حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بقول اہل سنت رسول اللہﷺ…

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال بقول اہل سنت رسول اللہﷺ کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہوا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال یا اڑھائی برس رسول خداﷺ کے بعد ہوا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے 26 ذی الحجہ 24ھ کو انتقال فرمایا تو کیا وجہ تھی کہ دونوں بزرگوں کو جو نبی اکرمﷺ کے بعد کافی عرصہ کے بعد انتقال کرتے ہیں۔ روضہ رسولﷺ میں دفن ہونے کے لئے جگہ مل گئی اور رسول خداﷺ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ ئ مادر حضرت حسنین رضی اللہ عنہما کو باپ کے پاس قبر کی جگہ نہ مل سکی کیا خود حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا نے باپ سے علیحدگی قبر کی وصیت کی تھی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حکومت وقت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا یا مسلمانوں نے بضعئہ رسولﷺ کو قبر رسولﷺ کے پاس دفن نہ ہونے دیا فاعتبروا یاولی الابصار۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 12
ترجمہ: اور یہیں سے شیعہ کے وہ ہفوات پادرِ ہوا ہو جاتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو تو وفات سیدہ فاطمہؓ و جنازہ کی اطلاع نہ دی گئی تھی یہ کیسے ممکن ہے خاتونِ جنت کی وفات و جنازہ ہو اور لوگوں کو پتہ نہ چلے بیوی غسل و تکفین تک کی خِدمت سر انجام دیں اور خلیفتہ المسلمین خاوند بے خبر ہو۔ دراصل اس قِسم کے باطِل نظریات سے یہ مفاد پرست ٹولہ اہلِ بیتِ نبوی کی عزت و توقیر کو خاک میں ملاتا ہے ورنہ ہمارے نزدیک جنازہ چوری چھپے نہ تھا جیسے قاتل اپنے مقتولوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کثیر تعداد شریک تھی ہاں جنازہ کِس نے پڑھایا؟ اس میں روایات مختلف ہیں ایک روایت میں آپؓ کے خاوند حضرت علیؓ کا نام ہے ایک میں حضورﷺ کے چچا حضرت عباسؓ کا ہے ایک میں آپؓ کے نانا حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہے کوئی بھی ہو ہر ایک بزرگ اور مستحق تھا کیا ہی خوش قِسمت جنازہ تھا اور کیا خوش بخت جنازہ پڑھنے والے تھے صلوات اللہ علیٰ نبیہم و علیهم اجمعین۔
شیعہ عالم نجم الحسن کراروی آپؓ کی وفات کے سلسلے میں لکھتے ہیں: جب رات ہوئی تو سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو غسل دیا اور کفن پہنایا نماز پڑھی اور جنتُ البقیع میں لے جا کر دفن کر دیا ایک روایت میں ہے کہ آپؓ کو منبر اور قبرِ رسولﷺ کے درمیان دفن کیا گیا۔ 
(چودہ ستارے: صفحہ، 252)
روایتِ ثانی پر تو اعتراض بنانے کی حاجت نہیں رہی روایتِ اولیٰ پر ظاہر ہے کہ سیدنا علیؓ نے یہ سب کام وصیّت کے مطابق کیے اگر حجرہ سیدہ عائشہؓ میں دفن کی وصیّت ہوتی تو آپؓ ایسا ہی کرتے اس اقتباس میں سیدنا علیؓ کے غسل دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپؓ پانی لانے بہانے میں معاون تھے ہاتھوں سے غسل سیدہ اسماءؓ زوجہ سیدنا ابوبکرؓ دے رہی تھیں۔
مدفنِ سیدہ فاطمہؓ میں شیعہ کا اختلاف:
