تاریخ شاہد ہے کہ قریش مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے…

تاریخ شاہد ہے کہ قریش مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر لیا تھا اس بائیکاٹ کا عرصہ تین سال کا ہے ابوطالب تمام بنو ہاشم کو شعب ابی طالب میں لے گئے تھے یہ تین سال کا عرصہ بنی ہاشم نے نہایت عسرت اور کٹھن تکالیف سے گزارا ان تین سال کے عرصے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہاں تھے اگر یہ بزرگ مکہ میں تھے تو انہوں نے آنحضرتﷺ کا ساتھ کیوں نہ دیا اگر یہ بزرگ شعب ابی طالب میں حضور انور ﷺ کے ساتھ نہ جا سکے تو کسی وقت ان بزرگوں نے آب و دانہ میں سے حضرت محمدﷺ کی کوئی مدد کی ہو جب کہ کفار مکہ میں سے زہیر بن امیہ بن مغیرہ نے پانی کھانا پہنچانے اور عہد نامہ توڑنے پر دوستوں کو آمادہ کیا۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 4
یا پھر رہائی کے متعلق لکھتے ہیں بنوہاشم اور تمام مسلمان شعب ابی طالب سے تین سال کے بعد نکلے اور مکہ میں آ کر اپنے گھروں میں رہنے سہنے لگے شعب ابی طالب میں مسلمانوں کو بھوک سے بیتاب ہو کر اکثر درختوں کے پتے کھانے پڑتے تھے بعض بعض شخصوں کی حالت یہاں تک پہنچی کہ اگر کہیں سوکھا چمڑہ مل گیا تو اسی کو صاف اور نرم کر کے آگ پر رکھا اور بھون کر چبایا۔ (صفحہ: 104)
ظاہر ہے کہ تمام مسلمانوں میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمرؓ بھی ہیں وہ بھی شعب میں ساتھ گئے اور قید ہوئے امام اہلِ سنت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ نے خلفائے راشدینؓ (صفحہ، 30) میں مناقبِ صدیقی میں صراحتاً سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی حضورﷺ کے ساتھ گھاٹی میں قید و معیت کا ذکر کیا ہے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ از خود اس مصیبت میں شریک ہو گئے آپﷺ کے ساتھ وہ بھی شعب میں چلے گئے اور وہیں رہے جب آپﷺ کو خدا نے اس مصیبت سے نجات دی تو انہوں نے بھی نجات پائی ابو طالب نے اس واقعہ کو اس شعر میں یوں بیان کیا ہے۔
وهم رجعوا سهل بن بيضاء راضیا فسر ابوبکرؓ ومحمدﷺ بھا۔                 
انہوں نے جب سہل بن بیضاء کو (نقضِ معاہدہ پر) راضی کر کے بھیجا اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت محمدﷺ خوش ہو گئے اور یہ واقعہ علامہ بن عبد البر کی الاستیعاب میں بھی ہے۔
اس سے پتہ چلا کہ ابوطالب کے ہاں سیدنا ابوبکر صدیقؓ مؤمن اور مخلص جان نثار تھے تبھی تو دونوں کی خوشی کا اظہار کیا۔
غیر باشمی سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ فاتحِ ایران یعنی سعد بن مالک بن وہيب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب از عشرہ مبشرہ اور بنو ہاشم وہ لوگ ہیں جو وہب کے بھائی ہاشم کی اولاد سے ہیں۔
کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رات کو سوکھا ہوا چمڑہ ہاتھ آ گیا اسی کو پانی سے دھویا آگ پر بھونا اور پانی میں ملا کر کھایا۔ 
(رسول رحمت: صفحہ، 49، و روض الانف سہیلی بحوالہ سیرت النبی: جلد، 1 صفحہ، 245 حلية الاولیاء: جلد، 93 کے حوالے سے حیاۃ الصحابہ: حصہ دوم، صفحہ، 324 پر ہے۔
