دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور…

دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وعدہ نصرت کیوں نہ فرمایا کیا یہ دونوں بزرگ دعوت ذوالعشیرہ میں شامل تھے اگر شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 3
جواب: شیعہ بیچارے کتنے لاوارث اور دلائل سے یتیم ہوتے ہیں اور انتہائی نکمے قسم کے تاریخی افسانے ان کے براہین کا شاہکار ہوتے ہیں یہ واقعہ ایک تاریخی موضوع روایت ہے احادیث کا متفقۃ الطرفین یا مستند واقعہ نہیں اس کی حقیقت درجِ ذیل ہے۔
علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں: یہ روایت نہ سنن میں ہے نہ مغازی میں نہ مسانید میں ہے یہ موضوع بات ہے بنی عبد المطلب کی تعداد نزولِ آیت کے وقت چالیس نہ تھی آپ کی زندگی میں بھی وہ اس تعداد کو نہ پہنچ سکے۔
(المنتقیٰ: صفحہ، 6841 من المنہاج)
اس کے واضعِ کا نام عبدالغفار بن قاسم ابو مریم کوفی ہے جو رافضی تھا شیعہ کی اکثر تصانیف میں اس کا ذکر ملتا ہے مامقانی نے بھی: تنقیح المقال: جلد، 2 صفحہ، 158 اس پر اسکا ذکر کیا ہے ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں یہ اجماعاً متروک راوی ہے ابنِ مدینی فرماتے ہیں کہ یہ حدیثیں وضع کیا کرتا تھا نسائی اور حاتم نے اسے متروک الحدیث قرار دیا ہے امام احمدؒ فرماتے ہیں اس کی اکثر روایات باطل ہوا کرتی تھیں سماک بن حربؒ اور ابو داؤدؒ نے اسے کاذِب اور ابنِ حبانؒ نے اسے شرابی قرار دیا ہے۔(حاشیہ المنتقیٰ)
روایتی جرح کے بعد اب درایت کے لحاظ سے اب اسکی حقیقت ملاحظہ ہو:
جب آیت: وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ۞ (سورۃ الشعراء: آیت، 214)
ترجمہ: آپ اپنے قریب ترین رشتہ داروں دودھیال کو ڈرائیے،نازل ہوئی تو حضور اکرمﷺ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ عبدالمطلب کی تمام اولاد کو بلا لاؤ تاکہ میں انہیں تبلیغ کروں، آپ بلا لائے تھے وہ چالیس آدمی تھے ان میں آپﷺ کے چچا ابو طالب، سیدنا حمزہؓ، سیدنا عباسؓ وغیرہم بھی تھے پہلے دن دعوت کھلا چکنے کے بعد بات نہ ہو سکی دوسرے دن اسی طرح دعوت کھلا کر فرمایا اے عبد المطلب کی اولاد میں تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لایا ہوں اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم کو دعوت الی اللہ دوں اس بات پر کون تم میں میری مدد کرے گا جب کہ وہی میرا بھائی وصی اور تم میں میرا جانشین ہوگا سب قوم خاموش رہی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بولے اے اللہ کے نبی میں آپ کا مددگار رہوں گا حالانکہ میں سب سے چھوٹا ہوں باریک آنکھوں والا چھوٹی پنڈلیوں والا بڑے پیٹ والا تھا آپ نے میری گردن پکڑ کر فرمایا یہ میرا دینی بھائی اور وصی اور تمہارے اندر میرا جانشین ہے تم اس کی بات سنو اور فرمانبرداری کرو اس کے بعد لوگ اٹھ کر چلے گئے اور ابو طالب سے مذاقاً کہنے لگے کہ تمہیں محمد نے بیٹے کی اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیا ہے دوسری روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا اے بنو عبدالمطلب میں تمہاری طرف خصوصیت سے اور دیگر لوگوں کی طرف عموماً نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں تم میرا دعویٰ اور عزم دیکھ چکے ہو تم میں سے کون اس شرط پر میری بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی ساتھی اور وارث بنے آپ نے تین مرتبہ یہ فقرہ دہرایا جب کوئی نہ اٹھا تو میں سب سے چھوٹا تھا اٹھا تو آپ نے فرمایا بیٹھ جا تیسری مرتبہ میں نے بیعت کی بس اسی وجہ سے میں چچا کے بیٹے کا وارثِ علمی ہوں اور چچا کا نہیں ہوں۔
(تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 320، 321 بلفظہٖ کتبِ شیعہ میں سے حیات القلوب جلد 2 صفحہ 279، 278 پر اس سے مفصلاً بیان کیا گیا ہے) 
اور شیعی تفسیر مجمع البیان و تفسیر قمی میں بھی ہے کہ یہ دعوت تین دن تک ہوتی رہی بنو عبدالمطلب برادری سے کسی نے حامی نہ بھری تو تیسرے دن سیدنا علیؓ نے اس پر لبیک کہی حالانکہ آپ صغیر سنی تھے ابو لہب مذاق اڑاتا تھا غالباً دیگر حاضرین نے حلیفتی فی اہلی میرے گھر والوں میں میرا جانشین ہوگا کہ منصب کو اپنے شیانِ شان نہ جانا اور خاموش رہے یہی وہ واقعہ ہے جس پر اعتراض کی بنیاد ہے اس قطعِ نظر کی یہ ایک لچر روایت ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کا حلیہ و تعارف بھی مکروہ بتایا گیا ہے اور اس سے بھی قطعِ نظر کے آغازِ دعوتِ اسلام سے ہی جبکہ قریبی برادری بھی مسلمان نہ ہوئی تھی آپﷺ کو اپنے وصی اور خلیفہ کا فکر کیوں دامن گیر ہو گیا تھا اس وقت صرف آپ مامور بالدعوت الی الاسلام تھے مستقبل دینوی کے قطعی انجام سے واقف نہ تھے جیسے ارشادِ ربانی کے ذریعے آپﷺ سے یوں اعلان کرایا جاتا تھا:
قُلۡ مَا كُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَاۤ اَدۡرِىۡ مَا يُفۡعَلُ بِىۡ وَلَا بِكُمۡؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ الخ۔ (سورۃ الاحقاف: آیت، 9)
ترجمہ: فرمائیے میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں انجامِ دنیوی نہیں جانتا کہ تمہارے میرے ساتھ کیا کچھ کیا جائے گا میں تو صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں۔
اور اس سے بھی قطغ نظر کہ آیت وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ کے تحت آپﷺ رشتہ داروں کو خدا کی نافرمانی اور عذاب سے ڈرانے کے ہی مکلّف تھے اعلانِ خلیفہ کا تصور و شائبہ بھی آیت میں نہیں ہے۔
روایت سے ثابت چھ باتیں شیعہ کے خلاف ہیں:
اس قصہ سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
1: یہ صرف اپنی برادری بنو عبدالمطلب کو دعوت تھی غیر بنو عبدالمطلب سیدنا ابوبکر تیمیؓ اور سیدنا عمر عدویؓ کو بلانے کا سوال ہی نہ تھا تو اعتراض ہی لغو ثابت ہوا سیدنا ابوبکر صدیقؓ تین سال قبل آغازِ نبوت پر ہی ایمان لا چکے تھے اور آپﷺ کے معاون و دستِ راست بن کر دسیوں معزز افراد جیسے سیدنا عثمانؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا زبیرؓ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ وغیرہ کوحلقہ بگوش اسلام کرا چکے تھے۔
(تاریخ طبری: جلد 2 صفحہ310 وغیرہ)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گو اس واقعہ کے تین سال بعد مشرف با اسلام ہوئے مگر ان کے اسلام پر مسلمانوں کو بڑی تقویت پہنچی اور اشاعتِ اسلام بڑی تیز ہو گئی جیسے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ جیسے قدیم الاسلام اور فاضل صحابی کی شہادت اور حوالہ جات سابقہ مذکور ہو چکے ہیں۔
صفحہ 1 از 3