اہلِ سنت کے برعکس مدفنِ سیدہ فاطمہؓ میں شیعی روایات مختلف ہیں ایک روایت میں جنتُ البقیع ہے جو دنیا کے سب قبرستانوں سے افضل ہے اور جہاں دس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین امہات المؤمنینؓ بناتِ رسولﷺ اور آپﷺ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیمؓ مدفون ہیں یہی روایت سب سے اصح اور اہلِ سنت کا مذہبِ قوی ہے مستند علماء شیعہ بھی یہی کہتے ہیں جیسے کراروی صاحِب کا حوالہ گزرا جنتُ البقیع میں آپؓ کی اور سیدنا حسنؓ سیدنا عباسؓ بن عبد المطلب سیدنا زین العابدینؓ سیدنا باقرؒ و سیدنا جعفرؒ کی قبور صحیح سالم ایک گول احاطے میں ہیں ایران کے بڑے بڑے فاضِل شیعہ کو راقم نے وہاں صلاۃ و سلام پڑھتے دیکھا ہے۔
دوسرا مقام بیتِ سیدہ فاطمہؓ ہے جو مسجدِ نبویﷺ کے بالکل قریب تھا اور دروازہ مسجد میں کھلتا تھا تیسرا مقام آپﷺ‎ کی قبر اور منبر کے درمیان روضة من ریاض الجنہ میں ہے یہ دونوں مقام اب مسجدِ نبوی میں شامل ہیں یہاں بھی احتیاطاً صلاة و سلام پڑھ لینا چاہئے۔
اب شیعہ روایات ملاحظہ کریں:
1: ثم قال علیؓ یا اسماءؓ اغسيلها وخطيها وكفنيها قال فغسلوها و كفنوها و حنطوها وصلوا عليها ليلا و دفنوها بالبقيع وماتت بعد العصر قال ابن بابويه جاء هذا الخبر هكذا والصحيح عندى انها دفنت فی بيتها فلما زاد بنوامية فی المسجد صارت فی المسجد۔
(كشف الغمہ: صفحہ، 149) 
ترجمہ: پھر سیدنا علیؓ نے سیدہ اسماءؓ سے کہا سیدہ فاطمہؓ کو غسل دے خوشبو لگا اور کفن پہنا راوی کہتا ہے غسل دیا کفن پہنایا اور خوشبو لگائی اور رات كو سب نے جنازہ پڑھا اور جنتُ البقیع میں دفن کیا آپؓ عصر کے بعد فوت ہوئی تھیں ابنِ بابویہ کہتے ہیں یہ حدیث اسی طرح نقل ہو کر آئی ہے میرے ہاں صحیح یہ ہے کہ آپؓ اپنے گھر میں دفن کی گئیں جب بنو امیہ نے مسجد میں اضافہ کیا تو یہ حصہ مسجد میں آگیا۔ 
2: واما موضع قبرها فاختلف فیہ قال بعض اصحابنا انها دفنت بالبقیع و قال بعضهم انها دفنت فی بيتها و قال بعضهم انها دفنت فيما بين القبر والمنبر۔
(اعلام الورىٰ: صفحہ، 159 بحوالہ كشف الاسرار: صفحہ، 26)
ترجمہ: آپؓ کی جائے قبر میں اختلاف ہے بعض حضرات کہتے ہیں جنتُ البقیع میں دفن ہوئیں بعض کہتے ہیں اپنے گھر میں دفن ہوئیں اور بعض کہتے ہیں کہ قبرِ نبوی اور منبر کے درمیان دفن ہوئیں جو جنت کا ٹکڑا ہے۔
پھر مصنف کہتے ہیں پہلا قول بعید ہے اور دوسرے دو اقرب الی الصواب ہیں۔
اس روایت کی رو سے اگر آپؓ واقعی اپنے گھر یا مسجدِ نبوی کے حِصّے روضة من ریاض الجنتہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں مدفون ہوئیں تو پھر عز و شرف کا کیا کہنا؟ یہاں تدفین کسی صورت میں مخفی نہ ہو سکتی تھی یہ مسلمانوں کی خلافت کا ہیڈ کوارٹر تھا ہر وقت سینکڑوں مسلمان نمازِ پنجگانہ۔ نوافل، صلاۃ و سلام کے لیے شب و روز موجود رہتے تھے اصحابِ صفّہ کی رہائش گاہ یہی تھی اگر یہ مزاحمت کرتے تو تدفین کیسے ہو سکتی تھی ان روایات اور اس مدفن کے پیشِ نظر خفیہ تدفین کا افسانہ، خلیفہؓ اور مسلمانوں پر حضرت فاطمہؓ کی ناراضی کے وضعی قِصّے اور اس قسم کے تمام شیعی شبہات خود بخود دفن ہو جاتے ہیں۔
روضہ پاکﷺ میں دفن نہ کرنے کی وجہ:
 یہاں تک تو حضرت فاطمہؓ کے دفن کا بیان ہوا کہ خود ان کی وصیت کے مطابق متبرک مقام پر تدفین ہوئی۔ اب رہا یہ امر کہ مسلمانوں نے روضہ رسولﷺ میں کیوں دفن نہ کیا تو وضاحت یہ ہے کہ ایک تو وصیت کے خلاف ہوتا دوم یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا حجرہ قبرستان نہ تھا نہ جائے وقف تھی وہ تو بنص قرآنی: وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ الخ (سورة الاحزاب: آیت، 34)
ترجمہ: اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو 
صفحہ 2 از 12