دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور…

دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وعدہ نصرت کیوں نہ فرمایا کیا یہ دونوں بزرگ دعوت ذوالعشیرہ میں شامل تھے اگر شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3
2: بنو ہاشم اور عبدالمطلب میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سوا کسِی نے بھی اسلام اور حمایتِ پیغمبرﷺ کا اعلان نہیں کیا اور یہیں سے معلوم ہو چکا کہ سابقون الاولون ایک دو فرد کے ماسوا بنو عبدالمطلب اور ہاشمی حضرات نہیں یہ شرف اللہ نے غیروں کو ہی عطا فرمایا ہے اور اس میں بھی خدا کی بہت بڑی حکمت اور صداقت نبوت پر عظیم عقلی دلیل ہے کے برادری اور قریبی لوگ مخالفت کرتے ہیں مگر اغیار حضورﷺ کے قدموں میں آ گرتے ہیں اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔
جبکہ ان کو صاف نظر آ رہا ہے آپﷺ کو پیغمبر ماننا دنیوی وقار کے بر خلاف ایک درِ یتیم کو اپنا آقا و سردار بھی ماننا ہے اگر دعویٰ نبوت سیاسی سطح پر یا دنیوی عزت (العیاذ باللہ) کی خاطر ہوتا تو سب سے پہلے آپﷺ کی قوم لبیک کہتی اس سے ان کا وقار بلند ہوتا اور غیر خود کو آپﷺ کی غلامی میں دینے سے گریز کرتے۔
اس سے جنابِ ابو طالب والد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا بھی مؤمن اور مسلمان نہ ہونا اظہر من الشمس ہو گیا اگر شیعہ خیال کے مطابق آپ مومن اور مسلمان ہوتے تو ضرور اسلام اور وزارت پیغمبر کا اعلان کرتے حضرت حمزہؓ اور حضرت عباسؓ کے خلاف بعد میں بھی آپ سے کلمہ پڑھنا یا رائج دین قریش سے تبرا کرنا بھی ثابت نہیں 
اس قصے سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ نے تیسرے سال اسلام و ایمان کا اقرار اور اظہار کیا اس لحاظ سے تو آپؓ سابق الاسلام ثابت نہ ہوئے دوسرے حضرات ہی ہوئے۔
(البخاری: جلد٬ 1 صفحہ٬ 516)
حضرت عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں:
رءیت رسول اللہﷺ وما معہ الا خمسۃ اعبد و امرأتان وابو بکرؓ۔
ترجمہ: میں نے آغاز اسلام میں آپﷺ کے ساتھ دیکھا آپﷺ کے ساتھ پانچ غلاموں دو عورتوں اور ابوبکرؓ سوا کوئی مومن نہ تھا۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پہلے ہی ماہ میں ایمان لانے کا ذکر شیعہ کتب میں بھی ہے یہ ماہ کی بھی روایت میں ایک تعبیر ہے ورنہ آپؓ پہلے ہی دن گویا حضرت خدیجہؓ کے بعد مسلمان ہو گئے تھے۔
(شعیہ کتاب اعلام الوٰری: صفحہ، 50، 51 میں ہے)
حضرت طلحہٰ بن عبید اللہؓ بصرہ گئے ہوئے تھے ایک راہب نے پوچھا کیا کوئی مکہ کا آدمی تم میں ہے میں نے کہا میں ہوں اس نے کہا احمد ظاہر ہو گیا ہے میں نے کہا احمد کون ہے راہب نے کہا احمد بن عبداللہ بن عبد المطلب نے اس ماہ میں نبوت کا دعویٰ کرنا ہے وہ آخری پیغمبر ہے حرم سے نمودار ہوگا کھجوروں کی جگہ (مدینہ) ہجرت کر کے جائے گا تو فوراً اس کی خدمت میں جا حضرت طلحہٰؓ فرماتے ہیں میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی جلدی سے مکہ آ پہنچا پوچھا کیا نئی بات ہوئی لوگوں نے کہا: 
نعم محمد بن عبد اللہ الامین تنبا وقد تبعہ ابن ابی قحافہ قال فخرجت حتیٰ دخلت علی ابی بکرؓ فقلت اتبعت ھذا الرجل قال نعم فانطلق الیہ و ادخل علیہفاتبعہ فانہ یدعوا الی الحق۔
(بحوالہ کشف الاسرار)
