ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان - ردِ رافضیت | دفاع…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

من گھڑت پروپیگنڈے سے کفر اسلام نہیں بن جاتا، ظلم انصاف نہیں ہو جاتا، اندھیرا اجالا نہیں کہلا سکتا۔ 

ایرانی بلوچستان میں اہلِ سنت پر کیا گزر رہی ہے؟ مکران ایران:

 اس کے لیے ہم ایرانی بلوچستان مکران کے اہلِ سنت کی طرف سے شائع ہونے والے ایک مضمون کا مکمل متن پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

حمد اس خدا کی جو سب جہانوں کا پروردگار ہے اور عاقبت پرہیز گاروں کے لیے اور درود و سلام ہو سردارِ انبیاءﷺ اور ان کے آل اور اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین پر جو دین کا پاس رکھتے ہیں اور ان کے ازواج امہات المومنینؓ پر (جو امت کی مائیں تھیں) 

اس کے بعد ہم ان مسلمانانِ عالم کی خدمت میں کچھ معروضات پیش کرتے ہیں جو مسلمانوں کے مسائل سے واقفیت اور آگاہی کے لیے اپنے دل میں جذبہ رکھتے ہیں اور ہم یہاں مثل ایک قطره از دریا بیان کرتے ہیں کیونکہ ہماری سرگزشت بہت ہی طویل ہے اور وقت کم ہے۔ 

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے دینی بھائی جو اپنے مذہب کے پابند اور اپنے پیغمبرﷺ کے ارشادات و احکام پر عمل پیرا ہیں، ایران کے اس علاقے میں آباد ہیں، جو نہایت ہی خشک ترین اور پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور فارسی نو آبادیاتی نظام کا ایک حصہ ہے، اپنی زندگی ظلم و ستم کے سایہ میں گزار رہے ہیں، ہم اس مختصر سی سرگذشت میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے کہ ایرانی انقلاب کے بعد سے ہم مسلمانوں پر کس طرح مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔

