باطل احادیث
علی محمد الصلابیابن جوزی فرماتے ہیں کہ’’ حامل سنت کے دعوے دار بعض لوگوں نے تعصب سے کام لیتے ہوئے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کئی احادیث وضع کر ڈالیں جس سے مقصود رافضیوں کو غضب ناک کرنا تھا، اس لیے کہ انہوں نے متعصبانہ انداز میں ان کی مذمت میں وضع احادیث کا ارتکاب کیا تھا۔ ہمارے نزدیک ان دونوں گروہوں نے قابل نفرت غلط کاری کا مظاہرہ کیا۔‘‘
(الموضوعات: جلد 2 صفحہ 15)
ان کی مذمت میں وضع کردہ چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں:
ا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب جس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ تمہارے پاس ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو میری سنت کے علاوہ کسی اور چیز پر مرے گا۔ اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ادھر آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کا ہاتھ پکڑا اور باہر نکل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بھی سماعت نہ کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قائد اور اس کے زیر قیادت شخص پر لعنت کرے، یعنی اس دن جب بدکردار لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوں گے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 438)
یہ حدیث باتفاق محدثین موضوع اور من گھڑت ہے۔ حدیث کی کسی بھی معتبر کتاب میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ اس کی سند ہی معروف ہے۔
(امیر المؤمنین معاویۃ لابن تیمیۃ: جمع و تقدیم محمد مال اللہ: صفحہ 88)
ہم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت کے اس پہلو سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ بڑے ہمت و حوصلہ کے مالک تھے، جو لوگ ہمیشہ ان کے درپے آزار رہے وہ انہیں کھلے دل سے برداشت کرتے رہے، اپنی سیرت کے اس روشن ترین پہلو کے پیش نظر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کریں جبکہ وہ ان کے دینی اور دنیوی مقام و منصب سے بخوبی آگاہ تھے اور ان کے ہر معاملہ میں محتاج بھی۔
وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننا گوارا نہیں کرتے جبکہ وہ حکمران ہونے کے باوجود ان لوگوں کی باتیں بھی کھلے دل سے سنا کرتے تھے جو ان کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں سب و شتم کیا کرتے تھے۔ پھر اگر وہ ایسے ہی تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کاتب وحی کیوں مقرر فرمایا؟