دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور…

دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وعدہ نصرت کیوں نہ فرمایا کیا یہ دونوں بزرگ دعوت ذوالعشیرہ میں شامل تھے اگر شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں؟

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 3
ترجمہ: بے شک سب لوگوں سے زیادہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریبی اور سگے وہ لوگ ہیں جو آپ کے پیرو کار تھے۔ اور اب یہ نبی اور مؤمنین اصحاب اللہ ایسے مؤمنوں کا مددگار و سر پرست ہے۔
مشرکین قریش اور یہود و نصاریٰ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل اور آل میں سے ہونے کی وجہ سے قرابت کا دعویٰ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا رد فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قریبی وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی اپنے اپنے وقت میں کی اور ہمارے پیغمبرﷺ بھی متبع ہونے کی حیثیت سے آپﷺ کے قریبی ہیں، اور اس پر ایمان لانے والے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ و سیدنا علیؓ سیدنا ابو ذرؓ سیدنا عمارؓ سیدنا بلالؓ، سیدنا صہیبؓ، سیدنا خبابؓ محض متبع ہونے کی حیثیت سے قریبی ہیں، اور ابولہب، عتبہ، شیبہ ابوجہل وغیرہ نافرمانی کی وجہ سے ابراہیمی نسل اور سادات میں سے ہونے کے باوجود ہرگز قریبی نہیں۔ 
نہج البلاغہ میں سیدنا علیؓ کا ارشاد ایمان ساز ہے۔
ان ولی محمد من اطاع اللہ و رسولہ و ان بعدت لحمته وان عدد محمد من عصى الله ورسوله وان قربت قربته۔
 ترجمہ: حضرت محمدﷺ کے قریبی دوست وہ ہیں جو اللہ و رسولﷺ کے فرمانبردار ہوں اگرچہ خونی رشتہ دار ہو اور حضرت محمدﷺ کے دشمن وہ ہیں جو اللہ و رسولﷺ کے نافرمان ہوں اگرچہ رشتہ قریبی ہو۔
بلا شبہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قریبی بھی ہیں مؤمن و متبع بھی سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ حسباً کچھ دور کے رشتہ دار سہی مگر نسبتی رشتہ داری میں خسر ہونا بہ نسبتِ داماد ہونے کے زیادہ اعزاز رکھتا ھے کیونکہ خسر دینے والا اور خرچ کرنے والا ہے، داماد لینے والا اور اپنے اوپر خرچ کروانے والا ہے۔
اس سے قطعِ نظر اصولِ بالا کی رو سے سیدنا علیؓ اور شیخینؓ کے ایمان، اتباع، ایثار بر پیغمبر نشرِ اسلام جانشینی میں امت کو افادہ وغیرہ امور میں موازنہ نہ کیا جائے گا جو ان امور میں بڑھے گا وہی آپﷺ کا قریب ترین رشتہ دار سمجھا جائے گاـ
اہلِ سنت کی تحقیق و عقیدہ میں جب حضراتِ شیخینؓ امورِ مذکورہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ہیں تو اصولِ بالا کی رو سے وہی سب سے افضل اور پیغمبرﷺ کے قریب ترین رشتے دار سمجھیں جائیں گے اس مسئلہ کی وضاحت سوال نمبر 4 میں اور کاملِ تفصیل سوال نمبر 20 کے تحت ان شاءاللہ آئے گی ـ

صفحہ 3 از 3