جب ہم نے ایران میں اسلامی انقلاب کا مژدہ سنا تو ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں بڑی مسرت اور خوشی ہوئی تھی، اس لیے کہ ایران میں ایک طویل عرصہ سے فساد و جرائم، ظلم و ستم اور بدکاری، زناء جیسے اعمال جاری تھے اور اس کے خاتمہ کے لیے یہ انقلاب انتہائی ضروری تھا لیکن تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ہماری مسرتوں کو سخت دھچکا لگا اور ایرانی انقلاب کے عزائم بالکل کھل کر سامنے آ گئے، ایرانیوں نے جو ان کے دل میں برسوں سے ہم سنیوں کے خلاف بغض نفرت و حقارت کے جذبات رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا ظاہر ہو گئے ہوا یہ کہ جزیرہ قشم جو خلیج کے بالکل ہی قریب ہے اور اس جزیرہ میں اہلِ سنت کی ایک مسجد بھی ہے، ایرانیوں نے حملہ کر کے بہت سے نمازیوں کو شہید کیا، اس وقت بہت سے مسلمانوں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ اسلامی انقلاب نہیں بلکہ نہایت ہی متعصب شیعوں کا انقلاب ہے اور اس کا مقصد اہلِ سنت کی مسجدوں کو منہدم کرنا ہے، جب انقلاب کا دور جاری تھا تو وہاں بہت سی سنی طلباء کی تنظیمیں تھیں جو نہایت ہی فعال اور متحرک تھیں اور وہ زاہدان ایران شہر، سردان وغیرہ میں خالص سنی عقائد کی تشہیر میں سرگرم تھیں لیکن شیعہ حکام نے جن کا تعلق اثناء عشری سے تھا انہوں نے ان مسلم تنظیموں کو جن کی سربراہی سنی مکتبہ فکر کے ایک شیخ جناب دین محمد حسین زئی مرکزی جامع مسجد نور شہر (سردان) میں نہضہ شباب اہلِ سنت کی سرپرستی بھی کر رہے تھے اور مذکورہ تنظیم کے زیرِ اہتمام نہضہ نوجوانان کے نام سے ایک ماہانہ رسالہ بھی شائع ہوتا تھا ختم کر دیا گیا اور جناب شیخ کو انقلابی گارڈ کے درندوں نے پکڑ کر مسلسل تین ماہ تک قید میں رکھا اور قید میں انہیں سخت اذیت دی گئی ان پر الزام لگایا کہ وہ شیعہ اور سنی میں تفرقہ ڈال رہے ہیں اور ان سے بالجبریہ تحریر لی گئی کہ وہ آئندہ سے سنی عقیدہ کے لیے کوئی کام نہ کریں ورنہ انہیں سخت سزا دی جائے گی، اس طرح زاہدان میں سنی نوجوانوں کی ایک تنظیم بنام (سازمان محمدی) زیرِ سر پرستی السید عبدالملک ملک زادہ کام کر رہی تھی اور اسی تنظیم کے زیرِ اہتمام ایک رسالہ انتشارات سازبان محمد شائع ہوتا تھا جو اہلِ سنت کی ترجمانی کرتا تھا۔ حضرت عبدالملک ملازاده شہر سردان سے زاہدان کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں بمقام اسعد آباد ایرانی انقلاب گارڈ کے غنڈوں نے ان کو بس سے اتار کر پسِ زندان کر دیا، صرف اس جرم میں کہ وہ صرف اور صرف خدا پر یقین کامل اور غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے اور وہ سنی العقیدہ تھے، ایسے ہی ایک فعال تنظیم کے علماء اور نوجوان کا شہر ایران میں زیرِ سر پرستی الشیخ ابراہیم دامنی کا ہے تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف تھا اور وہ ایامِ گرما میں اسکول کی تعطیلات کے زمانے میں طلباء کو لیکچرز دیا کرتے تھے اور طلباء کو مناقب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص ان ہدایت یافتہ خلفاء راشدینؓ جن کے متعلق رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص میرے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرتا ہے گویا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ان تمام علماء اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا اور ابھی تک ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ 

ایسے ہی جناب حسین یار، جناب عبداللہ قادری جو کہ جمیعتہ وحدت اسلامی کے ممبر بھی تھے گرفتار کر لیے گئے اور باقی ماندہ لوگ اپنے ہمسایہ ملک پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور کر دیے گئے اور ایسے ہی ایک اور تنظیم کا قیام انجمن اسلامی دانشور و اموران و معلمین بلوچ کے سرکردہ ممبران کو اپنے ساتھیوں سمیت جن میں جناب عبدالقادر دامنی، جناب احمد حسین، رئیس جناب حسن ایرند گانی و حسن دے، جناب حسن اروند بھی شامل تھے گرفتار کر لیے گئے اور وہ تمام سنی تنظیمیں یکلخت ختم کر دی گئیں جو منطقہ مکران بلوچستان میں سرگرم عمل تھیں،

اس وقت اس علاقہ میں شیعہ متعصبوں کی طرف سے سنی مسلم عوام پر دہشت اور خوف مسلط ہے، ایک اور جید عالمِ دین شیخ عبدالعزیز اللہ یاری خطیب مسجد عنبر بیر جد خراسان کو گرفتار کر لیا گیا اس لیے کہ ان کا تعلق سنی مسلمانوں سے تھا ان کا صریح جرم یہ تھا کہ وہ شیعہ حکام کے ذمہ داروں کو ان کی تعصب پسندی اور بد عنوانیوں پر برابر متنبہ کیا کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ اپنی نا جائز حرکات سے باز آؤ، لیکن یہ متنبہ کرنے پر انہیں کمینی قید خانوں میں سزا دی جارہی ہے۔ 

صفحہ 2 از 3