سیدنا سعدؓ فرماتے ہیں کہ ہم وہ لوگ ہیں کہ مکہ میں حضورﷺ کے ساتھ رہ کر ہم لوگوں کو اور خود حضورﷺ کو بھی تنگی معاش انتہا سے زیادہ پیش آئی جب ہم اس مشقت میں قید شعب کے موقعہ پر پڑ گئے تو ہم لوگوں کو اس فقر و فاقہ اور سختی جھیلنے کی عادت پڑگئی اور ہم لوگوں نے بڑے صبر و تحمل سے کام لیا اور میں نے آنحضرتﷺ کےساتھ مکہ میں رہتے ہوئے یہ بھی دیکھا کہ رات کی اندھیری میں پیشاب کے لیے اٹھا کچھ کھر کھراہٹ کی آواز آئی تو اسے غور سے دیکھا وہ اونٹ کی کھال کا ٹکڑا تھا اسے اٹھایا اور اسے دھویا اور پھر اسے جلایا اور اسے دو پتھروں سے پیس کر سفوف سا بنایا اور اسے پھانک کر پانی پی لیا اسی پر میں نے تین دن گزار دیئے۔
انتہائی متعصب شیعہ مؤرخ ملا باقر علی مجلسی بھی لکھتے ہیں۔
در تفسیر امام حسن عسکریؒ منقول است
 سیدنا حسن عسکریؒ کی تفسیر میں منقول ہے کہ:
کر چوں کفار قریش حضرت رسول را ملجا گردانیدند  کہ پناه بشعب ابی طالب برد و ایشان بردہن شعب جمعے رامؤ کل کردند کہ مانع شونداند آنکہ کہ بایشان آزوقه برساند و کاربر اصحاب آنحضرت بسیار تنگ شد و با نحضرت شکایت مے کردند ازکمی آزوقہ حضرت دعا کردتا حقیقتابے بہتر از من و سلویٰ بنی اسرائیل برائے ایشاں فرستاد و ہرچه هریک از ایشان آرزو میکرد از انواع طعامها و میوه ها و حلاوات و جامہا نزد ایشان حاضر میشد۔
(حیات القلوب: جلد، 2 صفحة، 311)
سیدنا حسن عسکریؒ کی تفسیر میں مذکور ہے کہ کہ جب کفار قریش نے حضورﷺ کو مجبور کر دیا کہ آپﷺ شعب ابی طالب میں پناہ لیں اور انہوں نے شعب کے دروازے پر ایک جماعت پہریدار مقرر کردی جو اس بات سے منع کریں کہ کوئی شخص شعب والوں تک خوراک پہنچائے آنحضرتﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ بنو باشم وغیرہ بنو ہاشم پر تنگی ہوگئی انہوں نے آپﷺ سے بھوک کی شکایت کی آپﷺ نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے من و سلویٰ سے بہتر ان کے لیے کھانا اتارا اور ان میں سے جو بھی جس قسم کے میوے کھانے میٹھی چیزیں اور کپڑوں کی تمنا کرتا انکے پاس وہ چیز پہنچ جاتی۔ 
اس شیعی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اصحابِ رسولﷺ شعب میں فقر و تنگی برداشت کرتے تھے اور باہر سے رسد و خوراک ہرگز نہیں پہنچ سکتی تھی کیونکہ کفار نے پہرہ لگا رکھا تھا بالفرض کوئی مسلمان کوشش کرتا تو بھی نا کام ہوتا مسلمانوں کے ساتھ خرید و فروخت بھی ممنوع تھی۔
امرِ سوم کے متعلق کہ روضة الصفاء: جلد، 2 صفحہ، 49) میں بھی یوں تفصیل لکھی ہے:
کہ شعب میں مسلمانوں کے داخلے کے بعد ان پر بڑی مصیبت آگئی اگر اہلِ اسلام میں سے کوئی ایک بھی اس جگہ سے قدم باہر نکالتا کفار اشرارً اسے خوب تکلیف پہنچاتے اور کسی قیدی کو مجال نہ تھی کہ موسم حج و عمرے کے علاوہ اس جگہ سے باہر قدم رکھیں اور موسمِ حج میں بھی ابوجہل، نضر بن حارث، عاص بن وائل، عقبہ بن ابی محیط اور ان جیسے سنگ دل مشرکین نے راستوں پر کھڑے ہو کر ان لوگوں سے کہتے جو اشیاءِ خوردنی بیچنے کے لیے کہ لاتے کہ جو کوئی تم میں سے محمدﷺ اور اس کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاتھ کچھ فروخت کرے گا اس کا مال و اسباب برباد کر دیا جائے گا اور اگر کبھی موسم زیارت و طواف میں دیکھتے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص خریداری کر رہا ہے تو وہ اس پر دام بڑھا دیتے حتیٰ کہ مسلمان بیچارہ مایوس ہو جاتا تھا۔
اب انصاف سے آپ ہی بتائیں کہ ان حالات میں کوئی مسلمان کس طرح یہ قدرت پاسکتا تھا کہ وہ کوئی چیز خرید کر حضورﷺ تک پہنچائے اور کفار کی گرفت سے بچ نکلے اب دو ہی صورتیں تھیں یا تو ہر قسم کے کفریہ کام سر انجام دے جیسے سوال میں مذکور ہے یا پھر چوری چھپے کا کا راستہ تھا بھلا نفی عمل ہم تک روایت ہو کر کیسے پہنچ سکتا تھا۔ 
صفحہ 2 از 4