Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چھٹا شبہ

  علی محمد الصلابی

شیعہ کہتے ہیں کہ ’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز میں تبدیلی کی اور سفر میں پوری نماز پڑھی۔‘‘


(ثم اہتدیت تیجانی سماوی: صفحہ 13۔ اس کے رد میں جو کتاب لکھی گئی: ’’الانتصار للصحب و الآل من افتراء ات السماوی الضال للرحیلی: صفحہ 273۔)

صحیح بخاری و صحیح مسلم میں سفر کے دوران پوری نماز پڑھنے کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی رائے یوں درج ہے جو زہری کی روایت سے ہے کہ اس نے عروہ سے پوچھا: 

’’عائشہ پوری نماز کیوں پڑھتی تھی؟

تو اس نے کہا: جس طرح سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تاویل کی تھی، اس نے بھی وہی تاویل کر لی۔‘‘

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1090۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 685)

اس شبہے کا چار وجوہ سے جواب دیا جائے گا:

اول: اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی کوئی وجہ نہیں چونکہ ان کی رائے کی مناسبت میں متعدد اقوال مروی ہیں۔ جن میں سے اکثر تحقیق کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔

(حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کچھ لوگوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے ’’اتمام الصلوۃ فی السفر‘‘ کی تاویل میں اپنی طرف سے کچھ اقوال نقل کیے ہیں جو خود اس سے تو مروی نہیں بلکہ وہ لوگوں کے ظن و تخمینے اور تاویلات ہیں کسی کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ (التمھید لابن عبدالبر: جلد 11 صفحہ 171)

صحیح تر رائے یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجتہاد کیا اور یہ رائے قائم کی کہ سفر میں قصر اور اتمام دونوں جائز ہیں۔

(شرح مسلم للنووی: جلد 5 صفحہ 195)

یہ کہ انھیں دونوں کا اختیار ہے۔ چنانچہ انھوں نے اتمام کو کامل طور پر عبادت کرنے کے لیے اختیار کیا اور قصر کے متعلق انھوں نے سوچا کہ یہ سفر کی مشقت کے دوران ہے، جبکہ انھیں کوئی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی۔ عروہ نے ان سے عرض کیا: اگر آپ دو رکعتیں پڑھ لیں؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھانجے! بے شک اس سفر میں مجھ پر کوئی مشقت نہیں ۔

(النسن الکبری للبیہقی: جلد 3 صفحہ 143۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔ فتح الباری جلد 2 صفحہ 571۔)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھتے ہیں:

’’ان کا یہ اس بات پر قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے یہ تاویل کی کہ قصر رخصت ہے اور جس کا سفر پُرمشقت نہ ہو اس کے لیے اتمام افضل ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 2 صفحہ 571)

دوم: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قصر کا کبھی صراحتاً یا کنایتاً انکار نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیکھا کہ جب سفر باعث مشقت نہ ہو تو اتمام افضل ہے۔ اس لیے انھوں نے عروہ کو اتمام کا حکم نہیں دیا جب انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو دو رکعتیں نہ پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔

(عمدۃ القاری للعینی: جلد 7 صفحہ 135۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے! تم مجھ پر مشقت نہ ڈالو۔ یہ دلیل ہے کہ انھوں نے قصر کی تاویل کی، اس کا انکار نہیں کیا اور ان کی یہ تاویل قصر، وجوب قصر کے منافی نہیں۔ حالانکہ ان کا انکار بھی صراحتاً نقل نہیں کیا گیا۔)

سوم: ہم گزشتہ صفحات میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وسعت علم کے متعلق سیر حاصل بحث کر چکے ہیں۔

(گزشتہ صفحات کا مطالعہ کیا جائے۔)

یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو بھی مشکل پیش آتی اس کے حل کے لیے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے۔ جس سے ہر محقق کے لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل اجتہاد میں سے تھیں اور اگر مجتہد اپنے اجتہاد میں صحیح ہو تو اسے دو اجر ملیں گے اور اگر وہ اجتہاد میں غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث صحیح میں یہ ثابت ہے۔

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 7352۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 4584۔)

مجتہد کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے اور نہ ہی مجتہد کے لیے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے۔ ہاں! اللہ گواہ ہے کہ صرف روافض ائمہ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں اور یہ ظاہری طور پر باطل مذہب ہے۔

شیح الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بلاشک و شبہ کہا جائے گا کہ امت مسلمہ کے لیے دقیق علمی مسائل مَغْفُوْرٌ لَّہُمْ ہیں اور اگرچہ یہ علمی مسائل ہی ہوں اور اگر یہ رعایت نہ ہوتی تو اکثر فضلائے امت برباد ہو جاتے۔‘‘

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: جلد 20 صفحہ 165)

مزید فرماتے ہیں:

’’پس واضح ہوا کہ مجتہد سے اگر غلطی ہو جائے تب بھی اسے ایک اجر ملتا ہے۔ چونکہ اس نے اجتہاد کیا ہے اور اس کی خطا ’’مغفور لہ‘‘ ہے۔ کیونکہ تمام اصول احکام میں صواب و حق کو پا لینا یا تو مشکل ہے یا ناممکن ہے۔‘‘

(رفع الملام عن الائمۃ الاعلام لابن تیمیۃ: صفحہ 38)

چہارم: یہ کہ اس بات کو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر الزام کا باعث بنانا الزام لگانے والے کے دل پر مہر کی دلیل ہے۔ تاہم مومن ہمیشہ عذر قبول کرتا ہے اور اسے مسئلہ نہیں بناتا اور اس کے ان فضائل کا احترام کرتا ہے جو اس کے لیے ثابت ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کے بارے میں سلف صالحین کا یہی منہج ہے۔

حافظ ابن عبدالبر نے لکھا: کہ ایک آدمی نے قاسم بن محمد کو کہا: ہمیں عائشہ رضی اللہ عنہا پر تعجب ہے وہ سفر میں چار رکعات کیوں پڑھتی تھیں؟ اس نے کہا: اے بھتیجے! تجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت لازم ہے تجھے جہاں سے بھی ملے، کیونکہ کچھ لوگوں پر عیب نہیں لگائے جاتے۔

(جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبدالبر: جلد 2 صفحہ 377۔ الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم: جلد 6 صفحہ 145)

ابو عمر نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں قاسم کا یہ قول سعید بن مسیب کے اس قول کے مشابہ ہے جس میں اس نے کہا: کوئی عالم، شریف، فاضل ایسا نہیں جو عیب سے خالی ہو لیکن کچھ لوگوں کے عیوب کا تذکرہ نہیں کیا جاتا اور جس کسی کا فضل اس کے نقص سے زیادہ ہو تو اس کا فضل اس کے نقص کو مٹا دیتا ہے۔

(التمھید لابن عبدالبر: جلد 11 صفحہ 170۔)