Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لوگوں کی ضروریات کی تکمیل

  علی محمد الصلابی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات سے خائف رہتے کہ ان کا کبھی کبھار مسلمانوں سے الگ رہنا ان کے لیے قابل مواخذہ گناہ نہ بن جائے۔ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنی: ’’اللہ تعالیٰ جس شخص کو مسلمانوں کے معاملات میں سے کوئی چیز تفویض کرے اور پھر وہ ان کی حاجات و ضروریات اور فقر و فاقہ سے پردے میں رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت و ضرورت اور فقر سے پردہ کرے گا۔‘‘ تو انہوں نے لوگوں کے مسائل ان تک پہنچانے کے لیے ایک آدمی کا تقرر کر دیا تاکہ لوگوں کی کوئی بھی حاجت و ضرورت ان کے علم میں آنے سے نہ رہے۔

(الدولۃ الامویۃ: صفحہ 273)

مدینہ پر ان کا عامل جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ڈاک بھیجنا چاہتا تو اعلان کرواتا کہ جس شخص کو بھی امیر المؤمنین سے کوئی کام ہو وہ اس کے لیے خط لکھ دے۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 254)