ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان - ردِ رافضیت | دفاع…

ایران میں اہل سنت پر مظالم کی داستان

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

بندر عباس میں اہلِ سنت کے جناب ضیائی جو کہ اسلامی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور بندر عباس کے بڑی مسجد کے امام خطیب ہیں اور ان کا شمار یہاں کے بڑے علماء میں ہوتا ہے، ان کو ایرانی حکومت نے اپنی دیرینہ عداوت کی بناء پر گرفتار کر لیا ہے اور انہیں گرفتار ہوئے تقریبا سات ماہ کا عرصہ گزر رہا ہے۔ (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) 

اسی طرح ایک بڑے دینی عربی مدرسہ درشید بندر لنگہ کے فضیلت مآب شیخ سلطان العلماء کو گرفتار کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی کہ وہ ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور وہ امارات عربی کے شہر دبئی میں تا حال مقیم ہیں۔ 

بندر خمیر میں بھی ایک عربی اسلامی مدرسہ تھا، جس کی سرپرستی شیخ عبدالباعث قطائی کر رہے تھے اور وہ اس علاقہ کے فعال شخصیت تھے لیکن جلد ہی انقلابی گارڈ کے غنڈے ان کو زبردستی فوج میں لازمی خدمت انجام دینے کے لیے پکڑ کر لے گئے اور وہ ابھی تک لا پتہ ہیں اور سنیوں کا یہ عظیم مدرسہ اسلام کی صحیح تعلیمات سے محروم ہو گیا۔ 

ہم یہاں مثال کے طور پر آپ کی شیعوں کے ان مظالم کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جو حکومت امامیہ اثناء عشری استعماری نے اہلِ سنت پر روا رکھا ہے، حکومت ابتداء میں اہلِ سنت کے مدارس کو امداد کے طور پر کچھ رقم دیا کرتی تھی لیکن بعد میں حکومت نے اعلان کیا کہ ہم اب یہ امداد بند کر رہے ہیں کیونکہ سنی مدارس امریکہ کے لیے کام کر رہے ہیں اور ملک میں فتنہ فساد پھیلانے میں سعی کر رہے ہیں اور زاہدان کے سب سے بڑے عالمِ دین پر یہ الزام لگایا کہ یہ ایک فسادی آدمی ہیں لیکن جو مظالم انقلابی گارڈ کے غنڈے سنی مسلمانوں پر ڈھا رہے ہیں اس کا شمار حد سے باہر ہے، اس وقت نمونہ کے طور پر چند واقعات میں مسلمانانِ عالم کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ ایرانی مکران کے بلوچیوں پر ایرانی حکام کی طرف سے کس طرح ظلم کیا جا رہا ہے، انقلابی گارڈ والے اپنے کو انقلاب کا ربِ اعلیٰ تصور کرتے ہیں اور انہوں نے ہزار ہا سنی مسلمانوں بالخصوص بلوچوں، کردوں کو بے گناہ قتل کیا اور بے شمار عورتوں، مردوں اور بچوں کو زندہ جلا دیا، انقلابی گارڈ کے غنڈے اہلِ سنت کی عورتوں، بچوں پر بلوچستان کردستان، صحراء ترکمن اور خلیجی بندرگاہوں اور ہذات خراسان میں مظالم برپا کر رکھا ہے اور سنی نوجوانوں کو اشتراکیت کی تہمت و الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا ہے، ہم یہ نہیں کہتے کہ ایران میں کوئی اشتراکی نہیں ہے لیکن غالب اکثریت مسلمان نوجوانوں کی ہے اور یہی نوجوان اس وقت قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں، یہی خمینی کے انقلاب کا اصل مقصد ہے۔

ایک دینی رسالہ زیرِ سر پرستی (بہاد رندگی) میں درج ہے کہ ہمارے انقلاب کا ضمنی مقصد سنی بلوچوں کو شیعہ اثناء عشری بنانا ہے، جو اثناء عشری عقیدہ رکھتے ہوں اور اس زمین میں 9 فیصد اشخاص کو شیعہ کر لیا گیا ہے اور آخری مقصد ایران میں بلوچ کرد اور ترکمان کو شیعہ بنانا ہے اور جب ایران میں یہ مقصد حاصل ہو جائے تو تمام عالم کے مسلمانوں کو شیعہ بنایا جائے گا۔ 

