طائف کے گورنر
علی محمد الصلابیخامساً: طائف کے گورنر
طبری نے طائف کے ولاۃ کے نام نہیں بتائے، مگر اس سے وارد ایک روایت سے مستفاد ہوتا ہے کہ بنو حرب کے بعض افراد اس منصب پر فائز ہوئے، وہ روایت اس طرح سے ہے: جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بنو حرب میں سے کسی کو والی بنانا چاہتے تو اسے سب سے پہلے طائف کا والی مقرر کرتے، پھر اگر اس میں خیر اور اپنی پسند کا کوئی پہلو دیکھتے تو اسے مکہ کی ولایت بھی دے دیتے اور اگر اس میں مزید صلاحیت پاتے تو اسے ان دونوں شہروں کے ساتھ مدینہ منورہ کی ولایت بھی سونپ دیتے۔ جب وہ کسی کو طائف کا والی مقرر کرتے تو کہا جاتا: وہ آغاز کار میں ہے۔
( تاریخ طبری: مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 278)
جب اسے مکہ کا والی بناتے تو کہا جاتا ہے: وہ قرآن میں ہے، پھر جب اسے مدینہ منورہ کا والی بناتے تو کہا جاتا، وہ پختہ کار ہے۔
(انساب الاشراف: جلد 4 صفحہ 39۔ مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 279)
بنو حرب میں سے طائف کا والی کسے بنایا گیا تھا؟ تو طبری میں ان کے نام مذکور نہیں ہیں، مگر بلاذری کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ عنبسہ بن ابو سفیان بن حرب اور عتبہ بن ابوسفیان بن حرب رحھما اللہ کو طائف کی ولایت سونپی گئی تھی۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: 281 ،282)