ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان - ردِ رافضیت | دفاع…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

ایران میں اہلِ سنت پر مظالم کی داستان:

فروری 1979ء میں خمینی ایرانی اقتدار پر براجمان ہوا، 15 سالہ جلا وطنی کے بعد ایران پہنچتے ہی اس نے تمام ذرائع ابلاغ کو یہ بات باور کرانے کے لیے وقف کر دی کہ پوری دنیا میں یہی واحد اسلامی انقلاب ہے، جو اسلامی اقتدار کے فروغ اور کتاب و سنت کے نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا ہے،اس نے بار بار اعلان کیا 

ہم پوری مملکت کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، مساوات اور رعایا پروری ہمارا نصب العین ہے، خدائی حاکمیت کا فروغ اور آنحضرتﷺ کی تعلیمات اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشادات کے مطابق ہر شعبہ زندگی سے امریکی اور دیگر غیر مسلم تہذیبوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ 

ذرائع ابلاغ پر اس قدر توجہ دی گئی کہ پوری دنیا کے ایرانی سفارتخانوں کے ذریعے کروڑوں روپیہ صرف اس پروپیگنڈہ پر خرچ کیا گیا کہ موجودہ ایرانی حکومت ہی دنیا میں اسلام کی سب سے بڑی علمبردار ہے، ساری دنیا کے مسلمانوں کو چاہیے کہ خمینی کی قیادت میں جمع ہو جائیں تمام مسلم ممالک میں اپنے خصوصی نمائندے روانہ کیے گئے، کئی ملکوں کے زعما کو ایران کی مختلف تقریبات میں مدعو کر کے تصویر کا صرف ایک رخ ان کے سامنے پیش کر کے امتِ مسلمہ کی آنکھوں میں دھول جھونک دی، امریکہ کی مخالفت کی آڑ لے کر امریکہ مخالف اسلامی ملکوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ناظرین جانتے ہیں کہ کسی بھی بڑی سلطنت کی مخالفت اس کے حق پر قائم ہونے کی دلیل نہیں ہے ورنہ روس تو ان سے بھی بڑا امریکہ کا مخالف ہے اسے بھی اسلام کا بڑا ٹھیکیدار کہنا چاہیے، خمینی کے ایرانی انقلاب کے معا بعد اس کے اسلامی دعوؤں کی قلعی کھل گئی، چیخ چیخ کر جس دعوے کو دھرایا گیا کہ ہم آنحضرتﷺ اور حضرت علیؓ کی تعلیمات کے مطابق نظامِ حکومت چلائیں گے، اس کی دھجیاں ایران کے گلی کوچوں میں بکھر گئیں، اپنے ہی صبح و شام کے دعوؤں کا منہ چڑایا گیا ملاحظہ ہو:

"سیدنا علیؓ نے جب اپنے ایک حریف پر قابو پا لیا تو فوراً اسے معاف کر دیا"

آنحضرتﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر جب اپنے رفقاء کے قاتلوں حقیقی چچا حضرت حمزہؓ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں اور الم انگیز مظالم کی داستان رقم کرنے والے مشرکوں اور مکہ سے بے پناہ ظلم و جبر کر کے مسلمانوں کو نکال دینے والے دشمنوں پر فتح حاصل کی تو اعلان فرمایا:

"آج کے دن تم پر کوئی سختی نہیں تم سب آزاد ہو"

رحمتِ دو عالمﷺ نے جان اور ایمان کے دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ 

لیکن ایران کے خمینی نے جب اپنے مخالفوں پر قابو حاصل کیا تو انہوں نے پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دی اور جب عملاً انہوں نے آنحضرتﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اسوہ حسنہ کا تمسخر اڑایا تو دنیا بھر کے ذی شعور طبقہ پر اسی وقت قول و فعل کے اس کھلے تضاد کی حقیقت آشکار ہو گئی۔ 

