْسَ یَصِحُّ فِی الْاَذْہَانِ شَیْئٌ

اِذَا احْتَاجَ النَّہَارُ اِلٰی دَلِیْلٍ

’’جب دن کو دلیل کی ضرورت ہو تو ذہنوں میں کچھ بھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ ‘‘

اس سے روافض پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور رسالت پر طعن کریں کیونکہ آپ کے گھر میں طعن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر طعن لازم آتا ہے اس لیے غور کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ امام ابو الوفاء بن عقیل حنبلی پر رحم کرے۔ وہ کہتے ہیں تم ذرا انصاف سے دیکھو۔ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ایام گزارنے کے لیے بیٹی کا گھر منتخب کیا اور اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کے لیے اس کے باپ کا انتخاب کیا تو پھر یہ کیا غفلت کے پردے ہیں جنھوں نے روافض کے دلوں کو ڈھانپ رکھا ہے اور یہ حقیقت گونگے بہروں سے نہیں چھپ سکتی تو بولنے اور دیکھنے والوں سے کیسے چھپ گئی؟

(الاجابۃ لا یراد مااستدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ للزرکشی: صفحہ 54)

پنجم: اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو برسر منبر لوگوں کے جم غفیر کے سامنے آپ کی بیوی کو گالیاں دے۔ اللہ کی قسم! یہ مردانگی نہیں ہے۔۔۔ اور نہ آداب اور نہ اخلاق سے اس اسلوب کا کوئی ادنیٰ سا تعلق ہے۔ تم تو اپنی غلیظ فطرت کی بنا پر ایسے گھٹیا الزام سرور کونین خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، ان کے گھر اور ان کی محبوب بیوی پر لگا رہے ہو۔ اللہ کی پناہ!



صفحہ 4 از 4