Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

الصوافی

  علی محمد الصلابی

یہ وہ مال ہے جسے امام ارض فے سے بیت المال کے لیے خاص کرے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ یا اسے بزور بازو مفتوحہ علاقوں سے خمس کے حق سے حاصل کیا جائے یا غانمین کی دلی خوشی سے حاصل کیا جائے۔ جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔

(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 192)

اس کا کچھ حصہ اسے حاصل کرنے والوں کو بھی دیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ بیت المال کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ یہ حصہ سب سے پہلے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ادا کیا۔

(فتوح البلدان: بلاذری: صفحہ 273) 

جس کا مقصد غلہ میں اضافہ کرنا تھا۔

(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 193)

 لہٰذا اس وقت غلہ پچاس ملین کی مالیت تک جا پہنچا تھا۔

(ایضاً: صفحہ 193)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صوافی کی اہمیت سے پہلے دن سے آگاہ ہو چکے تھے، لہٰذا انہوں نے خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نام بقول ابن عساکر یہ خط ارسال کیا کہ انہیں جو اخراجات وہ ادا کرتے ہیں اس سے لشکروں کے اخراجات اور ان کے امراء کے قاصدوں کی خدمات کا معاوضہ ادا نہیں ہو پاتا اور نہ ہی ان کے پاس حاضر ہونے والے اہل روم کے قاصدوں اور ان کے وفود پر اٹھنے والے اخراجات ادا کیے جا سکتے ہیں، پھر انہوں نے اپنے اس خط میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کھیتیوں کے بارے میں بتایا اور ان سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کھیتوں سے کچھ حصہ دلوائیں تاکہ وہ اس سے ان ذکر کردہ لوگوں کے اخراجات پورے کرنے پر قادر ہو سکیں۔ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ بھی بتایا کہ یہ کھیت اہل ذمہ کی بستیوں کے نہیں ہیں اور نہ ہی خراجی ہیں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں بذریعہ خط اس کی اطلاع دی

(تاریخ تہذیب دمشق: جلد 1 صفحہ 84، الخراج: دیکھیے غیداء: صفحہ 307)

اور ان کھیتوں کے ساتھ بنو فوقا کے کھیت اور زمینیں بھی شامل کر دیں جن کا کوئی وارث نہیں تھا۔

(ایضاً)

جب یہ حکم سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے ان زمینوں کو مسلمانوں اور اپنے اہل خانہ کے فقراء کے لیے وقف کر دیا۔ شیعہ مورخ یعقوبی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ٹ عثمان رضی اللہ عنہ کا حکم ملا تو انہوں نے ان اراضی اور شام، جزیرہ، یمن اور عراق میں بادشاہوں کی اراضی کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا۔

(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 132، 234)

جن سے وہ اپنے اہل بیت کے فقراء اور اپنے حلقہ خاص کے لوگوں کو نوازا کرتے تھے، اس طرح اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تاثر دیا کہ پوری دنیا میں صوافی سب سے پہلے ان کے تصور میں آئے۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 234)

مگر اس کا یہ تاثر غلط ہے اور پھر خود اس کے اپنے بیان میں بھی تضاد ہے اور وہ اس طرح کہ جزیرہ اور یمن میں صوافی کا ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سواد عراق اور شام کی اراضی سے کچھ مخصوص حصے صوافی کے طور سے حاصل کیے تھے مگر ان میں جزیرہ اور یمن کی صوافی شامل نہیں تھیں۔

(المعرفۃ و التاریخ: جلد 1 صفحہ 434۔ الخراج: غیداء: صفحہ 307)

یعقوبی نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان اراضی کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا تھا جن سے وہ اپنے اہل بیت کے فقراء اور اپنے حلقہ خواص کے لوگوں پر خرچ کیا کرتے تھے۔ اگر اس نص کا اسی موضوع سے متعلق ابن عساکرؒ کی نص کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ اس روایت میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا ہے

ان اراضی کے بارے میں ابن عساکرؒ فرماتے ہیں: ’’یہ اراضی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے قبضہ میں رہیں یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور اختیارات معاویہ رضی اللہ عنہ کو منتقل ہو گئے تو انہوں نے انہیں اسی حالت پر برقرار رکھا پھر بعد ازاں انہیں اپنے اہل بیت کے فقراء اور مسلمانوں کے لیے مخصوص کر دیا، یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابتدائی ان میں کوئی تصرف نہ کیا بلکہ انہیں گزشتہ حالت میں ہی چھوڑے رکھا۔‘‘

(الخراج غیداء: صفحہ 308)

البتہ شام میں کچھ ایسی ضروریات نے ضرور سر اٹھایا جن کی وجہ سے ریاست کو نئی تنظیم کی ضرورت لاحق ہوئی اور اسے ملکی مفادات میں کئی اقدامات کرنا پڑے۔ ان ضروریات کے ضمن میں سرزمین شام میں یمنی اور قیسی قبائل میں توازن قائم رکھنا سرفہرست تھا جس کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں۔

(ایضاً: صفحہ 308)

ملکی مصلحت پر مبنی اس کارروائی کو یعقوبی جیسے مؤرخین نے غلط رنگ دیتے ہوئے اسے اموی خاندان اور خاص طور سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذاتی مفادات کا شاخسانہ قرار دے دیا۔

(ایضاً: صفحہ 309۔ دراسات فی حضارات الاسلام: صفحہ 46)

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ان اموال کو ملکی استحکام اور وحدت امت کی بقاء کے لیے استعمال کیا تھا وہ عوام الناس کے مفادات کے لیے جو بہتر سمجھتے اس پر عمل پیرا ہوا کرتے تھے۔

(الخراج: غیداء: صفحہ 311)

اور یہ چیز ان کے خاندان اور قریبی لوگوں کے ساتھ احسان کرنے سے مانع نہیں تھی۔