بیس ہزار اہلِ سنت کردوں کا قتل

خمینی نے انقلاب کی پہلی سالگرہ تک جن ہزاروں افراد کو مشقِ ستم بنایا ان میں اکثریت اہلِ سنت ہی کی تھی، ہر مخالف کو شاہ کے وفادار کا نام دے کر خصوصی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے گولیوں سے بھون دیا گیا، انتہائی مظلوم کئی ہزار سنیوں کو نہایت بے دردی سے ذبح کر کے بزعم خویش شیعیت کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کیا گیا، ایرانی علاقہ اصفہان اور کردستان میں 95 فیصد آبادی اہلِ سنت کی ہے یہاں کے سنی مدارس کے جید ترین علماء کو بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں ٹھونسا گیا، کئی علماء کو باغی قرار دے کر شہید کیا گیا، خمینی نے ایران کی پہلی سالگرہ تک اہلِ سنت کے جن مسلمانوں پر تیغ چلائی ان کی تعداد بیس ہزار ہے۔ 

(ندائے سنت لکھنو بحوالہ ہفت روزہ نئی دنیا دہلی: 4 اپریل 1984ء) 

ورلڈ اسلامک مشن کے وفد کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں، جو 28 دسمبر 1982ء کو تہران کی عالمی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔

1: تہران میں پانچ لاکھ سنی مسلمان آباد ہیں مگر انہیں اپنی مسجد تعمیر کرنے کی ابھی تک اجازت نہیں ملی، جب کہ عیسائیوں کے 12 گرجے، ہندوؤں کے 2 مندر، یہودیوں کے 2 اور مجوسیوں کے 2 آتش کدے موجود ہیں مگر سنی مسلمان کی ایک مسجد بھی نہیں ہے۔ 

2: شاہ کے زمانے میں عیدین کی نماز سنی ایک پارک میں پڑھتے تھے مگر اب عید کے دن مسلح افواج کا پہرہ بٹھا کر انہیں نماز عید سے بھی حکومت نے روک دیا ہے۔ 

3: جمعہ کی نماز سنی مسلمان مجبوراً تہران یونیورسٹی کے میدان میں شیعہ امام کے پیچھے پڑھتے ہیں یا صرف پاکستانی سفارت خانہ میں جمعہ پڑھتے ہیں۔

4: سنی مسلمان اپنی مذہبی تبلیغ و اشاعت کے لیے نہ جلسہ کر سکتے ہیں نہ تنظیم بنا سکتے ہیں، پچھلے دنوں جماعت مرکزی اہلِ سنت پر ان کی تنظیم قائم ہوئی تھی جس کے لیڈر مولانا عبدالعزیز فاضل دیوبند تھے مگر خمینی حکومت نے اسے خلاف قانون قرار دے دیا۔

5: مسلمانانِ اہل سنت اپنی مذہبی کتابیں نہیں چھاپ سکتے، شاہ کے زمانے میں پاکستان سے منگواتے تھے مگر خمینی حکومت نے اس پر بھی پابندی لگا دی۔

6: ایران میں اہلِ سنت کی 35 فیصد آبادی ہے لیکن نام نہاد جمہوری حکومت میں 27 ممبران پارلیمینٹ میں اہلِ سنت کی تعداد صرف 9 ہے جبکہ آبادی کے تناسب سے تہائی سے زائد 14 ہونی چاہیے۔

7: انتظامیہ اور عدلیہ میں اہلِ سنت کا وجود بالکل صفر کے برابر ہے، اہلِ سنت کا ایک نمائندہ بھی نہیں ہے۔

8: زاہدان کے صوبہ میں 95 فیصد سنی مسلمان ہیں مگر سرکاری سکولوں میں 500 سو اساتذہ میں سے صرف 34 سنی ہیں باقی سب شیعہ بھرتی ہے تا کہ سنی بچوں کو شیعہ مذہب میں آسانی سے تبدیل کیا جا سکے، سابق نصابِ تعلیم بدل کر شیعہ عقائد پر نصاب مقرر کیا گیا ہے (منقول از ندائے سنت لکھنؤ بحوالہ ہفت روزہ نئی دنیا دہلی: 4، اپریل 1983ء بعنوان ایران میں کیا دیکھا) 

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی انقلاب کے بعد سے لے کر 1984ء تک 2700 بڑے بڑے فوجی افسروں کو قتل کیا گیا، فائرنگ اسکواڈ اور خصوصی ٹریبونل قائم کر کے ہر مخالف کو تہ تیغ کیا گیا۔ 

ایران کے اس نام نہاد اسلامی انقلاب کی مذکورہ کاروائی سے ہر ناظر پر یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ خمینی کا اقتدار اسلامیت کی بجائے چنگیزیت، نفاق اور خلفائے راشدینؓ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ سنت دشمنی کا آئینہ دار ہے۔ 

صفحہ 1 از 3