اب سنی عوام کے سامنے سوائے ان تین راہ کے اور کوئی سبیل نہیں ہے:

1: مذہب شیعہ اثناء عشری قبول کر لیں یا اس کی مخالفت کریں۔ 

2: یا انکار کی صورت میں قتل ہو جائیں یا فرار ہو جائیں۔ 

3: یا ایران میں قیدی بن کر اپنی باقی زندگی گزاریں۔ ہم اس وقت اپنے تمام سنی بھائیوں سے جو آمریت پسند دنیا میں آباد ہیں درخواست کرتے ہیں کہ وہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کریں جو ان کے خلاف شیعوں کی جانب سے جاری ہے اور ایران میں ہمارا اقتصادی استحصال کیا جا رہا ہے، ہمارے عقائد اور دین کو خطرہ لاحق ہے، ہم کب تک ان مظالم اور زیادتیوں کو جو اسلام کے نام پر جاری ہیں برداشت کریں گے اور اس کا مقابلہ کریں گے؟ خمینی انقلاب کا مقصد یہ ہے کہ صفوی دورِ حکومت کو پھر دوبارہ واپس لایا جائے تا کہ مذہب حقہ اہلِ سنت کے افراد جو کہ بلوچستان میں ہیں ان کو مٹا دیا جائے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس انقلاب نے ان علاقوں میں اہلِ سنت کی تنظیموں کو نیست و نابود نہیں کر دیا ہے اور اہلِ سنت کے پیشواء علامہ احمد مفتی زادہ اور چار سو علماء اور نوجوانانِ اہلِ سنت شاہی قید خانہ اوین تہران میں مقید نہیں، واضح طور پر یہ ایرانی انقلاب سوویت یونین کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے تاکہ لادینیت اور لامذہبیت بلوچستان مکران اور کردستان میں پھیلائے اور مذہبِ اسلام کو ختم کرے خدا کی قسم ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ایرانی انقلاب کون سا اسلام لانا چاہتا ہے؟ 

جب کہ ہم اسلام کے نام پر قربان ہونے کے لیے تیار رہتے ہیں، ہم اسلام کے قطعی مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم شیعوں کے خلاف ہیں، جن کے تخریبی عقائد سے حقیقی اسلام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، ہم اشتراکیت کے خلاف ہیں اور ہم اس حدیثِ نبویﷺ کے مفہوم کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کے زبان و ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، ہم اختلاف نہیں چاہتے ہیں، اختلاف ایرانی حکام کی جانب سے شروع ہوا ہے اور ایرانی حکام ہی پہل کرنے والے ہیں اور پہل کرنے والے کو ظالم کہا جاتا ہے، ہم مظلوم ہیں ہم کوئی بیرونی طاقت کے لیے کام نہیں کر رہے نہ ہم کوئی سرمایہ دار ہی ہیں، ہم ہمیشہ حق کی حمایت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ظلم اور کفر نابود ہو جائے اور یہ لوگ کوئی چوری یا بغاوت کرنے والے کا تعاقب کرتے ہیں اور کوئی مسلمان بلوچ جب انہیں مل جاتا ہے یا نام میں کوئی مشابہت ہوتی ہے تو بغیر کسی تحقیق کے گولی مار کر ہلاک کر دیتے ہیں، اگر دشمنی کی بناء پر کوئی اپنے ہمسایوں پر غلط الزام عائد کر دیتا ہے تو یہ انقلابی گارڈ کے غنڈے تقریباً آدھی رات کو ان کے گھروں میں گھس جاتے ہیں اور عورتوں پر دست درازی کی کوشش کرتے ہیں یا ان کو کسی طرح خائف کرتے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کون سا اسلام ہے کہ بے سبب اور بے گناہ لوگوں پر ظلم کیا جائے، ان کے مال و اسباب اور ان کی نقدی پر قبضہ کیا جائے، اور بے گناہوں کو خائف کیا جائے اور انہیں بے دردی سے قتل کر دیا جائے۔


صفحہ 3 از 3