ترجمہ: ہاں محمد بن عبد اللہ الامین نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ابوبکرؓ نے آپﷺ کی پیروی کرلی ہےطلحہٰؓ فرماتے ہیں میں وہاں سے نکلا حضرت ابو بکرؓ کے پاس آ کر پوچھا کیا آپ نے اس شخص کی پیروی کر لی؟ فرمایا ہاں تو بھی اس کے پاس جا اور تابعداری کر لے کیونکہ وہ صرف حق کی طرف بلاتے ہیں۔
پھر سیدنا طلحہٰؓ نے راہب کا قصہ سنایا حضرت ابوبکرؓ سیدنا طلحہٰؓ کو حضورﷺ کی خدمت میں لے آئے وہ مسلمان ہوگئے اور راہب کی بات سنائی جب سیدنا طلحہٰؓ بھی حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مسلمان ہو گئے تو نوفل بن خویلد قریشی شیر ان کو مارتا تھا۔
5: اس خلافت اور وزارت کا مقصد خلیفتی فیلم یعنی بنو عبدالمطلب پر نگرانی اور خاندانی و گھریلو امور کے انتظام کو سر انجام دینا ہے تاکہ حضورﷺ فارغ البالی سے منصبِ نبوت کا فریضہ ادا کریں قید و بند موت کی صورت میں اہل و عیال کی زمہ داری اور لین دین کے تفکرات سے آزاد ہوں اسے خلافتِ کبریٰ اور تمام امت کی قیادت سے واسطہ نہیں کیونکہ نہ اس کی ضرورت تھی نہ چند نفوس کے سوا امت کی وسعت کے انتظام کا مسئلہ درپیش تھا یہی وجہ ہے کہ حضرت علیؓ تمام خاندان سے آپﷺ کو عزیز اور پر اعتماد ہیں گھر کے فرد اور خانگی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں قرضہ جات اور کفار کی امانتوں کا لین دین بھی بامر نبوی کرتے ہیں لیکن حضورﷺ کے ساتھ دعوتی و تبلیغی میدان میں ہمہ وقت ساتھ ہیں نہ تقریر و تائید کرتے نظر آتے ہیں نہ کفار کی طرف سے آپ کو زردکوب کیا جاتا ہے اس کے برعکس ایک اور شخصیت سایہ کی طرح آپﷺ کی ہمدم و ساتھی ہے حضورﷺ کے ساتھ تقریر و تبلیغ بھی کر رہے ہیں کفار کا آپ سے دفاع بھی کر رہے ہیں مار کھا کھا کر لہولہان بھی ہو رہے ہیں بے ہوش بھی ہوتے ہیں
سخت گرمی اور دوپہر میں آرام کے لیے حضورﷺ کو اپنے گھر لے جاتے ہیں یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جن کی تربیت خلیفتی فی اہلی کے تحت نہیں بلکہ خلیفہ و مقتدا برائے جمیع امت کے لحاظ سے ہو رہی ہے کہ ان کے متعلق یہ فرما کر رخصت ہونا ہے۔ 
فاقتدوا بالذين من بعدى ابى بکرؓ و عمرؓ۔ (ترمذی) 
ترجمہ: میرے بعد دو شخصوں کی پیروی کرنا ابوبکرؓ کی اور پھر عمرؓ کی۔
6: اس سے یہ بھی معلوم ہو کہ انبیاء علیہم السلام کی میراث علمی ہوتی ہے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اس کے وارث ہیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا صاف فرمانا کہ میں اپنے چچا کا وارث نہیں حالانکہ وہ اقرب رشتہ ہے اور چچا کے بیٹے کا وارث ہوں اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے
الحاصل، دعوت ذوالعشیرہ کا یہ قصہ اگر ثابت ہے تو چشمِ ماروشن دل ما شاد شیعہ حضرات وسعت ظرفی سے اس سے ثابت درج بالاستہ امور پر بھی ایمان لائیں سنی شیده نزاع ختم ہو جائے گا۔
معترض کا یہ کہنا اگر دونوں بزرگ شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہﷺ کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں۔ روح اسلام سے ناواقفی اور جہالت پر مبنی ہے اسلام میں قرابت نبوی فی نفسها کا باعث فضیلت نہیں، بلکہ اتباعِ پیغمبرﷺ کے ذریعہ سے ہے رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّ اَوۡلَى النَّاسِ بِاِبۡرٰهِيۡمَ لَـلَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَاللّٰهُ وَلِىُّ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞
(سورۃ آلِ عمران: آیت، 68)
صفحہ 2 از 3