پولیس کی ذمہ داریاں
علی محمد الصلابیثالثاً: پولیس کی ذمہ داریاں
پولیس کو دولت امویہ میں امتیازی مقام و مرتبہ حاصل تھا اور اس کی وجہ وہ اہم ذمہ داریاں تھیں جو حکومت اور معاشرے کے حوالے سے یہ ادارہ ادا کیا کرتا تھا، مثلاً:
1۔ خلیفہ اور مختلف شہروں کے والیوں کی اندرون مملکت ان کے مخالفین سے حفاظت کرنا:
پولیس کو سب سے پہلے اپنی ذاتی حفاظت کے لیے دولت امویہ کے بانی سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے مقرر کیا جن کی اپنے مخالفین خوارج وغیرہ کے ساتھ شدید قسم کی سیاسی اور عسکری کشمکش جاری تھی۔ پولیس سفر و حضر میں ان کی حفاظت کی ذمہ دار تھی حتیٰ کہ اگر وہ نماز ادا کر رہے ہوتے تو پہرے دار ان کے سر کے پاس کھڑے رہتے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پولیس کا سربراہ مسلح حالت میں خلیفہ کے آگے آگے چلتا۔ پولیس خلیفہ کے ساتھ مختلف شہروں کے والیوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ادا کرتی تھی اور جیسا کہ ہم نے قبل ازیں ذکر کیا زیاد بن ابیہ پولیس کو اپنی ذاتی حفاظت کے لیے استعمال کیا کرتا تھا اور اس کی حفاظت کی پہلی ذمہ داری پولیس کے سربراہ پر عائد ہوتی تھی۔
پولیس کا سربراہ عوامی مقامات پر خلیفہ یا والی شہر کے جلوس کے آگے آگے چلنا صرف اس کی حفاظت کی دلیل نہیں تھی بلکہ اس سے عوام الناس کو حکومتی گرفت اور اس کی قوت و شوکت سے بھی آگاہ کرنا مقصود ہوتا تھا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 138۔ الدولۃ الامویۃ فی العصر الاموی: صفحہ 79)
علاوہ ازیں پولیس خلیفہ اور والیوں کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار تھا جس سے وہ حکومت کے خلاف سرکشی کرنے والوں اور اس کے مخالفین پر حکومتی قوت کی دھاک بٹھاتے تھے۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 79)
پولیس معلومات جمع کرنے کے لیے بھی خلیفہ کی معاونت کیا کرتی تھی۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال اور رعایا کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ہر علاقے میں اپنے جاسوس پھیلا رکھتے تھے جن کی وجہ سے ان تک پل پل کی اطلاعات پہنچتی رہتی تھیں، لہٰذا ان کی حکومت کو استحکام میسر آیا اور ان کے اقتدار کی مدت بھی دراز ہو گئی۔
(المحاسن و المساوی: صفحہ 143، 144)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ طریقہ اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ زیاد بن ابیہ نے بھی ان کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک آدمی نے اپنی کسی ضرورت کے لیے زیاد سے بات کی، اس نے سمجھا کہ زیاد اسے پہچانتا نہیں ہے، لہٰذا اس نے اس سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا: اللہ امیر کی اصلاح فرمائے، میں فلاں بن فلاں ہوں۔ یہ سن کر زیاد مسکرایا اور کہنے لگا: تو مجھے اپنی شناخت کرواتا ہے، حالانکہ میں تجھے تجھ سے زیادہ جانتا ہوں، اللہ کی قسم! میں تجھے بھی جانتا ہوں، تیرے باپ اور تیری ماں کو بھی جانتا ہوں حتیٰ کہ تیرے دادا اور دادی کو بھی جانتا ہوں اور یہ جو تو نے چادر اوڑھ رکھی ہے اسے بھی جانتا ہوں اور یہ فلاں شخص کی ہے۔ یہ سن کر وہ آدمی حیران رہ گیا۔ زیاد نے اسے اتنا دھمکایا کہ وہ غش کھا کر گرنے کے قریب ہو گیا۔
(ایضاً: صفحہ 144)
2۔ مجرموں اور قانون شکنی کرنے والوں کو سزا دینا:
اموی دور حکومت میں پولیس مرکزی قوت کے ہونے کی وجہ سے اندرون ملک امن و امان اور ملکی نظام کی حفاظت کی ذمہ دار تھی علاوہ ازیں قانون پر عملدرآمد کروانا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا۔ مگر بڑے شہروں میں اجتماعی احوال و ظروف عوام الناس کے حوالے سے پولیس کو سخت کارروائیاں کرنے کے لیے مجبور کرتے تھے۔ ایک دفعہ لوگوں کی طرف سے حدود سے تجاوز کرنے کے خطرناک نتائج کا ذکر کرتے ہوئے زیاد نے اپنے خطبہ بتراء میں کہا تھا: تم میں سے جس شخص پر شب خون مارا گیا اس کے نقصان کا میں ذمہ دار ہوں گا، رات کے وقت گھروں سے باہر نہ نکلنا اگر کسی ایسے شخص کو میرے پاس لایا گیا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، اگر تم نے کچھ نئے کام شروع کر دئیے ہیں تو ہم نے بھی ہر گناہ کی سزا مقرر کر دی ہے جو دوسروں کو ڈبوئے گا ہم اسے ڈبوئیں گے۔ جو کسی دوسرے کو جلائے گا اسے ہم جلائیں گے، جو کسی کے گھر میں نقب لگائے گا ہم اس کے دل میں نقب لگائیں گے اور جو کسی قبر کو اکھاڑے گا میں اسے اس میں زندہ دفن کر دوں گا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 136)
