سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیج: سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ:
ابن خلکان ان کے حالاتِ زندگی میں رقمطراز ہیں: امیر عراق عبیداللہ بن زیاد نے عراق کے سرکردہ لوگوں کو جمع کیا، ان میں احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، اور سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو سلام کہنے کے لیے انہیں اپنے ساتھ شام لے گیا، جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو ابن زیاد، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں روساء عراق کی آمد سے آگاہ کیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ان کے مراتب کے مطابق ایک ایک کر کے میرے پاس بھجوائیں، وہ ان کے پاس گیا اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق انہیں ان کے پاس بھجوا دیا جبکہ سب سے آخر میں احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے مقام و مرتبہ سے بخوبی آگاہ تھے اور وہ ان کی سیادت و قیادت کی وجہ سے ان کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کو اپنے قریب بلایا اور ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق انہیں اپنے ساتھ بٹھا لیا اور پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے باتیں کرنے اور حال احوال پوچھنے لگے۔ جبکہ دوسرے لوگوں کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ راوی کہتا ہے: پھر عراق سے آنے والے یہ لوگ عبیداللہ بن زیاد کی تعریفیں کرنے لگے اور اس کا شکریہ ادا کرنے لگے۔ جبکہ احنف رضی اللہ عنہ اس دوران خاموش بیٹھے رہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے، ابوبحر! آپ کیوں نہیں بولتے؟ انہوں نے جواب دیا: اگر میں کوئی بات کروں گا تو ان کی مخالفت کروں گا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تم لوگوں سے ابن زیادہ کو الگ کرتا ہوں۔ جائیں اور کسی ایسے آدمی کا انتخاب کریں جسے میں تمہارا والی مقرر کروں اور میرے پاس تین دن کے بعد دوبارہ آنا۔ جب وہ لوگ یہاں سے باہر نکلے تو ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنے لیے امارت کے متمنی تھے جبکہ بعض نے کسی دوسرے کا نام تجویز کیا، وہ لوگ پس پردہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خاص لوگوں سے مل کر اپنے لیے حصول امارت کی کوششوں میں لگے رہے۔ جب وہ تین دنوں کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے انہیں اگلی نشستوں پر بٹھایا اور خود حسب سابق سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر ان سے باتیں کرنے لگے، پھر ان سے دریافت کیا: تم لوگوں نے کیا فیصلہ کیا؟ اس پر وہ ایک دوسرے کا نام لینے لگے، پھر بحث نے طول پکڑا اور بات جدل و جدال تک جا پہنچی جبکہ احنف خاموشی سے بیٹھے رہے۔ انہوں نے ان تین دنوں میں بھی کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوبحر! آپ بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا: اگر آپ کے اہل بیت سے ہٹ کر کسی اور کام نام لوں تو وہ نہ تو عبیداللہ کے برابر ہو گا اور نہ اس کا قائم مقام ہی بن سکے گا، اور اگر میں کسی اور کا نام تجویز کر بھی دوں تو اس کا فیصلہ بھی آپ ہی نے کرنا ہے۔ جو لوگ پہلی مجلس میں ابن زیاد کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے ان میں سے اب کسی نے اس کا ذکر تک بھی نہ کیا اور نہ اس کے واپس آنے کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے احنفؓ کی بات سنی تو وہ ان لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے: گواہ رہنا کہ میں نے عبیداللہ کو اس کے عہدہ ولایت پر دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس پر وہ اس کا نام تجویز نہ کرنے پر نادم ہونے لگے، اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا پتا چل گیا کہ یہ لوگ ابن زیاد کے اس لیے شکر گزار نہیں ہو رہے تھے کہ انہیں اس میں کوئی دلچسپی تھی بلکہ یہ وہی کچھ ہے جو لوگ حکمرانوں کے حق میں عادتاً کیا کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مجلس سے الگ ہوئے تو انہوں نے عبیداللہ سے علیحدگی میں کہا: تو نے احنف جیسے آدمی کو کیوں ضائع کر دیا، اس نے خاموشی سے تجھے ولایت سے الگ کروایا اور پھر ولایت پر بحال بھی کروا دیا۔ جبکہ جن لوگوں کو تو نے آگے آگے رکھا اور ان پر اعتماد بھی کیا وہ نہ تو تیرے کسی کام آئے اور نہ انہوں نے ولایت و امارت کے لیے ہی تیرا نام پیش کیا۔
پھر جب یہ لوگ عراق واپس گئے تو عبیداللہ نے انہیں اپنے حلقہ خواص اور راز داں لوگوں میں شامل کر لیا۔
(وفیات الاعیان: جلد 2 صفحہ 503، 504)
آپ نے دیکھا کہ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کا علم ہوا اور انہیں ان کی بلند تر حیثیت کا ادراک ہوا تو ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے انہیں اپنے سے قریب کر لیا اور ان کے لیے بہت زیادہ احترام کا اظہار کیا۔ اس سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اہل فضل کے بڑے قدردان تھے وہاں یہ بھی پتا چلتا ہے کہ وہ طاقت ور اور با اثر افراد کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی صلاحیت سے بھی بہرہ مند تھے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 24)
نیز یہ واقعہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وسعت قلبی اور معاملات کے انجام سے آگاہ ہونے کی بھی ایک بڑی دلیل ہے۔ بعد ازاں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کے بعد جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کو استحکام میسر آ گیا تو ایک دن احنف رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا: احنف! میں جب بھی جنگ صفین کو یاد کرتا ہوں میرا دل رنج و الم میں ڈوب جاتا ہے۔ اس پر احنف رضی اللہ عنہ نے کہا: معاویہ! اللہ کی قسم! جن دلوں میں ہم نے آپ کے لیے بغض پالا تھا وہ ابھی تک ہمارے سینوں میں ہیں اور جن تلواروں کے ساتھ ہم نے تم سے جنگ کی تھی وہ نیاموں میں ہیں، اگر تم انگلی بھر جنگ کے قریب ہو گے تو ہم ایک بالشت اس کے قریب ہوں گے اور اگر تم ادھر چل کر جاؤ گے تو ہم دوڑ کر جائیں گے۔ یہ کہہ کر وہ اٹھ کر باہر نکل گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن جو پردے کے پیچھے سے یہ باتیں سن رہی تھی، کہنے لگی: امیر المؤمنین! یہ دھمکیاں دینے والا کون تھا؟ انہوں نے کہا: یہ وہ شخص ہے کہ جب یہ غضب ناک ہوتا ہے تو اس کے غضب کی وجہ سے بنو تمیم کے ایک لاکھ افراد غضب ناک ہو جاتے ہیں اور انہیں اس کے غیض و غضب کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی۔
(وفیات الاعیان: جلد 2 صفحہ 186)