Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ کی طاقت

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو دیکھا کہ وہ اپنے غلام کو مار رہا ہے۔ اس پر انہوں نے اس سے فرمایا: تجھے علم ہونا چاہیے کہ جتنی قدرت تجھے اس پر حاصل ہے اللہ تعالیٰ کو اس سے کہیں زیادہ قدرت تجھ پر حاصل ہے۔ کیا تو اس شخص کو مارتا ہے جو تجھ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا؟ اللہ کی قسم! مجھے قدرت نے کینہ پرور لوگوں سے انتقام لینے سے روک رکھا ہے۔ سب سے اچھا معاف کرنے والا وہ ہے جو قدرت حاصل ہونے کے باوجود معاف کر دے۔

(البدایۃ و النہایۃ: نقلا عن التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 23)

یہ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی اپنے بیٹے کے لیے صحیح اور عمدہ توجیہ ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ قدرت کے باوجود معاف کرنا کریمانہ اخلاق کے زمرے میں آتا ہے اور یہ سیادت و قیادت اور سیاست امت کا اہم ترین عنصر ہے۔ امیر المؤمنین اپنے بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اس لیے یاد کروا رہے ہیں تاکہ وہ احساس برتری کو ختم کرے اور اپنے ماتحت لوگوں کے بارے میں اللہ سے ڈرے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 17 صفحہ 24)