خمس غنائم
علی محمد الصلابیغنیمت سے وہ مال مراد ہے جس پر مسلمانوں نے کافروں کے ساتھ لڑائی میں غلبہ حاصل کیا ہو۔
(ایضاً: صفحہ 311)
غنیمت کا اثبات نص قرآنی سے ہوتا ہے۔ اموی دورِ حکومت میں اسلامی فتوحات میں اضافہ ہوا تو بیت المال کے ذرائع آمدن کے طور سے غنائم میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اموال غنیمت اور مفتوحہ اراضی کے حوالے سے امویوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا طریقہ اپنائے رکھا۔ غنائم سے پانچواں حصہ نکال کر باقی ماندہ فاتحین میں تقسیم کر دیا جاتا، اور اراضی کو مسلمانوں کے لیے بطور فے کے چھوڑ دیا جاتا اور ساتھ ہی ساتھ ان پر خراج عائد کر دیا جاتا۔
یہ اہم ملکی ذرائع آمدن ہیں، ان کے علاوہ کچھ مزید ذرائع آمدن بھی ہیں مثلاً رکاز کا خمس اور لاوارث مال۔ یہ نظام عصر اموی میں بھی اسی طرح قائم تھا جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مسعود اور خلفائے راشدینؓ کے عہد مبارک میں تھا۔
(التطور الاقتصادی فی العصر الاموی: صفحہ 86)