اس خطبہ سے بصرہ شہر میں پھیلی بدامنی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بصرہ میں زیاد کی آمد سے پہلے بعض قانون شکن عناصر نے ارتکاب جرائم کو اپنا وطیرہ بنا رکھا تھا۔ جب زیاد نے اپنا خطبہ ختم کیا تو اس نے پولیس کے سربراہ کو راستوں کو پرامن بنانے اور رات کے وقت گھر سے نکلنے والے ہر شخص کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 83 ۔ انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 172)
بلاذری روایت کرتے ہیں کہ زیاد نے اپنی اس دھمکی پر عمل کرنے میں میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا اور جو کیا اس پر عمل کر دکھایا۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 83)
3۔ شرعی سزاؤں کا نفاذ:
عصر اموی میں پولیس کی ایک اہم ذمہ داری ان شرعی حدود کا نفاذ تھا جن کا قاضی حکم جاری کیا کرتے تھے، اور جیسا کہ سبھی کے علم میں ہے کہ حدود شرعیہ کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے جبکہ سنت نبویہ ان کی تبیین کرتی ہے، صحابہؓ و تابعینؒ دینی احکامات کے لیے بڑے غیور اور ان کے نفاذ کے بڑے حریص تھے۔ امام مالکؒ روایت کرتے ہیں کہ ایک غلام نے کھجور کا ایک چھوٹا پودا چرا لیا اور وہ اس سے برآمد بھی ہو گیا جس کی پاداش میں مروانؒ نے اسے جیل میں بند کر دیا
(ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ 120)
اور پھر اس نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کر لیا، غلام کا مالک حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے اسے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھل اور شگوفہ خرما میں قطع ید نہیں ہے۔‘‘ اس پر وہ آدمی کہنے لگا: مروان بن حکمؒ نے میرے غلام کو پکڑ لیا ہے اور وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آگاہ کرنے کے لیے میرے ساتھ چلیں۔ رافع اس کے ساتھ مروان کے پاس گئے اور اس سے فرمایا: تو نے اس کے غلام کو گرفتار کیا ہے۔ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس پر رافع نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ’’پھل اور شگوفہ خرما میں قطع ید نہیں ہے۔‘‘ اس پر مروان نے غلام کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ گورنرز اور عمال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام کرتے اور ان کے تصرفات سے کوئی تعرض نہیں کرتے تھے جب تک ان کے پیچھے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی تنفیذ کا جذبہ موجود ہو۔ چاہے وہ بات والی کی ذمہ داریوں کے ضمن میں ہی کیوں نہ آتی ہو۔
(ایضاً: صفحہ 121)
دینی احکام کے اوامر پر غیرت کے مظاہر اور دوسروں پر اللہ تعالیٰ کے احکام کو غلبہ دینے کے ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ مدینہ منورہ کی پولیس کے سربراہ مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بنو ہاشم اور بنو اسد بن عبدالعزی کے گھروں کو گرانے اور ان پر سختی کرنے سے انکار کر دیا اس لیے کہ وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے وفادار تھے اور انہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ مصعب نے مدینہ منورہ کے امیر عمرو سعید (نسب قریش: صفحہ 268۔ ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ 122) کو لکھا:
امیر محترم! ان لوگوں کا کوئی گناہ نہیں ہے، لہٰذا میں یہ کام نہیں کروں گا۔ اس پر امیر نے اس کے نام لکھا: ابن ام حریث! تم اپنی حد سے تجاوز کر رہے ہو، ہماری تلوار واپس کر دو۔ مصعب نے اسی وقت تلوار اس کی طرف پھینک دی اور خود باہر چلا گیا۔
(نسب قریش: صفحہ 268، ولایۃ الشرطۃ فی الاسلام: صفحہ 122)
یہ واقعہ مصعب کی ایمانی قوت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ وہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں کرتے تھے۔
(الشرطۃ فی العصر الاموی: صفحہ 122)
مزید برآں مملکت کے دشمنوں کے خلاف سپاہ اسلام کی مدد کرنا،
(ایضاً: صفحہ 97)
سیاسی مخالفین کو سزائے موت دینا اور قیدیوں کے حوالے سے دیگر ذمہ داریاں ادا کرنا بھی پولیس کے فرائض میں شامل تھا۔
(ایضًا)
اگرچہ آخر والی ذمہ داریوں کا ظہور زیادہ تر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد کے خلفاء کے عہد میں ہوا۔